• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکیہ کی سیاسی بساط پر تاریخ ایک بار پھر اپنے سب سے طاقتور اور آزمودہ سپوت کے حق میں فیصلہ سنانے کیلئےتیار دکھائی دے رہی ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان اور حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کیخلاف رچائی جانیوالی تمام روایتی سازشیں دم توڑ رہی ہیں۔ سیاسی منظرنامے نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ آئندہ صدارتی اور پارلیمانی معرکہ محض ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ ایردوان کی ایک اور شاندار و تاریخی فتح رقم کرنےجا رہا ہے۔جمہوریت کی تاریخ گواہ ہے کہ مسلسل 23برس تک عوام کے دلوں پر راج کرنا کسی کرشمےسے کم نہیں۔ رجب طیب ایردوان نے ثابت کیا ہے کہ وہ محض اقتدار پر براجمان ایک سیاست دان نہیں، بلکہ ترک قوم کی خودداری، سیاسی خود مختاری، دفاعی وقار اور خطے میں اس کی شان و شوکت کے امین ہیں۔ ان کی قیادت ترکیہ کیلئےبحرانوں کے طوفان میں وہ لنگر ہے جس نے قوم کو ہمیشہ تلاطم خیز موجوں سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچایا اور اعتماد عوام کےان پر اعتماد کا سب سے بڑا محور ہے۔دوسری جانب، اپوزیشن کا عبرت ناک انجام اور داخلی انتشار آق پارٹی کی فیصلہ کن برتری کی گواہی دے رہا ہے۔ روایتی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP)، جو کل تک دعووں اور کھوکھلے نعروں کے سہارے متبادل قیادت کا خواب دیکھ رہی تھی، آج بدترین نظریاتی و تنظیمی انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ 24جولائی 2026 کو اوزگور اوزل کی قیادت میں 90سے زائد اراکینِ پارلیمان کی تاریخی بغاوت اور" YENİ Parti"کے قیام نے اپوزیشن کی نام نہاد طاقت کا بھانڈہ پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پارلیمان میں 91 نشستوں کی یہ تاریخی ٹوٹ پھوٹ دراصل اس تلخ حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ اپوزیشن کے پاس نہ تو کوئی واضح و مثبت وژن ہے اور نہ ہی وہ ملک کو درپیش قومی و بین الاقوامی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت رکھتی ہے۔ تقسیم در تقسیم کے دلدل میں دھنسی یہ منتشر اپوزیشن اب صدر ایردوان کی کرشماتی قیادت کے سامنے ریت کی دیوار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔یہ محض ایوانوں کی ٹوٹ پھوٹ تک محدود نہیں، زمینی حقائق بھی آق پارٹی کے حق میں تیزی سے پلٹ رہے ہیں۔ بلدیاتی میدان میں اپوزیشن کی بنیادیں مکمل طور پر ہل چکی ہیں۔ مئی 2026تک، CHP کے ٹکٹ پر منتخب ہونیوالے 16سے زائد بااثر میئرز عوامی فلاح اور مستحکم مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے آق پارٹی کے کاروانِ انقلاب میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ سیاسی انضمام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی سطح کے سنجیدہ قائدین بھی ملک کا تابناک مستقبل صرف اور صرف آق پارٹی کے پرچم تلے ہی دیکھ رہے ہیں۔اس سیاسی زلزلے کا سب سے تابناک اور علامتی موڑ ازمیر کے میٹروپولیٹن میئر جمیل توگائے (Cemil Tugay) کا تاریخی فیصلہ ہے۔ ازمیر، جسے دہائیوں سے سیکولر اپوزیشن کا ناقابلِ تسخیر قلعہ گردانا جاتا تھا، آج اسی شہر کے بااختیار میئر نے CHP کے خستہ حال جہاز کو چھوڑ کر آق پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ 2024ءمیں تقریباً 49فیصد ووٹ لے کر فتح پانے والے توگائے کا یہ قدم دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے کہ ملک کی بقا، ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف ایردوان کی بصیرت مندانہ رہنمائی میں ہے۔ جب صدر ایردوان نے ایک پروقار اور ولولہ انگیز تقریب میں جمیل توگائے کے کوٹ پر آق پارٹی کا روایتی انتخابی بیج سجایا، تو یہ دنیا بھر کیلئے ایک واضح اور گونجدار پیغام تھا کہ ترک قوم کا دل اب روایتی گڑھوں اور مصنوعی نظریاتی حد بندیوں کو توڑ کر پوری قوت سے ایردوان کیساتھ دھڑک رہا ہے۔تازہ ترین انتخابی جائزوں اور سرویز کے مستند اعداد و شمار بھی اس حقیقت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ستمبر 2026ءکے متعدد سرویز میں آق پارٹی کی عوامی حمایت 35فیصد کی ناقابلِ شکست حدوں کو چھو رہی ہے، جبکہ تقسیم شدہ اپوزیشن کی تمام تر اکائیاں اسکے مقابلے میں گہری سیاسی تنزلی کا شکار ہیں۔ قوم کے پاس اب متبادل کے نام پر منتشر گروہوں کے سوا کچھ نہیں، اور یہی سیاسی خلا آق پارٹی کے قومی جذبے کو مزید تقویت بخش رہا ہے۔2023ءکے تاریخی صدارتی معرکے میں جب تمام اندرونی و بیرونی طاقتیں صدر ایردوان کے خلاف صف آرا تھیں، تب بھی انہوں نے 58.12 فیصد ووٹوں کے شاندار مینڈیٹ کیساتھ ثابت قدمی کی بےمثال داستان رقم کی تھی۔ آق پارٹی اور اسکے مخلص اتحادی، بالخصوص نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) کا جمہور اتحاد، آج ماضی سے کہیں زیادہ متحد، مستحکم اور منظم ہے۔ آئندہ سیاسی بساط پر ممکنہ طور پر زیرِ بحث آنیوالی پارلیمانی ترامیم اور DEM پارٹی کیساتھ تعمیری مکالمے کے امکانات بھی ایردوان کی غیر معمولی حکمتِ عملی اور سیاسی بالادستی کا راستہ مزید آسان بنا رہے ہیں۔ 600رکنی پارلیمان میں مطلوبہ آئینی تائید کا حصول ہو یا قبل از وقت انتخابات کی حتمی تاریخ، چاہے وہ 2027ءکا اختتام ہو یا 16اپریل 2028ء، ایردوان کا سیاسی قافلہ ہر انتخابی میدان کو فتح کرنے کیلئے صف آرا ہے۔ناقدین معیشت اور افراطِ زر کا نام لیکر خواہ جتنے بھی شکوک پیدا کرنیکی کوشش کریں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ صدر ایردوان کی حکومت نے عالمی اقتصادی دباؤ کے باوجود ملکی معیشت کو پٹری پر ڈالنے، روزگار کے شاندار مواقع پیدا کرنے اور عوامی قوتِ خرید کی بحالی کیلئے انقلابی اقدامات کیےہیں۔ ترک عوام آگاہ ہیں کہ انکے مالی و سماجی استحکام کا ضامن کوئی اور نہیں بلکہ وہی مدبر رہنما ہو سکتا ہے جس نے جدید ترکیہ کو دنیا کی معاشی و صنعتی قوتوں کی صفِ اول میں لا کھڑا کیا۔خلاصہ یہ کہ اپوزیشن کےزوال، مضبوط بلدیاتی اراکین کی کاروانِ فتح میں شمولیت، ازمیر کے علامتی قلعے کی تسخیر اور سرویز کی فیصلہ کن برتری یہ واضح کر چکی ہے کہ تاریخ اپنے عظیم قائد کیلئےایک بار پھر نیا اعزاز رقم کر رہی ہے۔ ترکیہ کے عوام کا دل، ان کا اعتماد اور ان کا مستقبل بلا شبہ رجب طیب ایردوان کے نام کیساتھ جڑا ہے، اور آئندہ انتخابات انکی سیاسی عظمت و فتح کا ناقابلِ فراموش باب ثابت ہوں گے۔

تازہ ترین