السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک ہی شریکِ حیات کے ساتھ
شمارہ موصول ہوا اور ہم ستاروں کی طرح رُکے بغیر آگے بڑھ گئے۔ محمود میاں نجمی گنبدِ خضرا کی تاریخ بیان کر رہے تھے۔ الحمدُللہ، ایک مردِ مجاہد علّامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی ایمان افروز تقریر نے اُس کا تقدّس پامال ہونے سے بچا لیا۔ منیر احمد خلیلی ترکی کے ماضی وحال کا احوال لائے۔ اپنوں کی غدّاری سے مسلمانوں کی عظیم سلطنت رُوبہ زوال ہوئی۔ لارنس آف عریبیا کے ساتھ مل کرعربوں نے ترکوں کا جو قتلِ عام کیا، تاریخ کا الم ناک باب ہے۔
رحمان فارس نے بھارتی آبی جارحیت پرحقیقت پسندانہ تبصرہ کیا۔ یہ پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کی گہری سازش ہے، جس کی وجہ سے ایٹمی مُلکوں میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ رؤف ظفرای بائیکس رینٹل پروگرام کی تفصیل بتارہے تھے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے پاس جو عالی دماغ ہیں، وہ کچھ نیا کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، غیروں کی ایجادات استعمال کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر عامر طاسین عدلیہ کے فرسودہ نظام کو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بتارہے تھے اور درست ہی کہہ رہے تھے کہ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے کہ کسی ملزم کو 25-30 سال بعد یا اُس کی موت ہی کے بعد بےگناہ قرار دیا گیا۔
محمّد ریاض ایڈوکیٹ نے ای کورٹس کاجدید نظام اپنانے کا مشورہ دیا، جو دنیا بھر کے ممالک اپنا چُکے، ہمارے یہاں تو بس فوری ،سستے انصاف کے نعرے ہی لگتے ہیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پرشائستہ اظہر صدیقی نے حسبِ معمول اچھا رائٹ اَپ تحریر کیا۔ رانا شاہد خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں ماڈل پر کُھل کر تبصرے کی اجازت مل گئی۔ ویسے دل کے ہم بھی بُرے نہیں، 50سال سےایک ہی شریکِ حیات کے ساتھ ہنسی خوشی گزارہ کررہے ہیں۔
منور مرزا نیٹو اجلاس پر تبصرہ کررہے تھے، بےشک، مشرقِ وسطیٰ کو ٹرمپ سے زیادہ یورپ جاننا ہے، مگر ٹرمپ کی تو اپنی ہی ڈگر ہے، وہ کسی کی سُنتا ہے، نہ مانتا ہے، سوِائے نیتن یاہو کے، جس نے اسے اس دلدل میں پھنسایاہے۔ عبدالستار ترین بلوچستان کے حالات کا تجزیہ کررہے تھے، ہمارے خیال میں تو مسائل کی اصل جڑ سردارانہ نظام ہے۔
جب تک خالص عوامی قیادت نہیں آئے گی، حالات نہیں سدھریں گے اور اسی صورتِ حال کا فائدہ مُلک دشمن بھی اٹھاتے ہیں۔ افشاں نوید نے لیاری کے بچّوں میں فٹ بال ٹیلنٹ کی نشان دہی کی۔ سعد علی چھیپا، چھٹی حِس کی بابت بتا رہے تھے، تو قراۃ العین فاروق نے لذیذ اسنیکس سے دسترخوان مہکایا۔
سید ذوالفقار نقوی تکیہ کلام کی اقسام لائے۔ ہمارا تکیہ کلام’’اللہ اکبر کبیرہ‘‘ ہے اور ثناء توفیق آٹوگراف بُک کی کہانی لائیں۔ منور راجپوت نے نئی کتابوں پر اچھا تبصرہ کیا اور ہمارے صفحے پرحسبِ معمول محمد سلیم راجا نے اعزاز حاصل کررکھا تھا۔ راجا! سینچری مبارک ہو، ویسے ’’ففٹی‘‘ تو ہماری بھی ہوگئی ہے۔ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپور خاص)
ج : اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ گزارہ کر رہی ہیں یا آپ…؟؟
پہلا پہلا پیار!!
’’سنڈے میگزین‘‘ اتوار و پیر کی درمیانی شب 3بجے دیکھنے کی فرصت ملی اور ہم ’’رُک گئے‘‘۔جی ہاں، پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب ہم اپنے آئیڈیل وزیرِاعظم شہباز شریف (اسپیڈ فیم) سے بھی زیادہ مصروف رہتے ہیں، جہاں تک ’’رُکنے‘‘ کا معاملہ ہے، سرِورق کے مصرعے میں بھی تو کہا گیاکہ ’’گزر یں جو میرے گھر سے تو رُک جائیں ستارے…‘‘ تو ہم سے انکار کی گستاخی کیوں کر ہوتی۔ ماڈل کے رُخِ انور پر ایک اچٹتی نظر ڈالتے ہی سراپا دل کے، معاف کیجیےگا، دماغ کے فولڈر میں Save ہوگیا۔
ہلکا گلابی لباس تو ڈرگ کوئین ’’انمول پنکی‘‘ کی یاد دِلا گیا۔ پھرکانوں میں منحنی ٹاپس، نیچےچارچمک دارموتیوں کی دیدہ زیب لڑی، گلے میں طلائی ہار، دائیں ہاتھ کی کلائی میں بریسلیٹ (ہم تو اِسے کڑا کہتے ہیں) اور ایک انگوٹھی، جب کہ بائیں ہاتھ کی کلائی میں ایک واچ اور دو انگلیوں میں تین انگوٹھیاں… تاروں کے جھرمٹ میں چاند سے مشابہ باوقار چہرہ، نہ توحُسن پرغرور، نہ مسکراہٹ کی آڑمیں بتیسی کی نمائش، ارے، میگزین پر تبصرے کی اصل وجہ تو بتانا ہی بھول گئے کہ سرِورق پر تحریر ایک دل کش مصرعہ پڑھ کر دوسرا جاننے کا اشتیاق ہواکہ خُوب صورت شعر اپنی ڈائری کی زینت بنالیں، مگر پورا رائٹ اَپ پڑھنے کے باوجود ’’نیک مقصد‘‘ میں کام یابی نہ ہو سکی۔
محمود میاں نجمی کا ’’گنبدِ خضرا‘‘ پرمضمون تو اس اعتبار سے بھی جریدے کی جان تھا کہ وہ جو بھی مضمون تحریر کرتے ہیں، درست معلومات اور موضوع کے اعتبار سے ایک ریفرنس کے طور پر بہت کارآمد ہوتا ہے۔ منیراحمد خلیلی تاریخِ اسلام پرمنفرد تحاریر کے ساتھ آتے ہیں۔
اس بار ترکی پر مضمون لکھا، جو بہت پسند آیا۔ رحمان فارس کو ہم شعبۂ ادب کا شہ سوار سمجھتے تھے، مگر جناب کےحالاتِ حاضرہ بالخصوص ہمارے دیرینہ اور چال بازدشمن بھارت کی بزدلانہ وعیارانہ آبی جارحیت سے متعلق مضمون نے وہ کام کردکھایا، جو ہماری وزارتِ خارجہ بھی نہ کر سکی۔
ڈاکٹر عامر طاسین نے فرسودہ عدالتی نظام پر ’’اگلی تاریخ پر حاضر ہوں‘‘لکھ کر عوامی جذبات کی خُوب ترجمانی کی۔ فٹ بال کے موضوع پر افشاں نوید کا مضمون ’’فٹ بال بناتے ہیں، کھیلتے کیوں نہیں۔‘‘ بھی دل کے تار چھوگیا۔ تکیہ کلام کے عنوان پر سید ذوالفقار نقوی نے خُوب طبع آزمائی کی۔ اس حوالے سے ہماری ایک کزن کا تکیہ کلام ’’بدتمیزی نہ کریں‘‘ تو آدمی پر گھڑوں پانی ڈال دیتا ہے۔
ثناء توفیق خان ’’اِک آٹوگراف بُک‘‘ کے ذریعے ماضی کی دریچوں میں لےگئیں، تو نسیم نازش کی ’’شہیدانِ گل پلازا‘‘ اور اسماء صدیقہ کی ’’وقت کا کربلا، غزہ‘‘ نے افسردہ کردیا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر ایک بار پھر محمّد سلیم راجا ’’اس ہفتے کی چِٹھی‘‘ کی مسند پر براجمان تھے۔
خط اگرچہ طویل ہوگیا ہے مگر ’’پہلا پہلا پیار ہے‘‘ کے صدقے مکمل شائع کرکے ممنون فرمائیں۔ قابلِ قبول ہو تو ایک تجویز ہے کہ ہماری طرح کے’’سر پِھرے‘‘ یقیناً اور بھی ہوں گے لہٰذا اگر طویل خطوط دو اقساط میں شائع کردیا کریں، تو یہ بھی خُوب ہی رہے گا۔ (صنوبرخان ثانی، کراچی)
ج: آپ کےاس ’’پہلا پہلا پیار‘‘ ہی کے صدقے ضرورت سے زیادہ چُھوٹ دے دی گئی ہے۔ سیانے کہہ گئے ہیں،’’اپنی عزت اپنے ہاتھ ہوتی ہے‘‘ سو، دامنِ احتیاط تھامے ہی رہیں، تو اچھا ہے۔ ؎ گزریں جو میرے گھرسےتو رُک جائیں ستارے … امجد صاحب کی ایک معروف رومانی غزل کا مصرع ہے۔’’ کی ورڈز‘‘ لکھ کر ویب سائٹ ’’rekhta.org‘‘ سے سرچ کرنے کی عادت ڈالیں اور آئندہ ماڈلز پر تبصرہ آرائی سے گریز فرمائیں۔ نیز، دو اقساط میں خط چھاپنے جیسے فضول آئیڈیے سے متعلق تو ہم نے سوچنے پربھی ایک لمحہ ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی کا خاکہ
سنڈے میگزین بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ بہت ہی اچھا جریدہ ہے۔ پچھلے شمارے میں خاور نیازی کا مضمون ’’الیکٹرانک وار فیئر‘‘ بہت پسند آیا، کافی معلومات اکٹھی ہوگئیں۔ ارشد مبین احمد کا مضمون ’’جذبۂ ایمانی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا‘‘ بھی شوق سے پڑھا۔ منور مرزا کا مسلّح تنظیموں سے متعلق تجزیہ لاجواب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ تمام ہی لکھاری بہت خُوب لکھتے ہیں۔
حالیہ شمارے میں پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف کا ’’تاریخی وَرثے، باغ جناح‘‘ سے متعلق مضمون سب سے زیادہ پسند آیا۔ اور رحمان فارس جو خاکے لکھ رہے ہیں، وہ تو بس اپنی مثال آپ ہی ہیں۔ ایک فرمائش ہماری بھی ہے، اگر عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا بھی خاکہ لکھ ڈالیں، تو کیا ہی بات ہو، دلی مراد پوری ہوجائے گی۔ (محمّد ہاشم عارف نیازی، فضیٰ عارف نیازی، دھمیال روڈ، راول پنڈی کینٹ)
ج: سب کی سب فرمائشیں رحمان فارس تک پہنچ رہی ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اُن کی ترجیحات میں وہ شخصیات شامل ہیں، جن سےاُن کی براہِ راست ملاقاتیں ہیں، وگرنہ کسی شخصیت سے متعلق معلومات اکٹھی کرکے کوئی مضمون لکھ ڈالنا تو کوئی کمال نہیں۔
اداروں جتنا کام
تازہ شمارے میں ماڈل سیاہ لباس میں جاذبِ نظر لگی۔ منور مرزا’’مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اورمذاکرات کا کھیل‘‘ کے موضوع پراہم تحریر لائے۔ المیہ یہ ہے کہ طاقت وَروں کے لیے یہ جنگ اور مذاکرات کا کھیل ہے، مگر عوام کےلیے ایک بھیانک انجام کے سوا کچھ نہیں۔ رابعہ فاطمہ‘‘ گریجویٹس، بےروزگار کیوں؟‘‘ کے موضوع کے ساتھ موجود تھیں۔ ایک بڑی وجہ ہنر کا فقدان بھی ہے، جیسا کہ اُنہوں نےخود کہا۔ آج صرف ڈگری سے کام نہیں چلتا، جب تک کہ ساتھ کوئی ہنر نہ ہو۔ ’’دوستی کے عالمی دن‘‘ پر ثانیہ انور ہمیشہ کی طرح ایک مفصّل اورجامع تحریر کے ساتھ موجود تھیں۔
’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ پر تو اس دفعہ تین، تین ڈاکٹرز عوامی بیماریوں کا علاج بتارہے تھے۔ ’’باغِ جناح‘‘ کی تاریخی حیثیت اور صُورتِ حال پر پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف نے خُوب لکھا۔ بلاشبہ مال روڈ پر واقع یہ محض ایک پارک نہیں، زندہ تاریخی دستاویز ہے اور اس کی تاریخی حیثیت کے پیشِ نظرحکومت کو مناسب توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔
’’اِک رشتہ ، اِک کہانی‘‘ میں امت الرقیب کی خدمات کو بڑے احسن انداز میں اجاگر کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے، کچھ لوگ اداروں جتنا کام کرجاتے ہیں۔ افشاں نوید کا افسانہ ’’ٹاکسک‘‘ بہترین تھا۔ ہمارے یہاں بےشمارلوگ ہیں، جو تصویر کا ایک رُخ دیکھ کر ہی فیصلہ سنادیتے ہیں۔ (رانا محمد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: اور یہ بھی ہمارا ہی معاشرتی المیہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کی تعریف و توصیف، قدر دانی، حوصلہ افزائی تو جیسے گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ یہاں خُود کومنوانے کے لیے مرنا لازم ٹھہرا۔
اس ہفتے کی چٹھی
سلامِ الفت، نرجس جی! لو ہم پھر آگئے، آپ کوتنگ کرنے۔لیکن یقین کریں، اس بار ’’اچھی بچّی‘‘ بن کر آئی ہوں اور تبصرہ کسی مخصوص شمارے پر نہیں، اگلے پچھلے جتنے بھی پڑھے ہیں، سب پر ہوگا۔ ہمارے صفحے میں آپ نے ڈاکٹر اطہر رانا کے خط کے جواب میں جوکہا، پڑھ کرہم بہت دیر تک ہنستے رہے۔
ارے وہی، ماڈلز کو بہن، بیٹی کی نظر سے دیکھنے والی بات۔ ہاہاہا… ایسا ہو جائے، تو کیا ہی بات ہو، اب دیکھتے ہیں، آپ کی بات کا ’’بھائی لوگوں‘‘پرکتنا اثر ہوتا ہے، ویسے آفرین ہے صفدر خان ساغر بھائی پر، ہم نےجو انہیں ماڈل کی تعریف کے حوالے سے سرزنش کی، اُن پراثر کیا ہونا تھا، الٹا اُنہیں وہ ہماری شیریں مزاجی، شگفتہ کلامی لگی۔ ہاہاہا… حالاں کہ ہمیں تو گھر میں ’’کڑوا کریلا، اکھڑ مزاج اور خنجر جیسی زبان والی‘‘ کہا جاتا ہے، ویسے اگر یہ بھائی لوگ اتنی تعریفیں اپنی بیگمات کی کرلیں، تو اِن کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔
ہمارا خیال ہے کہ ساغر بھائی کی شکایت تو بھابھی جی سےکر ہی دینی چاہیے، یہ کچھ زیادہ ہی بگڑتے جا رہے ہیں اور ساتھ میں ایک مفت مشورہ بھی ہے، بھابھی کے لیے کہ آپ ان موصوف کے سامنے اِن کے کسی جگری یارکی تعریف کرکے دیکھیں، بالکل اُسی انداز میں، جیسے یہ ماڈلزکی کرتے ہیں، تیرکی طرح سیدھےنہ ہوگئے تو کہیے گا۔
’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیراحمد خلیلی ترکی کےماضی و حال سے متعلق بتا رہے تھے، تو فارس صاحب نے بھارت کی بزدلانہ حرکت اور پاکستان کے دانش مندانہ ردِعمل پر کیا ہی شاہ کار نگارش قلم بند کی۔ (ویسےنرجس جی!یہ رحمان فارس شکل سے خالص انگریز کیوں لگتے ہیں) رابعہ فاطمہ تقسیمِ ہند کے آخری تیس دن کا احوال لائیں۔ ’’رپورٹ‘‘ میں ڈاکٹر عامر طاسین نے بالکل درست لکھا کہ قیدیوں کی پیشیوں کا موجودہ طریقۂ کار انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ معمولی سی بات پر اگلی پیشی کی تاریخ دینا سخت تکلیف دہ امر ہے۔
سینٹر پیجز پر شائستہ بہنا کیا ہی شان دارلکھتی ہے، اب کی بار لکھا ؎ گزریں جو میرے گھر سے تو رُک جائیں ستارے… توبس ٹھیک ہےبہن، ہم نہیں گزرتے آپ کے گھر سے، سیدھا اندر ہی آجاتے ہیں، ساتھ میں کچھ کھا پی بھی لیں گے۔ ہاہاہا… ویسے ماڈل کا کالا جوڑا مجھے بہت پسند آیا اور’’پیارا گھر‘‘میں جب بھی داخل ہوئے، تو کھانے بنانے کی تراکیب نہیں پڑھیں کہ یہ گھر بسانے، معدے کےذریعے کسی کے دل میں اُترنے وغیرہ میں کام آتی ہیں۔ (ارے بتایا توہےکہ اچھی بچّی بن گئی ہوں) وہ کیا ہے کہ ہمیں دو تین ماہ کے لیے اپنے گھر سے دُورجانا پڑا اور وہاں ہمارا دماغ ایسا ٹھکانے پر آیا کہ ہم نے اپنے آپ سے وعدہ کرلیا کہ اپنے پیارے گھر جاکر سب سے پہلے تو ہم، سرِعام چوک پر لٹکا کر سو دُرّے ماریں گے، اپنی اُس ویاہ کھڑکانے والی سوچ کو کہ آج کے بعد اگر ہم نے ویاہ شیاہ کی بات بھی کی، تو جو چورکی سزا وہ ہماری…(ویسے جذبات میں آکرکچھ زیادہ ہی سخت وعدہ کرلیا۔
خیر، کوئی بات نہیں، قسم تھوڑی ہے، جو توڑنے پر روزے رکھنے پڑیں گے، وعدہ ہی ہے، وہ بھی اسماء سے کیا ہوا اور ہاں، وہ چور کی سزا والی بات بھی رسماً کہہ دی، اب سچ میں ہاتھ نہ کٹوا دینا بچّی بےچاری کا، پھر ایک ہاتھ کے ساتھ ہم سے ویاہ کون کرے گا بھلا، ہاہاہا… ) اورجاتےجاتے اس شمارے پربھی تھوڑی سی بات کرلیں، جو ابھی تازہ تازہ ملاہے۔ ’’متفرق‘‘ کے صفحے پر محبّت کے موضوع پہ تفصیلی مضمون پڑھ تو لیا، لیکن پلے نہیں پڑا، بالکل ویسے، جیسے بچپن میں بڑی بہنوں کی دیکھا دیکھی اخبار جہاں کی ’’تین عورتیں، تین کہانیاں‘‘ پڑھتی تو تھی، لیکن سمجھ کچھ نہیں آتا تھا، ویسے بھی ہر تحریر، ہر ایک کے لیے تھوڑی نہ ہوتی ہے، اب یہ بھی کچھ باذوق لوگوں ہی کے لیے ہوگی اور یقیناً وہ سمجھ بھی گئے ہوں گے۔ اور ہاں، اس بار ’’ہفتےکی چِٹھی‘‘شائستہ بہنا کی تھی۔ وہ کیا ہے کہ آپ ناں ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات ہی پر اچھی لگتی ہیں، تو یہ صفحہ ہم بےچاریوں کے لیےچھوڑدیں کہ آپ کے ہوتے بھلا ہمیں کون مسندِ خاص سے نوازے گا۔ آئندہ ملاقات تک کے لیے، اللہ حافظ۔ (اسماء خان دمڑ، سنجاوی، بلوچستان)
ج: ہا ہا ہا… کیا لڑکی ہوتم…سچ میں تم سے ملنے کا اشتیاق ہونے لگا ہے۔
فی امان اللہ
* منور مرزا نے مسلم دنیا کی تباہی پر ایک عُمدہ مضمون تحریر کیا۔ مَیں اس میں کچھ مزید اضافہ کرتا ہوں۔ مسلم دنیا کی تباہی و بربادی کی بہت سی وجوہ ہیں، جن میں ایک بڑی وجہ دہشت گردوں کو ہیرو اور نجات دہندہ بناکرپیش کرنا ہے۔ جیسے پاکستان میں بہت سے لوگ طالبان دہشت گردوں کو آج بھی دہشت گرد کہنے سے انکاری ہیں۔ وہی طالبان، جن کے ہاتھوں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی قتل ہوچُکے۔
اِسی طرح حالیہ ایران، امریکا جنگ میں ایران کو اسلامی دنیا کا ہیرو بناکر پیش کرنا درست نہیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہمارے ؒ عرب مسلم ممالک کی معیشت ایران کے ہاتھوں تباہی سے دوچار ہے۔ وہی عرب مسلم ممالک، جو لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، نیز مالی مشکلات کے وقت پاکستان کو قرضے بھی دیتے ہیں۔ (محمد کاشف، کراچی)
* شمارے کا مطالعہ کیا، ہمیشہ کی طرح بہترین، فکرانگیز تحریریں شامل تھیں۔’’یوم النحر‘‘کے حوالے سے جامع مضمون نےاطاعتِ حضرت ابراہیمؑ وحضرت اسماعیلؑ کا عظیم جذبہ نہایت خُوب صُورتی سے اجاگر کیا۔ عشرۂ ذوالحجہ کی فضیلت، قربانی کا فلسفہ مدلّل انداز میں بیان کیا گیا۔ ڈاکٹرسکندر اقبال کی تحریر میںگوشت کے استعمال، حفظانِ صحت کےاصولوں سے متعلق نہایت مفید معلومات فراہم کی گئیں۔
اصغر ندیم سید ’’شاہ جی‘‘ کا خاکہ پڑھ کر ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ رحمان فارس نے توگویا یادوں کی ایک پوری البم کھول کے رکھ دی۔ آج کی جنریشن کو شاہ جی جیسی شخصیات سے متعارف کروانابےحد ضروری ہے کہ نئی نسل ادب، تہذیب اور فکری ورثے سے جڑی رہے۔ افروز عنایت نے بدلتے زمانے کی عیدین پراچھی روشنی ڈالی۔ بلاشبہ ماضی میں، رشتوں میں جو خلوص و محبت اور اپنائیت تھی، آج یک سر معدوم ہوگئی ہے۔
’’ضیافتِ عید‘‘نے تو بھوک مزید بڑھا دی۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم کی تحریر’’تیرے پیروں کے نشاں‘‘ نہایت اثرانگیز تھی۔ ایک عورت کا بطور بیوی اور ماں رضائے الٰہی کے سفر میں شامل ہونا، صفا ومروہ کو رہتی دنیا تک نشانی بنادینا، واقعی ایمان، صبر اور اطاعت کی عظیم مثال ہے۔ رابعہ فاطمہ کی خصوصی تحریرمیں بھی ایک اہم مسئلہ اجاگر کیا گیا، جس کے حل کے لیے شہری شعور، اجتماعی ذمّے داری اور بحیثیت قوم متحد ہو کرعملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ (قاضی رضوان احمد)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk