• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ اور قوم کے اجتماعی شعور میں بعض ایّام لازوال قربانیوں کی علامت کے طور پر زندہ ہیں اور ان میں 18 اکتوبر 2007ء کا دن بھی شامل ہے کہ اس روز جب طویل جِلاوطنی کے بعد عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِاعظم، محترمہ بے نظیر بُھٹّو وطن واپس آئیں، تو اُن کے پُرتپاک اور والہانہ استقبال کے لیے کراچی کی سڑکوں پر عوام کا ایک سمندر اُمڈ آیا۔

شومئی قسمت، اپنی محبوب قائد کا استقبال کرنے والے ہزاروں افراد کا جلوس جب کارساز کے مقام پر پہنچا، تو یکے بعد دیگرے ہونے والے دو دھماکوں نے ان پُرمسرّت تاریخی لمحات کو ایک اندوہ ناک سانحے میں تبدیل کردیا۔

گرچہ ان دھماکوں میں محترمہ بےنظیربُھٹّو محفوظ رہیں، لیکن اقوامِ متّحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سانحۂ کارساز میں 149 افراد شہید اور 402 زخمی ہوئے، جن میں اکثریت پیپلز پارٹی کے جیالوں، رضاکاروں اور سیکیوریٹی اہل کاروں کی تھی۔ اعداد وشمار دیکھےجائیں، توواقعے میں 550 کے لگ بھگ افراد دہشت گردی کے بھینٹ چڑھے، جب کہ درحقیقت سانحۂ کارساز نے سیکڑوں خاندانوں کے روشن مستقبل کے خواب چکنا چُور کر کے انہیں ہمیشہ کے لیے غم و الم کے سپرد دیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس سانحے کو محض ایک سیاسی جماعت کے اجتماع یا جلوس پر حملے کے طور پر دیکھنا اس کے وسیع تر انسانی و جمہوری مفہوم کو محدود کرتا ہے۔ دراصل یہ الم ناک واقعہ اُس دَور میں مُلک میں پائی جانے والی سیاسی کشمکش، دہشت گردی کے خطرات، عوامی شمولیت اور شہریوں کے تحفّظ کی ریاستی ذمّےداری جیسے معاملات سے جُڑا ہوا ہے۔

یاد رہے، ایک پُرامن سیاسی اجتماع میں شریک شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار اور سیاسی سرگرمی میں حصّہ لینے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے اور اس حق کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ اُن کی سلامتی کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ 18اکتوبر 2007ء کے جلوس میں شامل ہر فرد ہی کی کچھ توقّعات اور اُمیدیں تھیں۔ کوئی اپنی قائد کے دیدار کے لیے آیا تھا، تو کوئی جمہوری نظام کی بحالی کا خواہاں تھا۔

کوئی اپنے بچّوں کے بہتر مستقبل کے لیے کارواں میں شامل ہوا اور کوئی اپنی سیاسی وابستگی، عوامی اجتماع کے ذریعے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ تاہم، ان متنوّع محرّکات کے پسِ پردہ ایک مشترکہ جذبہ کارفرما تھا، سیاسی عمل میں شمولیت اور روشن مستقبل کی امید۔

سانحۂ کارساز کے بعد یہ سوال مزید اہمیت اختیار کرگیا کہ بڑے عوامی اجتماعات کے تحفّظ کے لیے انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، منتظمین اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطہ کس طرح مؤثر بنایا جائے؟ واضح رہے، سیکیوریٹی پلاننگ محض جلوس کے راستوں پر اہل کار تعینات کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں ممکنہ خطرات کا جائزہ، ہنگامی طبّی امداد، ہجوم کی محفوظ نقل و حرکت، رابطے کا واضح نظام اور واقعے کے بعد فوری ردِعمل بھی شامل ہے اور ان امور کا تجزیہ تعصّب کی بجائے شواہد، قانونی عمل اور ادارہ جاتی بنیادوں پرہونا چاہیے۔

یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ قومی یادداشت کا مقصد ماضی کی پرستش نہیں بلکہ اس سے سبق حاصل کرنا ہے اور سانحۂ کارساز کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بامعنی طریقہ بھی یہی ہے کہ ان کے ناموں اور قربانیوں کو محفوظ رکھا جائے۔

متاثرہ خاندانوں کے ساتھ احترام و ہم دردی پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے اور تمام ترسیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر شہریوں کے تحفّظ کو ریاستی ذمّےداری سمجھا جائے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے فطری اَمر ہے اور کسی طور بھی تشدّد کو سیاسی اختلاف کا متبادل بننے نہیں دیا جا سکتا۔

بےنظیر بُھٹّو کی وطن واپسی: عوامی توقّعات، سیاسی وابستگی اور تاریخ کا سنگم 

18اکتوبر 2007ء میں، محترمہ بے نظیر بُھٹّو کی وطن واپسی کی اہمیت سمجھنے کے ضمن میں اُن کے سیاسی سفر اور اُس وقت کے قومی حالات پیشِ نظر رکھنا بھی ضروری ہیں۔ بی بی شہید پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں اور اُن کی سیاسی زندگی اقتدار کے ایوانوں، حزبِ اختلاف کی آزمائشوں، قید و بند کی صعوبتوں، جِلا وطنی اور عوامی روابط سے معمور تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، ذُوالفقارعلی بُھٹّو کو پھانسی دیئے جانے کے بعد بے نظیر بُھٹّو نے اپنی والدہ، بیگم نصرت بُھٹّو کے ساتھ مل کر سیاسی و جمہوری جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اُن کا اہم مقام ایک مسلّمہ تاریخی حقیقت ہے۔ 2007ء میں اُن کی وطن واپسی ایسے ماحول میں ہوئی کہ جب مُلک میں سیاسی مستقبل، انتخابی عمل اور جمہوری اداروں کے کردار پر بحث جاری تھی اوراس موقعے پر اُن کی آمد کے اعلان نے سیاسی سرگرمیوں کو مہمیز دی، نیز کراچی میں اُن کے استقبال کے لیے آنے والے افراد کی بڑی تعداد اس بات کا اظہار تھی کہ عوامی سیاست میں قیادت سے وابستگی ایک طاقت وَر سماجی حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سیاسی رہنما کا استقبال کرنے والوں کا جمِ غفیر عوامی شمولیت کا یادگار منظر بن گیا۔

دوسری جانب عوامی اجتماعات کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی بڑے ہجوم کی حفاظت کے انتظامات، طبّی سہولتیں اور فوری امداد کے اقدامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم، بے نظیر بُھٹّو کی وطن واپسی پررُونما ہونے والے انتہائی دِل خراش واقعے نے استقبال کی خوشی کو شدید صدمے میں بدل دیا۔

دوسری جانب ایک سیاسی لیڈر کی وطن واپسی کے واقعے کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جمہوری عمل کا انحصار صرف سیاسی قیادت کے فیصلوں پر نہیں ہوتا، اس میں کارکنان اور مقامی تنظیموں کی محنت، رضاکاروں کی خدمات اور عوامی مسائل کے اظہار کی کوششیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسی لیے سانحۂ کار ساز کے ضمن میں سیاسی قیادت کے تاریخی کردار کے ساتھ اُن کارکنان کو بھی جگہ ملنی چاہیے کہ جنہوں نے اس دن اپنی جانیں گنوائیں یا زندگی بَھر کے لیے معذور ہوگئے۔

تحقیقات، جواب دہی اور جمہوری عمل کے تحفّظ پر اُٹھتے سوالات

سانحۂ کارساز کے بعد سیکیوریٹی انتظامات اور واقعے کی تحقیقات کے ضمن میں سوالات اُٹھنا شروع ہوئے۔ مُلک کے معروف انگریزی رونامے کی ایک رپورٹ کے مطابق سانحے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے گئے ٹریبونل میں ایک سینئر پولیس افسر نے سیکیوریٹی پلان اور تیاریوں کے ضمن میں بیان دیا تھا۔ اس رپورٹ میں ٹریبونل کے دائرۂ کار، سیکیوریٹی انتظامات، ممکنہ کوتاہیوں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی شامل تھا۔

تاہم، یاد رہے کہ کسی پولیس افسر کا بیان، کسی ادارے کا مؤقف اور کسی عدالت یا تحقیقاتی فورم کا حتمی نتیجہ یک ساں نہیں ہوتے۔ بعد ازاں، اقوامِ متّحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے 2010ء میں محترمہ بے نظیر بُھٹّو کی شہادت سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی۔

اس رپورٹ میں کارساز حملے کا پس منظر بھی زیرِ بحث آیا اور سیکیوریٹی، تحقیقات اور اداروں کے کردار کے مختلف پہلو بھی سامنے لائے گئے۔ مذکورہ رپورٹ کا مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں واقعات کی ترتیب اور متعلقہ اداروں سے حاصل شدہ معلومات کو ایک منظّم تحقیقاتی تناظر میں پیش کیا گیا۔ تاہم، کسی بھی رپورٹ کے نتائج کو اس کے دائرۂ اختیار اوردست یاب شواہد کی روشنی ہی میں سمجھنا چاہیے۔

دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد جواب دہی کا تقاضا محض کسی فرد یا گروہ پر الزام عائد کرنے سے پورا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شواہد کا تحفّظ، غیرجانب دارانہ تفتیش، قانونی معیار کے مطابق استغاثہ، منصفانہ عدالتی کارروائی اور متاثرین کے حقوق کا احترام لازمی ہے۔ اگر تحقیقات میں تاخیر ہو یا شواہد ضایع ہو جائیں، تو متاثرہ خاندانوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے واقعات سے سبق اخذ کرنا اور مستقبل میں تفتیشی صلاحیت بہتر بنانا اہمیت کا حامل ہے۔

سانحۂ کارساز کے بعد محترمہ بےنظیربُھٹّو نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں لیکن27 دسمبر 2007ء کو راول پنڈی کے لیاقت باغ میں ان کی شہادت نے مُلک کو ایک اور صدمے سے دوچار کردیا۔ گرچہ یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں، جن کی تحقیقات اور قانونی پہلو بھی ایک دوسرے سے جُدا ہیں لیکن ان کا تعلق اُس وسیع تر ماحول سے ہے کہ جس میں سیاسی قیادت اور عوامی اجتماعات دہشت گردی کے خطرات سے دوچار تھے۔ لہٰذا، ان واقعات کو ایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتے ہوئے زمانی ترتیب اور شواہد کی دُرستی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے، سیاسی اجتماعات کا تحفّظ جمہوری حقوق میں شامل ہے اور انتظامیہ کی ذمّے داری ہے کہ وہ خطرات کے جائزے، ہجوم کے انتظام، ہنگامی طبّی امداد، ٹریفک کی منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان رابطے کو مؤثربنائے، نیز منتظمین اور سیاسی جماعتوں کی بھی ذمّےداری ہے کہ وہ اس ضمن میں انتظامیہ سے تعاون کریں، شرکاء کو محفوظ راستوں اور ہنگامی اقدامات سے آگاہ کریں اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں مدد دیں۔ اس مشترکہ ذمّےداری کا مقصد سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

شہداء کی یاد سے مستقبل کی تعمیر تک

ہر قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں کہ جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا اور سانحۂ کارساز بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا ہی واقعہ ہے۔ اس سانحے میں شہید ہونےوالے افراد کے خاندانوں کے لیے 18اکتوبر کا دن یومِ سوگ ہے، جب کہ قومی سطح پر سانحۂ کارساز کے ضمن میں منعقد کی جانے والی تعزیتی تقاریب کی اصل معنویت بھی اُسی وقت سامنے آئے گی کہ جب ان متاثرہ خاندانوں کے دُکھ درد کو تسلیم کیا جائے اور ان کی ضروریات، عزّتِ نفس اور حقوق کا احترام کیا جائے۔

سانحۂ کارساز کے شہداء کو صرف رسمی طور پر یاد کرنا کافی نہیں، کیوں کہ ان میں سے ہر فرد سے اُس کے اہلِ خانہ کے مستقبل کے کئی خواب وابستہ تھے اور ان شہادتوں کی صُورت والدین نے اولاد کھوئی، اولاد نے سرپرست سے محرومی برداشت کی، بیویوں کے حصّے میں زندگی بَھر کا روگ آیا اور کئی خاندانوں کا معاشی سہارا چِھن گیا۔ لہٰذا، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا اور اُن کی دل جوئی کرنا ازحدضروری ہے۔

سانحۂ کارساز کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسانی جان کا تحفّظ ہر سیاسی و انتظامی ترجیح پر مقدّم ہونا چاہیے۔ شہریوں کو پُرامن اجتماعات، اظہارِ رائے کی آزادی اور تنظیم سازی کا حق حاصل ہے اور ان حقوق کے تحفّظ کے لیے قانون کی بالادستی، شفّاف انتظامی فیصلے اور شہری آزادیوں کا احترام ضروری ہے، کیوں کہ سیاسی اختلافات کو مکالمے اور آئینی طریقوں سے حل کرنا معاشرے میں اعتماد بڑھاتا، جب کہ تشدّد عوامی زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس سانحے کی یاد نوجوان نسل کے لیے بھی اہم ہے اور اس ضمن میں نصابی کُتب میں اس واقعے کی دُرست تفصیلات، ماخذات، متاثرہ افراد کے تجربات اور ادارہ جاتی ذمّے داریوں کو شامل کرنا چاہیے۔ اس سے نئی نسل ماضی کو محض جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ تنقیدی شعور، ہم دردی اور تاریخی فہم کے ساتھ سمجھ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ، تعلیمی ادارے، سیاسی جماعتیں اور شہری تنظیمیں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔

شہید محترمہ بےنظیر بُھٹّو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کی حیثیت سے مُلکی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ گرچہ ان کے سیاسی کردار اور فیصلوں سے متعلق مختلف سیاسی و علمی آرا موجود ہیں، لیکن 2007ء میں اُن کی وطن واپسی اور اس موقعے پر منعقد ہونے والا عوامی اجتماع اُس دَور کے سیاسی منظرنامے کا اہم واقعہ تھا۔ اس واقعے کو متوازن انداز میں بیان کرنے کے لیے ان کے کردار کے ساتھ عوامی شمولیت، سیاسی حالات، دہشت گردی کے خطرات اور شہداء کے خاندانوں کے تجربات کو جگہ دینا بھی ضروری ہے۔

جمہوری نظام کی مضبوطی انتخابات، پارلیمان، آزادانہ سیاسی سرگرمیوں، پُرامن اختلاف، قانون کے یک ساں اطلاق اورشہریوں کے تحفّظ سے بھی وابستہ ہے۔ جب مختلف طبقات کو اپنی آواز بلند کرنے کے مواقع میسّر ہوں اور سیاسی اختلاف تشدّد میں تبدیل نہ ہو، تو جمہوری اداروں پر اعتماد کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اِسی لیے سانحۂ کارساز کی یاد کو محض ایک سیاسی جماعت سے جوڑنے کی بجائے انسانی جان کی حُرمت، شہری حقوق اور پُرامن سیاسی شمولیت کے وسیع اصولوں سے مربوط کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف اورمعاونت بھی بیانیے کا لازمی حصّہ ہونی چاہیے۔ قانونی کارروائی کی پیش رفت کے ضمن میں قابلِ اعتماد معلومات، متاثرین کی شناخت، دست یاب سماجی معاونت اور ضرورت کے مطابق بحالی کے اقدامات ریاستی و معاشرتی ذمّےداریوں میں شامل ہیں اور ان امور پر گفتگو کرتے ہوئے غیر مصدّقہ دعووں سے گریز اور مستند دستاویزات پرانحصار ضروری ہے، کیوں کہ انصاف کی بنیاد دُرست معلومات اور منصفانہ عمل ہی پر قائم ہوتی ہے۔

آج جب کہ پاکستان کو متعدد سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز درپیش ہیں، تو سانحۂ کارساز کی یاد امن اور برداشت کی اہمیت کو پھر سےاُجاگر کرتی ہے۔ معاشرے میں اختلافِ رائے کو جگہ دینا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت، تشدّد کے خلاف واضح اجتماعی مؤقف اور اداروں کی جواب دہی ایسے اصول ہیں کہ جو شہریوں کے اعتماد کو تقویّت دے سکتے ہیں۔

ان اصولوں پر عمل درآمد کسی ایک دن یا ایک تقریر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ مسلسل ادارہ جاتی اور سماجی کوششوں کا حصّہ ہونا چاہیے۔ 18 اکتوبر 2007ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی قربانیوں کو انسانی وقار، امن، انصاف اور عوامی شمولیت کے عزم سے جوڑا جائے۔ ان کے ناموں کو یاد رکھنا، ان کے خاندانوں کے ساتھ ہم دردی اور احترام کا برتاؤ کرنا اور ایسے انتظامات کے لیے آواز اُٹھانا کہ جن سے آئندہ کسی اجتماع میں شہریوں کی جان خطرے میں نہ پڑے، ہماری اجتماعی ذمّے داری ہے۔

سانحۂ کارساز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف ماضی کے واقعات کا مجموعہ نہیں، یہ حال کی ذمّے داریوں اور مستقبل کے انتخاب پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔ شہداء کی یاد کے ضمن میں سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان کی جان اورعزّت کا احترام کیا جائے، دہشت گردی کے خلاف قانون اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جائےاور جمہوری عمل کو محفوظ، جامع اور پُرامن بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریق اپنی ذمّےداریاں ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ سانحۂ کارساز کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ زخمیوں اور متاثرین کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور پاکستان کو امن، سلامتی، انصاف، برداشت اور مضبوط جمہوری اداروں کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔

(مضمون نگار، حکومتِ سند ھ کی ترجمان کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید