ہمارے درمیان جو بہت زیادہ پڑھے لکھے اور سیانے لوگ ہیں وہ اکثر ’جاہل عوام‘ کو یہ فہمائش کرتے ہیں کہ تم لوگ سرمائے کی قدر نہیں کرتے، دولت مندوں سے بغض رکھتے ہو اور امرا کو شک اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔ یہ لوگ مغرب اور امریکہ کی مثالیں دے کر کہتے ہی کہ وہاں وارن بوفوں کو ’رول ماڈل‘ تسلیم کیا جاتا ہے، ہارورڈ اور آکسفورڈمیں انکے کاروباری اسرارورموز پڑھائے جاتے ہیں، جامعات میں انہیں بحیثیتِ معمارِ قوم مدعو کیا جاتا ہے، لوگ ان کی کامیابی کا فلسفہ سمجھنا چاہتے ہیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی آرزو کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہمارا حال اس مراثی جیسا ہے جو ایک سیٹھ کا عالیشان محل دیکھ کر للچائی نظروں کے ساتھ بددعا دیتے ہوئے بولا تھا کہ ٹھیک ہے، مگر بم کے آگے نہیں ٹک سکے گا! لیکن پڑھے لکھے سیانے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اور امریکہ کے روساء میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بات یہ نہیں کہ مغرب کے سب ارب پتی دودھ کے دھلے ہیں اور ہمارے تمام امرا نے نا جائز ذرائع سے دولت کمائی ہے، مسئلہ ہمارے دیسی نوابوں کی ’فحش‘ حرکات اور بے حسی کا ہے جسکی کوئی معافی نہیں ہو سکتی۔
یہ ڈالروں میں کھیلنے والے ارب پتی ہیں جن کی ہوس ختم ہونے میں ہی نہیں آتی، کبھی یہ ایکسپورٹر کا سوانگ رچا کر سبسڈی اور مراعات کی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں تو کبھی آٹو انڈسٹری کی آڑ میں قومی خزانے سے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر جو دولت اکٹھی کرتے ہیں اسے ’دھونے‘ کیلئے نت نئے ڈرامے بھی رچاتے ہیں۔
ایسے ہی ایک ارب پتی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ انہوں نے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنے خاندان کے نام سے لائق طلبا کیلئےچند وظائف جاری کیے تھے، اب لوگوں نے مشورہ دیا ہے کہ انڈر گریجویٹ طلبا کی بھی مدد کی جائے چنانچہ اب وہ لمز میں ہر سال چھ طلبا کی مکمل تعلیم کا خرچ اٹھائیں گے۔ اعلان کے ساتھ ویڈیو بھی تھی، جیسی ایسے اعلانات کے ساتھ ہوا کرتی ہے اور نیچے تعریفی پیغامات کی قطار لگی تھی۔لیکن ایک صاحب نے اس اعلان کے جواب میں جو لکھا وہ آج اِس کالم کی شانِ نزول کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویسا ہی کام ہے جیسے ابوظہبی نے اپنی ساکھ بہتر بنانے کیلئےمانچسٹر سٹی فٹ بال کلب خرید لیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ اس خاندان کی دولت دسیوں ہزار کسانوں کی بدحالی اور بڑھتی ہوئی غربت پر کھڑی ہے اور اُن غریبوں کی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر آپ کی نسلیں ارب پتی بنیں۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی مقصد نیکی کمانا اور اپنے گناہ دھونا ہے تو پھر یہ ڈرامے بازی چھوڑو اور اُن بدحال لوگوں پر اتنا پیسہ واپس لگاؤ کہ تمہیں خود تکلیف محسوس ہو، مثلاً اپنی دولت کا آدھا حصہ۔ کسانوں کو کھاد اور بیج کیلئے قرض دو، انہیں فصل کی درجہ بندی سکھاؤ، انہیں درست منڈی تک پہنچاؤ، پیداوار بڑھانے کا علم ان تک منتقل کرو۔ انہوں نے لکھا کہ اس کام میں جو خوشی ہے وہ حقیقی ہے اور اس کی قیمت ادا کرنا بنتا ہے ورنہ دوسرا راستہ وہی کہ تمام عمر یہ بے جان دکھاوا کرتے رہو۔
کچھ باتیں سیدھی دل کو جا کر لگتی ہیں، یہ بھی ایسی ہی تھی۔ اربوں روپوں کی رعایتیں سمیٹ کر چھ وظیفے بانٹ دینا نو سو چوہے کھانے سے بھی افضل ہے۔ اور یہ تو ایک سرمایہ دار کی چھوٹی سی مثال تھی، یہاں تو ’جیہڑا پنّوں لال ہے۔‘ ہر شعبے کا جغادری (Rent seeker) ریاست سے کچھ نہ کچھ لے رہا ہے، کوئی سبسڈی اینٹھ رہا ہے، کوئی ٹیکس کی رعایت لے رہا ہے، کوئی درآمدی ڈیوٹی کی آڑ میں صارف کی جیب کاٹ رہا ہے۔ اور پھر یہی لوگ جب ٹی وی پر آتے ہیں تو اِن کا بھاشن سننے والا ہوتا ہے کہ اس ملک میں سرمایہ دار کی عزت نہیں، ہمیں بجلی سستی دے دی جائے تو ہم برآمدات میں دس ارب ڈالر کا اضافہ کر دیں گے، آٹو پالیسی ہماری مرضی کی بن جائے تو گاڑیوں کا سامان درآمد کرنا بند کر دیں گے۔
میں جب سے پیدا ہوا ہوں یہی دعوے سن رہا ہوں، دہائیاں گزر گئیں، ہنڈا اور ٹیوٹا کی فرمائشیں ختم نہیں ہوئیں۔1983 میں ڈیلیشن پروگرام شروع ہوا جو 2006 تک چلا، مطالبہ سادہ تھا، گاڑی یہاں اسمبل کرو، مقامی پرزوں کا حصہ بڑھاتے جاؤ اور بدلے میں درآمدی ڈیوٹی کا لطف اٹھاؤ، نہ برآمد کی کوئی شرط نہ رعایت ختم ہونے کی کوئی تاریخ۔
2007ءمیں جو آٹو پالیسی آئی اس کے پیداواری اہداف 2012ءتک ہر سال ناکام رہے۔ کل ملا کر اس صنعت کو 42برس کا تحفظ مل چکا ہے۔ اور نتیجہ صفر بٹا صفر۔ چار دہائیوں میں اگر کوئی بچہ بالغ نہ ہو سکے تو اس کا علاج دودھ کی بوتل نہیں ہوتی۔ دنیا کے سرمایہ دار کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف کرواتے ہیں، کمپیوٹر، سافٹ ویئر، مائیکروچپس یا کوئی ایسا کاروباری ماڈل دیتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل دے۔ ہمارے ارب پتیوں نے کیا دیا ہے؟ وہی چینی جو دنیا بھر میں بنتی ہے، وہی کپڑا جو بنگلہ دیش اور ویت نام بھی بناتے ہیں، وہی گاڑی جو جاپان نے ڈیزائن کی اور ہم نے یہاں پرزے جوڑ کر دگنے دام پر بیچ دی۔ جو بنیان تیس برس پہلے ایکسپورٹ ہوتی تھی وہی آج بھی ہو رہی ہے۔ اِس میں کون سا ماڈل ہے جو کسی بزنس اسکول میں پڑھایا جائے؟ ہاں، ایک ماڈل ضرور ہے، ریاست سے رعایت کیسے لی جائے، افسروں کو کیسے شیشے میں اتارا جائے۔ یہ ماڈل پڑھایا جا سکتا ہے، مگر ہارورڈ میں نہیں، سیٹھ یہ ماڈل اپنی اولاد کو پڑھاتا اور وہ اِس میں جدت پیدا کرکے غریبوں میں چھ وظیفے بانٹ دیتی ہے۔
ہمارے سرمایہ دار نے اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو بھاشن دینے کی بجائے شوگر مل والا اپنی دولت کا آدھا حصہ ان کسانوں پر لگائے جن کا گنا اس نے اونے پونے خریدا، ایکسپورٹر اپنے مزدوروں کو وہ اجرت دے جس پر انہیں دو وقت کی روٹی کیلئےقرض نہ لینا پڑے اور آٹو انڈسٹری والا صارف کو اُس قیمت میں گاڑی دے جس قیمت میں بھارت میں بِکتی ہے۔ لیکن یہ کام ہمارے سرمایہ داروں کو وارا نہیں کھاتے۔ جب چھ وظیفوں سے امیج بلڈنگ ہو سکتی ہو تو اتنے پاپڑ بیلنے کی کیا ضرورت! اور رہی بات اُس مراثی کی، تو اس نے عالیشان گھر دیکھ کر جو کہا تھا وہ بد دعا نہیں تھی، پیش گوئی تھی۔