آج سے ٹھیک 94 سال قبل 15 اکتوبر 1932 کو برصغیر میں سول ایوی ایشن کی تاریخ کا ایک ایسا یادگار باب لکھا گیا جس نے مستقبل کے فضائی سفر کی بنیاد رکھی۔
اس تاریخی دن 28 سالہ نوجوان اور بھارت کے پہلے لائسنس یافتہ پائلٹ جہانگیر رتن جی دادا بھائی المعروف جے آر ڈی ٹاٹا نے ایک چھوٹے سے سنگل انجن والے "ڈی ہیولینڈ پس موتھ" طیارے میں کراچی کے ڈرگ روڈ ایروڈروم سے اڑان بھری تھی۔
یہ مسافر پرواز نہیں تھی بلکہ اس میں برطانیہ کے "امپیریل ایئرویز" کے ذریعے لندن سے کراچی پہنچنے والی 25 کلوگرام وزنی ڈاک رکھی گئی تھی۔ جس پر 4 آنے کا ٹکٹ چسپاں تھا۔
ماہرین کے مطابق اس وقت طیارے میں کوئی ریڈیو تھا اور نہ ہی زمین پر رہنمائی کے لیے نیویگیشن سسٹم موجود تھا۔ ریکارڈ کے مطابق جے آر ڈی ٹاٹا نے تقریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑان بھرتے ہوئے مٹی کے بنے کچے رن وے پر طیارہ اتارا اور پھر اڑایا تھا۔
کراچی سے بمبئی کے جوہو ایئر پورٹ تک کی پرواز کا درمیانی اسٹاپ احمد آباد تھا۔ طیارہ احمد آباد میں ایندھن بھرنے کیلئے رکا تو وہاں پٹرول کے کین ایک بیل گاڑی پر لاد کر طیارے تک پہنچائے گئے تھے۔
اس واحد پرواز نے ٹاٹا ایئر سروسز اور پھر بعد میں ٹاٹا ایئرلائنز کی بنیاد رکھی۔ یہی کمپنی آگے چل کر 1946 میں ایئر انڈیا بنی اور 1948 میں اس نے اپنی پہلی انٹرنیشنل پرواز لندن کیلئے روانہ کی۔
دستیاب ڈیٹا کے مطابق اپنے کام کے پہلے ہی سال میں اس چھوٹی سی ایئر لائن نے 2 لاکھ 57 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ 155 مسافروں کو منزل تک پہنچایا اور 10 ٹن سے زائد ڈاک منتقل کی۔
15 اکتوبر 1932، تاریخی دن صرف ایک پرواز کا آغاز نہیں تھا بلکہ یہ اس عظیم خواب کی تعبیر تھی جس نے آگے چل کر برصغیر کو دنیا بھر کے آسمانوں سے جوڑ دیا۔
