وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی فوری مداخلت پر پوسٹل لائف انشورنس کمپنی (PLIC) کے متعدد پالیسی ہولڈرز کی تقریباً 2 سال سے رکی ہوئی ادائیگیوں کا معاملہ 24 گھنٹے میں خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔
کینیڈا میں مقیم محمد عمران اور پاکستان سے لبنیٰ اسد سمیت دیگر شکایت کنندگان کے مطابق انہوں نے اپنی میچور پالیسیوں کی رقوم نہ ملنے پر پہلے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔
وفاقی محتسب نے کراچی کے جنرل منیجر کو ادائیگیاں فوری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی، تاہم شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس حکم کے باوجود مزید 6 ماہ تک ٹال مٹول جاری رہی۔
متاثرین نے الزام عائد کیا کہ انہیں مختلف بہانوں سے دفاتر کے چکر لگوائے گئے، نئے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے اور بعض اہلکاروں نے رشوت بھی طلب کی۔ اپنی جمع شدہ رقوم کے حصول میں مسلسل تاخیر سے انہیں مالی مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
شکایت کنندگان کے مطابق معاملہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے علم میں آنے پر انہوں نے فوری کارروائی کی ہدایت دی، جس کے نتیجے میں 24 گھنٹے کے اندر رکے ہوئے چیکس کی ادائیگی یقینی بنادی گئی۔
محمد عمران، لبنیٰ اسد اور دیگر پالیسی ہولڈرز نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت مداخلت سے طویل انتظار ختم ہوا اور عوامی شکایات کی شنوائی پر اعتماد بحال ہوا۔