• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی پولیس نے پی ٹی آئی طالب علم رہنما کی بےدخلی میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کر لی

فوٹو: نمائندہ جنگ
فوٹو: نمائندہ جنگ 

ٹیمز ویلی پولیس نے سلاؤ میں پی ٹی آئی کے طلبہ ونگ کے برطانیہ میں رہنما کو ایک جائیداد سے بے دخل کرنے کے معاملے میں اپنے طرزِ عمل پر باضابطہ معذرت کی ہے۔

پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ اہلکار ان دستاویزات پر مناسب طور پر غور کرنے میں ناکام رہے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ مذکورہ شخص قانونی طور پر بطور کرایہ دار اس جائیداد میں رہائش پذیر تھا۔

تحریری معذرت میں مغربی لندن کے علاقے سلاؤ کی تھیمز ویلی پولیس نے تسلیم کیا کہ کینیڈا روڈ، سلاؤ سے معاذ احسن، جو عام طور پر معاذ ملک کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی بے دخلی کے معاملے سے نمٹتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے غلطی ہوئی۔

معاذ احسن کی بے دخلی کی ویڈیو فلمائے جانے اور میڈیا میں گردش کرنے کے بعد وائرل ہو گئی تھی، جس میں متعدد الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

اپنی شکایت میں پی ٹی آئی کے طلبہ ونگ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو ایسی معلومات اور دستاویزات دکھائی گئی تھیں جن سے ان کا بطور کرایہ دار قانونی حیثیت میں رہنا ثابت ہوتا تھا، لیکن اہلکاروں نے ان دستاویزات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا اور جائیداد کے مالک کی جانب سے انہیں گمراہ اور غلط معلومات فراہم کی گئیں۔

پولیس نے اپنے خط میں تسلیم کیا کہ اہلکاروں کو فراہم کی گئی وہ دستاویزات، جن سے شکایت کنندہ کی بطور کرایہ دار حیثیت ثابت ہوتی تھی، اس وقت مناسب طور پر زیرِ غور نہیں لائی گئیں۔

ٹیمز ویلی پولیس کے معذرتی خط میں مزید کہا گیا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک غلطی تھی اور اہلکار آپ کے حالات کو مناسب حد تک مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہے، ٹیمز ویلی پولیس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس واقعے کے نتیجے میں کرایہ دار اپنے گھر تک رسائی سے محروم ہو گیا، اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اس کے خدشات کو مناسب طور پر سننے یا ان پر کارروائی نہ کرنے سے جو ذہنی اذیت پیدا ہوئی، اسے بھی تسلیم کیا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ فورس عوام سے منصفانہ، احترام اور ہمدردی کے ساتھ پیش آنے کے اپنے عہد سمیت، اس سے متوقع معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہی، انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اسباق پولیس اہلکاروں تک پہنچائے جائیں گے۔

پولیس کے مطابق ان غلطیوں کو اہلکاروں کی تربیت اور تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ ان کی سمجھ بوجھ بہتر ہو اور مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

پولیس فورس نے شکایت کا ازالہ کرنے میں لگنے والے طویل عرصے پر بھی معذرت کی اور تسلیم کیا کہ اصل واقعے کے بعد ’’خاصا طویل عرصہ‘‘ گزر چکا تھا، یہ معذرت معاذ ملک اور ان کے مکان مالک کے درمیان ایک تلخ اور طویل تنازع کے بعد سامنے آئی ہے، جو تقریباً چھ ماہ قبل اس وقت منظرِ عام پر آیا جب غیر ادا شدہ کرایے، معاہدے کی ذمہ داریوں اور جائیداد میں تزئین و آرائش کے کام سے متعلق ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات سامنے آئے۔

مکان مالک نے الزام عائد کیا تھا کہ معاذ ملک نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک کرایہ ادا نہیں کیا اور معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، ملک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ متنازعہ مدت کے دوران کرایہ ادا نہیں کیا گیا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ مکان مالک کی جانب سے جائیداد کے اندر بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کا کام شروع کیے جانے کے بعد انہوں نے کرایے کی ادائیگی روک دی تھی۔

ان کے مطابق اس تعمیراتی کام کی وجہ سے وہ جائیداد میں کرایہ داروں کو رکھنے اور ان سے کرایہ وصول کرنے کے قابل نہیں رہے، جبکہ ان کا مؤقف تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی دراصل مکان مالک نے کی تھی۔

تنازع سے متعلق دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے تعلقات کرایہ داری کے آخری عرصے میں خراب ہونے سے قبل ملک تقریباً پانچ سال تک اس جائیداد میں مقیم رہے تھے۔

یہ تنازع مقامی کونسل تک بھی پہنچا، جہاں معاملے پر غور کیا گیا، جس کے بعد مکان مالک نے پولیس سے رابطہ کیا، بالآخر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں معاذ ملک کو جائیداد سے نکال دیا گیا، اور اس واقعے کی ویڈیو بعد میں عوامی سطح پر گردش کرنے لگی۔

برطانیہ و یورپ سے مزید