ایک معروف ریستوران پر سلاد کی ایک ڈیل بہت مقبول ہے، ڈیل یہ ہے کہ آپ سلاد بار پر جائیں آپ کو ایک رکابی تھما دی جائیگی، آپ جتنا چاہے اسے لاد لیں، اب یہ آپکی مہارت اور ظرف پر منحصر ہے کہ آپ پلیٹ پر پہاڑ کھڑا کرتے ہیں یا پہاڑی۔ اس ہنر کے ماہرین کی لبا لب پلیٹیں دیکھ کر اپنی کوتاہیء فن یاد آتی ہے، سیلِڈ بار سے اپنی میز تک کے سفر میں یہ گُنی مرد و زن ایک ایک قدم پھونک پھونک کے رکھتے ہیں کہ مبادا الٹی ہو جائیں سب تدبیریں۔
کل رات اس ریستوران میں یہ منظر دیکھ کر ہمیں انگریزی زبان کا ایک محاورہ یاد آیا: My platter is too full ۔ یہ محاورہ ایسے موقعے پر استعمال کیا جاتا ہے جب آپ کہنا چاہ رہے ہوں کہ میں انتہائی مصروف ہوں اور کسی مزید کام کیلئے میرے پاس وقت نہیں ہے، یعنی میری پلیٹ میں مزید ایک بھورا ڈالنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ اسی مفہوم کے اور بھی محاورے ہیں
، Bite off more than you can chew
یا اسی طرح Have bigger fish to fry ۔ اردو زبان میں اس مفہوم کےمقولے اشیائے خور و نوش سے ماخوذ نہیں ہیں، مثلاً سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے، سر اٹھانے کی، آنکھ اٹھانے کی مہلت نہیں ہے۔ اور شہزادؔ احمد بہ طور شاعر فرماتے ہیں "شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمعِ محفل...سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو۔" یہ سب محاورے، کہاوتیں، شعر ہمیں خیبر پختون خوا میں گورنر راج لگنے پر یاد آ رہے ہیں۔ ہم حکومت کی "پلیٹ" کی طرف دیکھتے تھے تو ایک انبار نظر آتا تھا، بد امنی کے پُلاؤ کا پہاڑ، غربت اور غرباء کی بوٹیاں، تعلیم و صحت کا شوربہ، کپیسٹی پیمنٹ کے کباب، پٹرول کی چٹنی، صوبوں کا اچار، خطے کا رائتہ، لگتا تھا کہ ایک کِھیل کی جگہ بھی نہیں بچی۔ لیکن ہم کوتاہ نظر ثابت ہوئے، ہم حکومت کے ہنر کو پہچان نہیں پائے، حکومت کو بھری ہوئی پلیٹ کو مزید بھرنے کا فن خوب آتا ہے، یوں کہیے کہ سرکار نے برج الخلیفہ کے اوپر ایک منزل اور ڈالنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔
پاکستان کے تین صوبوں میں ’’بیبے‘‘ وزرائے اعلیٰ پائے جاتے ہیں، خیبر پختون خوا کاوزیرِ اعلیٰ ’’شرارتی بچہ‘‘ سمجھا جاتا تھا جسکی وجہ سے ’’کلاس‘‘ کا ماحول خراب ہو رہا تھا، یہ بچہ اپنے استادوں سے بدتمیزی کرتا تھا، گالم گلوچ کا شوق رکھتا تھا اور نہ خود پڑھتا تھا نہ دوسروں کو پڑھنے دیتا تھا۔ 2024ءکے انتخابات کروانے والوں نے جو بندوبست سوچ رکھا تھا وہ باقی سب صوبوں میں"ٹھیک ٹھاک" چل رہا ہے، مگر کے پی میں یہ بندوبست نقشہ سازوں کیلئے ناقابلِ قبول ہوتا چلا گیا۔ پہلے دن سے یہ معلوم تھا کہ پی ٹی آئی حکومت وفاقی حکومت کیلئے ایک مسلسل چیلنج ہو گی، مگر جمہوری نظام کا میک اپ برقرار رکھنے کیلئے یہ کڑوی گولی نگلنی ضروری تھی۔ اب یہ میک اپ بہہ گیا ہے۔ کے پی کی سیاسی صورتِ احوال آج بھی لگ بھگ وہی ہے جو انتخابات کے وقت تھی۔ دوسرے لفظوں میں کے پی میں کوئی سیاسی حل نکالنے کی کوششوں میں ناکامی کا اعتراف کر لیا گیا ہے۔ بلاشبہ، بد امنی کے پی کا بنیادی مسئلہ ہے، اس ضمن میں صورتحال مسلسل بگڑتی رہی ہے، کے پی حکومت پر الزام تھا کہ وہ افغان حکومت اور ٹی ٹی پی کی طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پالیسی سے متصادم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، اور اپنی اس ’’آزاد خارجہ پالیسی‘‘ کا اقرار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ بھی نہیں کیا تھا۔ سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے درمیان کامل ہم آہنگی دہشت گردی سے نپٹنے کی بنیادی شرط قرار دی گئی، اور نتیجتاً صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔
گورنر راج کو فسطائیت قرار دینے والوں کی دلیل سادہ ہے۔ بلوچستان کے معاملات کے پی سے بھی بگڑے ہوئے ہیں، وہاں ایک ’’بیبا‘‘ وزیراعلیٰ موجود ہے، جو مرکزی حکومت اور اداروں کے احکامات پر آمنا و صدقنا کا ورد بالجہر کرتا رہتا ہے۔ اس سب کے باوجود اگر بلوچستان کے حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں تو کے پی میں گورنر راج کیا توپ چلائے گا۔ حکومت نے اس دلیل کا اگر کوئی جواب دیا ہے تو وہ ابھی تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔
ویسے اگر ہمارے ہاں تاریخ سے سبق سیکھنے کا رواج ہوتا تو یقیناً اس "عملِ صالحہ" سے گریز کیا جاتا، ماضی میں جتنی مرتبہ صوبائی حکومتیں گھر بھیج کر گورنر راج/ایمرجنسی نافذ کی گئی، اس کا انجام عبرت انگیز ہوا ہے، نہ کبھی امن و امان بہتر ہو سکا، نہ روٹھے ہوئے شہریوں کو منایا جا سکا، نہ کوئی سیاسی مسئلہ حل ہوا، بلکہ الٹا نقصان ہوا اور شدید نقصان ہوا، ملک ٹوٹا، نفرت پھیلی، خلیج گہری ہوئی، مسلح جتھوں کی نفری بڑھی، اور علاقوں کی نفسیات میں وفاق دشمنی راسخ ہوتی چلی گئی۔ کیا اس دفعہ نتیجہ مختلف ہو گا؟ کیا اس دفعہ خیبر پختون خوا میں شانتی کا راج قائم ہو جائے گا، ناحق جانوں کا زیاں بند ہو جائیگا، اغوا کاروں کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا، امن و امان کے ثمرات عام پختون تک پہنچ جائینگے، صوبہ وفاق کے عشق میں مبتلا ہو جائیگا، اور کیا اگلے انتخابات میں صوبے کے عوام کوئی ’’مستحسن‘‘ فیصلہ سنائیں گے؟خوش گمانی اور سادہ لوحی میں فرق ہوتا ہے، ہم ان عشوہ گروں سے واقف ہیں، ہم ان غمزہ گزاروں کو جانتے ہیں، ہم ان گل فروشوں کے ڈسے ہوئے ہیں...وہی پلکوں کا جھپکنا وہی جادو تیرے۔