• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسکول کی عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا، رپورٹ کمشنر پشاور کو ارسال

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی 

پشاور میں گرنے والی اسکول کی عمارت گنجان آباد علاقے میں واقع اور تین منزلوں پر مشتمل تھی، ابتدائی مشاہدات کے مطابق اسکول کی عمارت کا ساختی ڈھانچہ کمزور تھا، اسکول کی پہلی منزل کے کلاس روم کا ڈھانچہ گر کر گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر گرا۔

دیر کالونی اسکول کی چھت گرنے کے واقعہ کی رپورٹ ڈی سی پشاور نے کمشنر پشاور ڈویژن کو ارسال کردی، جس کے مطابق حادثے کے وقت پہلی منزل اور گراؤنڈ فلور، دونوں کلاس رومز میں طلبہ موجود تھے، دونوں کلاس رومز میں طلبہ کی موجودگی کے باعث حادثے میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔

صبح 8 بجکر 48 منٹ پر ریسکیو کنٹرول روم کو اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملی، ریسکیو کی ابتدائی ٹیم سات منٹ کے اندر واقعے کی جگہ پر پہنچی، ریسکیو کی ابتدائی ٹیم نے واقعے کی جگہ پر پہنچتے ہی ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔

رپورٹ کے مطابق اسکول حادثے کے مقام پر دو ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیاں بھی امدادی آپریشن میں شریک رہیں، اسکول عمارت گرنے کے حادثے میں 100 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا، ملبے تلے پھنسے طلبہ کو نکالنے کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے دبے طلبہ کو نکالنے کے ساتھ زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔

زخمی طلبہ کو طبی علاج کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا، دونوں اسپتالوں میں مجموعی طور پر 89 مریض لائے گئے، واقعے میں دونوں اسپتالوں کے اعداد و شمار کے مطابق 34 افراد جاں بحق ہوئے، دونوں اسپتالوں میں 52 مریض ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکول کی عمارت گرنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، واقعے کی تفصیلی تکنیکی تحقیقات کی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید