آج میں آپ کو ایسی کہانی سنانے جارہا ہوں جسے پڑھ کر اور سن کر آپ شش و پنج میں پڑ جائیں گے۔ آپ سوچتے رہ جائیں گے کہ یہ کہانی آپ پہلے بھی سن اور پڑھ چکے ہیں، مگر کب اور کہاں، آپ نے یہ کہانی پڑھی اور سنی ہے، آپ سوچتے رہ جائیں گے، سچ بات میں آپ کو بتا دیتا ہوں، اول تو آپ میرے قلم سے اور میرے منہ سے سچ بات پڑھنے اور سننے کی توقع نہیں کرسکتے، میں نے کبھی سچ بولا ہے اور نہ کبھی سچ لکھا ہے جو کہانی میں آپ کو سنانے جارہا ہوں، وہ کہانی پہلے آپ نے نہ کبھی سنی ہے اور نہ کبھی کہیں پڑھی ہے۔
بات کچھ اس طرح ہے کہ سب کہانیاں جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، یہ کہانی آپ پہلی مرتبہ پڑھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں، اس سے پہلے یہ کہانی آپ نے نہ سنی ہے اور نہ کہیں پڑھی ہے، کہانی پڑھنے کے بعد فیصلہ کیجئے گا کہ کہانی مسلسل جھوٹی ہے یا کہ سچی کہانی ہے، جہاں تک میرا تعلق ہے میں کبھی نہ سچ لکھتا ہوں اور نہ کبھی سچ بولتا ہوں۔
کہانی ہے فضل محمود کے بارے میں، آپ نے پہلے کبھی فضل محمود کا نام سنا ہے؟ یہ کہانی تب کی ہے جب میرے پڑھنے والوں کی نسلوں نے خیر سے جنم نہیں لیا تھا، ستر، اسی برس پرانی کہانی ہے، انیس سو اڑتالیس اور انیس سو پچاس کے دور کی ہے، پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں فضل محمود جیسا ہینڈسم اور وجیہہ نوجوان کسی نے دیکھا تھا اور نہ کسی نے سنا تھا، وہ زمانہ ٹیلی ویژن کا تھا اور نہ انٹر نیٹ کا تھا، پبلسٹی کا انحصار ریڈیو اور اخباروں تک محدود تھا، فضل محمود لاہور کے رہنے والے تھے، پولیس کی اعلیٰ ترین تعلیم اور تربیت یافتہ تھے، جہاں جہاں سے گزرتے تھے، لوگ فضل محمود کو دیکھتے رہ جاتے تھے، میڈیم فاسٹ بالر تھے، ان کٹر اور آؤٹ کٹر گیند کرانے کے ماہر تھے، آج کل کے کھیل میں ان کٹر اور آؤٹ کٹر کی جگہ ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ کے نام لے چکے ہیں، جیسے آج کل وسیم اکرم سوئنگ کے سلطان بنے ہوئے ہیں۔
فضل محمود کی شہرت کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ اپنے گھریلو اور ذاتی کام کاج کے لیے گھر سے نکلتے تھے تو بازاروں میں لوگوں کے جمگھٹے لگ جاتے تھے، بازاروں میں پیر رکھنے کی جگہ باقی نہ بچتی تھی، ٹریفک جام ہوجاتے تھے، فضل محمود کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے۔ ان کا گھر سے باہر نکلنا سرکار کے لیے سر درد بنا ہوا تھا، اس دور کی کرکٹ ٹیم معمولی کھلاڑیوں پر مشتمل نہ تھی، ٹیم میں وکٹ کیپر، بیٹس مین امتیاز احمد تھے جو برصغیر کی کرکٹ میں سب سے اعلیٰ پائے کے وکٹ کیپر بیٹس مین تھے، انیس سو اڑتالیس میں وہ پنڈت جواہر لعل نہرو کی ٹیم کے لیے دنیا کے چیدہ چیدہ کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون کے خلاف کھیلنے بمبئی گئے تھے اور ایک دن میں تین سو رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم میں بے مثال اوپننگ بیٹس مین حنیف محمد تھے۔ حنیف محمد نے انیس سو اٹھاون کے چھ روزہ ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ساڑھے چار روز بیٹنگ کرتے ہوئے تین سو سینتیس رنز بنائے تھے اور ہارے ہوئے میچ کو ڈرا میں بدل دیا تھا، حنیف جیسی لاجواب اننگ حنیف سے پہلے کسی نے نہ کھیلی تھی اور آج تک نہ کسی نے کھیلی ہے، ان میں سر ڈان بریڈمین کو بھی آپ شامل کرسکتے ہیں،بریڈ مین کو کبھی بھی کوئی بالر آؤٹ کرسکتا تھا مگر حنیف محمد کو آؤٹ کرنا امکان سے باہر لگتا تھا اور پھر پاکستان ٹیم کے کپتان آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیفٹ ہینڈ بیٹس مین عبدالحفیظ کاردار تھے، مگر فضل محمود جن کی شخصیت میںقدرت نے طلسم اور کشش بھر دی تھی، سب سے الگ تھلگ لگتے تھے۔
انگلستان کے دورے کے دوران ایک ضیافت میں فضل محمود سے ہاتھ ملاتے ہوئے انگلستان کی رانی الزبتھ دنگ رہ گئی تھیں، اسی ٹور کے دوران فضل محمود نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر انگلستان ٹیم کے خلاف دونوں اننگز میں بارہ وکٹیں لی تھیں۔
پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور آخری غیر مسلم چیف جسٹس کار نیلئس تھے۔ کرکٹ کھیل وہ بے انتہا پسند کرتے تھے۔ ریٹائر ہوئے اور پھر نہ جانے کیسے وہ انیس سو پچاس کی دہائی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہندوستان گئے، ہندوستان میں فضل محمود کی خاطر تواضع دیکھ کر جسٹس کار نیلئس دنگ رہ گئے، جس شہر جس ہوٹل میں ٹیم ٹھہرتی تھی، وہ ہوٹل لوگوں سے کھچاکھچ بھر جاتا تھا، بمبئی میں انڈین فلم انڈسٹریز کے نامور لوگ اور ہیروئنیں ان سے ملنے آتی تھیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ برصغیر کے لوگوں کے دل اور دماغ پر دلیپ کمار چھائے ہوئے تھے، مگر فضل محمود کی کشش کچھ اور ہی تھی، دلیپ کمار، راج کپور، دیو آنند ان سے ملنے آتے تھے، جسٹس کار نیلئس کو فضل محمود کی شہرت شایدکچھ زیادہ اچھی نہیں لگی، ٹور سے واپس آکر جسٹس صاحب نے ٹور کے بارے جو رپورٹ لکھی اس میں انہوں نے فضل محمود کا ذکر اچھے الفاظ میں نہیں کیا تھا،ہوسکتا ہے وہ رپورٹ اب بھی کرکٹ بورڈ کے پاس محفوظ ہو، میرے کہنے کا مطلب ہے کہ شہرت کے حوالے سے فضل محمود ہر دل کے ہیرو تھے۔
ان کی شہرت، نام اور عزت سے متاثر ہوکر کچھ بااثر اشخاص فضل محمود کے پاس گئے، ان کو پاکستان کا وزیراعظم بنانے کی تجویز پیش کی، فضل محمود چپ چاپ ان کی طرف دیکھتے رہے، بااثر لوگوں کے کرتا دھرتا نے کہا، ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کے علاوہ دوسرا کوئی شخص احسن طریقے سے پاکستان نہیں چلاسکتا۔
فضل محمود نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا۔ ’’میں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر پھر سے بارہ وکٹیں لے سکتا ہوں، مگر میں پاکستان نہیں چلا سکتا، یہ میرے بس کی بات نہیں ہے‘‘۔