Amar Jalil - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
امر جلیل
سب جھوٹ
June 20, 2017
آئی سی ایس اور اردو

بٹوارے کے بعد ہندوستان میں اردو پر تین بڑے الزام لگے۔ اول یہ کہ اردو ہندوستان کے بٹوارے کی زبان ہے۔ دوم یہ کہ اردو ایک مسلمان زبان ہے۔ سوم یہ کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ ان الزامات کی وجہ سے اردوکو بٹوارے کے بعد ہندوستان میں پندرہ بیس برس بڑی تکلیف میں گزارنے پڑے تھے۔بٹوارے کے بعد سرحد کے اس پار پاکستان میں اردو پر ہندوستان میں...
June 13, 2017
پاکستان میں اردو

بٹوارے کے بعد ہندوستان میں اردو کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ آپ ہندوستان کے کسی حصے میں چلے جائیں۔ وہاں کی مقامی زبان آپ نہیں جانتے ۔ ایسے میں آپ اردو میں بات چیت کر سکتے ہیں اور اپنامدعا بیان کرسکتے ہیں۔ فلمیں اردو میں بنتی ہیں۔ مگر فلم کا اسکرپٹ اسکرین پلے اور گانے دیوناگری رسم الخط میں لکھے جاتے...
June 06, 2017
بٹوارے کے بعد

بٹوارے کی فائل پر انگریز کےآخری دستخط کے بعد چودہ اور پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کی شب ہندوستان انگریز کے تسلط سے آزاد ہوا۔ ہندوستان کے دو حصوں پر پاکستان بنا اور ہندوستان میں صدیوں سے بسنے والے کروڑوں مسلمان نفسیاتی طور پر دو نمبر کے شہری Second grade citizens اور اپنے ہی ملک میں Minority یعنی اقلیت بن گئے۔ وہ اپنے ہی وطن ہندوستان میں خود...
May 30, 2017
بٹوارہ

آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کو آخرکار یقین دلوانے میں کامیاب ہوگئے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا الگ ہے۔ تہذیب و تمدن الگ ہے۔ رسم و رواج الگ ہیں۔ ان کا کھانا پینا الگ ہے۔ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ ان کا عقیدہ مختلف ہے۔ ان کا دین دھرم الگ...
May 23, 2017
اردو اور ہندوستانی

ایک پنجابی کہاوت ہے، بلی شیر پڑھایا، فیر شیر بلی نوں کھاون آیا۔ مطلب یہ کہ بلی نے شیر کو اپنے ہنرسکھائے اور پھر ہنر سیکھنے کے بعد شیر بلی پر لپکا، اسے کھانے کے لئے۔ برے انگریز نے ہندستان میں جتنے بھی اچھے کام کئے تھے۔ ان میں تعلیمی نظام بہت اہم ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں۔ Give devil hisdue مطلب یہ کہ شیطان نے اگر کوئی اچھا کام کیا ہے تو اس کی...
May 16, 2017
منٹو کی مادری زبان اردو نہیں تھی

مختلف رنگ اور نسل کے حملہ آوروں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہندوستان پر حکومت کی ہے۔ ان میں سے کسی بھی حملہ آور یا حاکم کی زبان اردو نہیں تھی۔ ہندوستان پر حکومت کرنے والے آخری حکمراں انگریز کو ہم لاکھ برا بھلا کہیں مگر انگریز نے ہندوستان کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ صدیوں سے ہندوستان پر راج کرنے والے ہندو اور مسلمان حکمرانوں نے...
May 09, 2017
یہ کیسا ماجرا ہے

کہا جاتا ہے اور کسی حد تک مانا بھی جاتا ہے کہ حاکموں کی زبان پھلتی، پھولتی اور پھیلتی ہے۔ اردو زبان کا پورے ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل جانا میرے لئے حیران کن بات تھی۔ مجھے تعجّب ہوتا تھا اور ہوتا ہے کہ لوگ اس حیرت انگیز حقیقت کو معمولی بات سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ میں نے سوچ سمجھ کر اردو کے ساتھ لفظ کرشمہ لکھا ہے۔ پچھلی کسی...
May 02, 2017
اُردو کی باتیں

آپ ذہن نشین کرلیں کہ فقیر اپنے آپ کو قصوں اور کتھائوں میں اردو کے حیرت انگیز کرشماتی اور معجزاتی وجود تک محدود نہیں رکھے گا۔ قصوں اور کتھائوں میںبٹوارے کے بعد یعنی تقسیم ہند کے بعد جو رویہ اردو کے ساتھ ہندوستان میں رکھا گیا اور خاص طور پر جو برتائو اردو کے ساتھ پاکستان میں روا رکھا گیا اس کا بار بار ذکر آئے گا۔ اس طرح آپ اردو کے...
April 25, 2017
اردو ایک کرشمہ

پچھلے ہفتہ حامد میر نے اپنے کالم میں ایک ادبی میلہ کا ذکر کیا تھا ۔ میلہ کا اہتمام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے کیا تھا ۔1974میں ریڈیو پاکستان کو الوداع کہنے کے بعد میں نے اپنا رشتہ اوپن یونیورسٹی سے جوڑا تھا ۔ تب اوپن یونیورسٹی کانام پیپلز اوپن یونیورسٹی تھا ۔ یونیورسٹی کا دفتر ایف سیون فورF-7/4اسلام آباد میںتھااور یونیورسٹی...
April 18, 2017
سندھ پر راجا راج کرتے ہیں

آج میں نے پکّا ارادہ کیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے میں آپ کو ایک ناقابل تردید حقیقت سے آگاہ کر کے حیران کر دوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ حیران کن بات سننے کے بعد آپ صرف حیران ہوں گے، پریشان نہیں ہوں گے، ورنہ ہوتا یوں ہے کہ حیران ہونے کے بعد لوگ خود بہ خود پریشان ہونے لگتے ہیں مگر اس مرتبہ حیران ہونے کے بعد آپ پریشان نہیں ہوں گے۔ پریشانی جن...
April 11, 2017
سوچتا کیوں ہے کیا ہو گا کل

اب جا کر پتہ چلا ہے کہ ستر برس سے ہمیں لگا تار ملنے والی کامیابیوں کے پیچھے کیا راز ہے۔ کسی نے چیخ چیخ کر اس راز کو راز رہنے نہیں دیا ہے،راز سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ کامیابیوں کا انحصار زندگی کی طرف ہمارے رویوں پر ہوتا ہے۔ووٹ لے، لوٹ لے، پھوٹ لےسوچتا کیوں ہے کیا ہو گا کل،جی لے ہر پل۔خوب پی لے، جھوم لے، ناچ لےسوچتا کیوں ہے...
April 04, 2017
جب شہر کراچی غلام تھا

میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بجائے میں آپ سے اپنے پرانے شہر کراچی کی باتیں کروں گا…کراچی کو اپنا سمجھنے والوں نے پوچھا ہے کہ آپ کے غلام شہر کراچی میں روڈ راستوں اور ٹریفک کا کیا حال تھا؟ کیا آپ کے غلام شہر کراچی کی سڑکیں اور روڈ راستے خستہ حال اور ٹوٹے پھوٹے ہوتے تھے؟ کیا ٹریفک بدنظمی اور انتشار کا...
March 28, 2017
کراچی، آج اور کل

رکھنے کی خاطر میں نے آج کے قصے کا نام اور عنوان رکھا ہے۔ کراچی آج اور کل۔ میری مراد ہے گزرا ہوا کل۔ کراچی کا آج آپ کے سامنے ہے۔ آپ سے کچھ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ جو لوگ دور اندیش ہیں، visionary ہیں۔ آنے والے کل میں دور تک دیکھ سکتے ہیں وہ لوگ جانتے ہیں بلکہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کراچی کا آنے والا کل کیسا ہوگا۔ آج سے پانچ برس بعدکس قد...
March 21, 2017
بھگوان اور میں

مجھے پریشان دیکھ کر بھگوان نے پوچھا۔ ’’کیا بات ہے؟ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟‘‘میں نے بھگوان سے کہا ’’تم تو دلوں کے حال خوب اچھی طرح سے جانتے ہو۔ پھر مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟‘‘بھگوان نے کہا ’’میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں‘‘میں نے کہا۔ ’’میں سوچنا چاہتا ہوں۔ میں لکھنا چاہتا ہوں۔ میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں پیا ملن کے گیت...