وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں ہے بہت جلد اسے حتمی شکل دی جائے گی۔
اسلام آباد میں ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کریں گے۔
شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن ایسوسی ایشن (GSMA) کے مطابق پاکستان نے صنفی ڈیجیٹل فرق کم کرنے میں تیز ترین پیشرفت کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی سال کے دوران 3 نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز لینڈ کی گئیں ہیں اور ملک میں بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے لیے نئی کیبل روٹس پر بھی کام جاری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے اور اب پاکستان میں فائبر براڈ بینڈ ہوم پاسز کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
وفاقی وزیرِ آئی ٹی نے مزید کہا ہے کہ مارچ 2026ء میں 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی سے پاکستان میں فائیو جی متعارف کرائی گئی، فائیو جی سروسز کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی حاصل کی اور اس کے لیے اسمارٹ فون کی شرط نہیں رکھی گئی۔
وفاقی وزیرِ آئی ٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں جبکہ صرف ایشیا پیسیفک میں تقریباً 48 فیصد آبادی انٹرنیٹ سے محروم ہے۔