دنیا میں بہت سے ٹیکنالوجی میلے منعقد ہوتے ہیں، مگر ہر ٹیکنالوجی میلہ کسی قوم کے مستقبل کے بارے میں اتنا بڑا سوال نہیں اٹھاتا جتنا ترکیہ کے TEKNOFEST نے اٹھایا ہے۔ شانلی عرفہ میں منعقد ہونیوالا حالیہ ٹیکنو فیسٹ دراصل جدید طیاروں، ڈرونز، روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کی نمائش سے کہیں بڑھ کر ترکیہ کے اس قومی وژن کی عکاسی کرتا ہے جسکے تحت ٹیکنالوجی کو محض خریدنے یا استعمال کرنے کے بجائے اسے خود تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا مقصود ہے۔30ستمبر سے 4اکتوبر تک شانلی عرفہ میں منعقد ہونیوالے اس میلے میں ڈیڑھ ملین سے زائد افراد کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اب ترکیہ میں صرف ماہرین اور صنعتوں کا موضوع نہیں رہی بلکہ عام شہری، خصوصاً نوجوان نسل، بھی اسے قومی مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔شانلی عرفہ کا انتخاب بھی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتاہے۔ یہ وہ خطہ ہے جسکی شناخت ہزاروں سال پرانی تہذیب، گوکلی تپے، حران اور میسوپوٹیمیا کی تاریخ سے ہوتی ہے۔ اسی تاریخی سرزمین پر جب KAAN، KIZILELMA، HÜRJET، GÖKBEY، ATAK، AKINCI، TB2 اور TB3 جیسے جدید فضائی نظام عوام کے سامنے پیش کیے گئے تو ماضی اور مستقبل ایک ہی منظرنامے میں دکھائی دینے لگے۔ یہ محض ایک نمائش نہیں تھی بلکہ اس امر کا اظہار بھی تھا کہ ایک قدیم تہذیبی مرکز جدید سائنسی اور تکنیکی دور میں اپنی نئی شناخت تلاش کررہا ہے۔ترکیہ میں ٹیکنالوجی اب صرف ماہرین، انجینئروں یا دفاعی اداروں کا موضوع نہیں رہی۔ لاکھوں افراد نے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کو قریب سے دیکھا، جبکہ مختلف علاقوں خصوصاً شانلی عرفہ کے طلبہ اور خاندانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دیہی علاقوں سے آنے والے بچوں کیلئے یہ تجربہ اس لیے بھی اہم تھا کہ انہوں نے ان ٹیکنالوجیز کو پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا جنہیں وہ عموماً صرف ٹیلی ویژن یا موبائل فون کی اسکرین پر دیکھتے تھے۔صدر رجب طیب ایردوان کی شرکت اور خطاب نے بھی اس میلے کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ترکیہ کی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ترکیہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے‘‘۔ ان کا ایک اور اہم پیغام یہ تھا کہ ’’ ترک صدی ‘‘ پر ٹیکنو فیسٹ نسل کی مہر ثبت ہوگی۔ فیسٹول میں دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش خاص طور پر نمایاں رہی۔ KAAN سے لے کر KIZILELMA اور TB3 تک مختلف فضائی پلیٹ فارم اس بات کی علامت تھے کہ ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کیلئے مقامی ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت کو مسلسل وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔ مگر اس پورے عمل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایک جدید طیارہ صرف اسکی بیرونی ساخت کا نام نہیں ، اسکے پیچھے انجن، ایویونکس، سینسرز، سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت، مواصلاتی نظام، کمپوزٹ میٹیریل اور ہزاروں انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی مہارت شامل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ٹیکنو فیسٹ میں پیش کیے گئے نظام دراصل ایک وسیع صنعتی ماحولیاتی نظام کی جھلک دکھاتے ہیں۔ترک پائلٹوںکے فضائی مظاہروں نے میلے کو عوامی دلچسپی کا مرکز بنا دیا، لیکن ٹیکنو فیسٹ کی اصل اہمیت صرف فضائی طاقت کے مظاہرے میں نہیں۔ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، خودکار نظام، زرعی اور لائیو اسٹاک ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں نوجوانوں اور طلبہ کے منصوبوں نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی کہ آنیوالے برسوں میں ترکیہ اپنی معیشت اور صنعت کو کس بنیاد پر آگے بڑھائیگا۔میلے کا ایک دلچسپ منظر ASELSAN کے روبوٹک کتے ’’اسوت‘‘ کا تھا، جسے شانلی عرفہ کے بچوں نے یہ نام دیا۔ مقامی موسیقی پر روبوٹ کا بچوں اور شہریوں کے ساتھ رقص اس پورے میلے کی روح کی عکاسی کرتا دکھائی دیا۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ کسی ملک کی تکنیکی خود کفالت صرف چند کامیاب مصنوعات یا دفاعی پلیٹ فارمز سے ثابت نہیں ہوتی۔ اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب تحقیق، تعلیم، صنعت اور سرمایہ کاری ایک دوسرےسے جڑ جائیں اور ایسا ماحول پیدا ہو جس میں نوجوان صرف ملازمت تلاش نہ کریں بلکہ نئی ٹیکنالوجی، نئے کاروبار اور نئے حل پیدا کریں۔ ٹیکنو فیسٹ اسی ذہنی تبدیلی کو فروغ دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ آج کی عالمی مسابقت میں ٹیکنالوجی معاشی اور سیاسی طاقت کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ جو ممالک مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، خلائی تحقیق، خودکار نظام اور جدید مینوفیکچرنگ میں آگے ہونگے، وہ آنیوالی دہائیوں میں عالمی فیصلوں پر زیادہ اثرانداز ہوں گے۔ ترکیہ کی کوشش بھی اسی وسیع تر مقابلے میں اپنی جگہ بنانے کی ہے۔ٹیکنو فیسٹ کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی کو صرف استنبول، انقرہ یا ازمیر جیسے بڑے شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے مختلف علاقوں کے نوجوانوں تک پہنچایا ہے۔ تاہم ٹیکنو فیسٹ کی اصل کامیابی کا فیصلہ میلے کے اختتام پر نہیں بلکہ اسکے بعد ہوگا۔ اگر یہاں دکھائےجانیوالے منصوبے یونیورسٹیوں کی تحقیق، نجی شعبے کی سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع میں تبدیل ہوتے ہیں تو یہ میلہ محض ایک شاندار سالانہ تقریب نہیں رہے گا بلکہ قومی ترقی کا مستقل پلیٹ فارم بن جائیگا۔ترکیہ نے دفاعی ٹیکنالوجی میں جو پیشرفت کی ہے، اب چیلنج یہ ہے کہ اسی رفتار کو مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، روبوٹکس، بائیوٹیکنالوجی، زراعت اور جدید صنعتوں تک پھیلایا جائے۔ مستقبل صرف جدید ہتھیار بنانے والے ممالک کا نہیں ہوگا بلکہ ان ممالک کا ہوگا جو علم، تحقیق اور انسانی صلاحیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرسکیں گے۔شانلی عرفہ کا ٹیکنو فیسٹ اسی بڑے سفر کی ایک جھلک ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ ترکیہ آج کیا بنا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کل کیا بنا سکتا ہے۔ اگر ٹیکنو فیسٹ میں نظر آنے والا جوش مستقل تحقیق، تخلیق اور پیداوار میں تبدیل ہوگیا تو ترکیہ کی نئی نسل صرف مستقبل کی تماشائی نہیں ہوگی، بلکہ مستقبل کی معمار ہوگی۔