• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم پیشرفت کا اعلان، اہداف مقرر

فوٹو: پی آئی ڈی
فوٹو: پی آئی ڈی

حکومت نے حکومت کا ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم پیش رفت کا اعلان کردیا جبکہ قرض بڑھانے کے اہداف بھی مقرر کردیے گئے۔ 

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت رسائیِ مالیات سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مختلف شعبوں میں مالیات تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ 

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ نے فنانس تک رسائی کے منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ 

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ جون سے ستمبر 2026 تک ایس ایم ای فنانسنگ میں 23 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ایس ایم ای فنانسنگ ایک کھرب 13 ارب 70 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی۔

بریفنگ میں یہ  بھی بتایا گیا کہ ایس ایم ای فنانسنگ لینے والوں کی تعداد 25 ہزار سے بڑھ کر 3 لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی۔ جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ 2 کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ جون 2028 تک ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ 

اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی فنانسنگ میں جون سے ستمبر تک 94 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ زرعی فنانسنگ ایک کھرب 26 ارب سے بڑھ کر ایک کھرب 35 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ 

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زرعی قرض لینے والوں کی تعداد 19 لاکھ 63 ہزار سے زائد اضافے سے 34 لاکھ 60 ہزار ہوگئی۔ زرعی اسکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو 55 کروڑ 63 لاکھ روپے کے غیر ضمانتی قرضے جاری کردیے گئے ہیں جبکہ زرخیز آسان زرعی قرض اسکیم کے تحت 5 ہزار 563 غیر ضمانتی قرضے منظور کیے گئے ہیں۔ 

کمیٹی نے لائیو اسٹاک اور فشریز سمیت زرعی ویلیو چین کے نظر انداز شعبوں میں فنانسنگ بڑھانے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے لائیو اسٹاک شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت اور رسک مینجمنٹ کے ذریعے فنانسنگ بڑھانے کی ہدایت کی۔ 

وزیر خزانہ نے لائیو اسٹاک شعبے کے لیے مناسب آپریشنل اور فنانسنگ فریم ورک تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ 

کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ہاؤسنگ فنانس میں جون سے ستمبر تک 103 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہاؤسنگ فنانس 323 ارب روپے سے بڑھ کر 426 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ ہاؤسنگ فنانس لینے والوں کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 31 ہزار 550 ہوگئی۔

بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے جاری کیے گئے۔ اپنا گھر پروگرام کے تحت 350 ارب روپے کے منظور شدہ قرضے تاحال اجرا کے منتظر ہیں۔ گھر خریدنے والوں کے ساتھ بلڈرز اور ڈویلپرز کے لیے فنانسنگ بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ نے سستے گھروں کی فراہمی کے لیے مؤثر بلڈر فنانسنگ فریم ورک بنانے کی ہدایت کی۔ قرض لینے والوں کی مالی استعداد جانچنے کے لیے کیش فلو بیسڈ لینڈنگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن اسکیم کے تحت 17 ہزار 262 درخواستیں منظور کی گئیں۔ اس اسکیم کے تحت 2 ارب 54 کروڑ روپے کی فنانسنگ منظور کی گئی۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ستمبر کے اختتام تک 4 ہزار 839 قرضے اور 97 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ پی اے وی ای اسکیم کے تحت 2 ہزار 725 الیکٹرک گاڑیاں صارفین کو فراہم کی جاچکی ہیں۔

اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عوامی معاونت کا مقصد حقیقی مارکیٹ خلا کو پُر کرنا اور نجی شعبے کی پائیدار شمولیت یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رسائی فنانس کے اہداف کے لیے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 

اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز، کسانوں، گھرانوں اور دیگر محروم طبقات تک فنانسنگ کی رسائی بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو طے شدہ اقدامات مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ 

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فنانس تک رسائی کا مقصد صرف قرضوں کی دستیابی بڑھانا نہیں، وسیع اور مستحکم مالیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔

قومی خبریں سے مزید