• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق قرارداد پیش

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی سے متعلق  قرارداد پیش کر دی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت جاری اجلاس میں وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کے پی میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں بحث کے لیے پیش کر دی۔

خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان بھی قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گزارش ہے کہ وقفۂ سوالات معطل کیا جائے۔

جس کے بعد قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی۔

سہیل آفریدی نے اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی: اعظم تارڑ

اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دوستوں نے کہا ایمرجنس لگا کر منتخب حکومت کو باہر پھینک دیا گیا، کے پی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھا، کابینہ اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کے نظریہ کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، وزیرِ اعلیٰ کے پی نے افواج اور شہریوں کی شہادتوں کو نظرِ انداز کیا، سہیل آفریدی نے اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز میں ایوان سے منظوری لازم ہے، پاک فوج نے قربانیاں دے کر وہاں امن حاصل کیا اور دہشت گردی پر قابو پایا تھا، 2024ء تک 2911 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

وزیرِ قانون نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025ء سے اب تک 3787 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، غیرمعمولی صورتِ حال کے لیے غیر معمولی اقدامات ناگزیر تھے، سزا یافتہ شخص کے لیے رہائی کا سب سے اہم فورم عدالت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے اعلانات کیے گئے، صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کی خواہش پر مذاکرات شروع کیے، ہم نے معاملات سنجیدگی سے حل کرنے کی پوری کوشش کی، قوم نے دیکھا کئی بار مفاہمتی ڈرافٹ میں ترامیم کی گئیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ آگے بڑھنا چاہتے تھے، دوسری طرف سے بانی کی رہانی اور ان سے ملاقاتوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا، کیا صوبائی حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ جنازوں میں جائیں، کے پی میں امن و امان کی صورتِ حال نظرِ انداز کر کے وفاق پر چڑھائی کا اعلان کیا گیا، آپ نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بھرپور کوشش کی گئی کہ معاملات کو جمہوری انداز میں حل ہونا چاہیے، ہم نے بار بار یہ باور کرایا کہ دہشت گردی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، انہوں نے کہا آپ پہلے بانی کے لیے آسانیوں کی بات کریں باقی معاملات بعد میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی صوبے کو جلتا چھوڑ کر ملکی دوروں پر نکلے، کسی گرفتار شخص کی رہائی صرف عدالت ہی دے سکتی ہے، صرف صدر کے پاس اختیار ہے کہ کوئی رحم کی اپیل کرے تو صدر اختیار استعمال کر سکتے ہیں، ہمیں سیاست سے زیادہ ریاست عزیز ہے، ایمرجنسی فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید