سردیوں میں دھوتی کے ذکر سے ہی جسم پر کپکپی سی طاری ہو جاتی ہے، اس لباس کی وہی خصوصیات ہیں جو اسٹیشن کے قریب واقع ہوٹلوں کے منتظمین نے ہوٹل کے باہر لکھ کر لگائی ہوئی ہیں یعنی کھلے ہوادار کمرے ۔ ایک دفعہ سردیوں میں مجھے ایبٹ آباد کے ایک اسی طرح کے ہوٹل میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا، مجھے علم نہیں تھا کہ اس ہوٹل کے کمرے سردیوں میں بھی کھلے اور ہوادار ہیں، کمرے اتنے کھلے تھے کہ ان میں ایک چار پائی پوری سہولت سے سما سکتی تھی اور انہیں ہوادار بنانےکیلئےکھڑکیوں اور روشن دانوں میں شیشے نہیں رکھے گئے تھے چنانچہ مجھے اپنی زندگی کی یہ یادگار رات آج تک نہیں بھولی ، رت جگے کی صحیح لذت کا اندازہ مجھے اسی روز ہوا۔
میرے بہت سے دوست سارا دن انگریزی سوٹ میں پھنسے پھنسے پھرتے ہیں مگر گھر آتے ہی وہ کافروں کا یہ لباس اتار پھینکتے ہیں اور دھوتی بنیان پہن کر حقہ سامنے رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اطمینان کا لمبا سانس لیتے ہیں، یہ دوست انگریزی لباس کی افادیت کے بھی قائل ہیں ان کے بقول اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جب اُتاریں تو بہت مزا آتا ہے تاہم دھوتی کی فضیلت کے یہ زیادہ قائل ہیں۔
اس لباس کی ایک خصوصیت تو یہ دوست وہی بتاتے ہیں جو میں نے اوپر بیان کی ہے یعنی اس کا کھلا اور ہوادار ہونا ۔ اس کی تشریح یہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ کام کاج کے دوران پسینے کی نمی اور ہوا کی کھلی ڈلی آمد و رفت سے یہ لباس ائر کنڈیشنز کا کام دیتا ہے ، دوسری خصوصیت ان دوستوں کے نزدیک دھوتی کا کثیر المقاصد ہونا ہے، اس کے پلو سے ناک بھی پونچھا جاسکتا ہے، زمین پر بیٹھنے سے پہلے اسی دھوتی سے زمین کا مطلوبہ ٹکڑا بھی صاف کیا جا سکتا ہے اور اگر گھر میں کوئی نہ ہو تو اس سے دستر خوان کا کام لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
تاہم دھوتی کا صحیح استعمال اگر میں نے کسی کو کرتے دیکھا ہے تو وہ اپنا جورا پہلوان ہے۔ اس نے منشاء یاد کے علامتی افسانے تو نہیں پڑھے لیکن وہ دھوتی کے علامتی استعمال سے بخوبی واقف ہے، جورا ایک دشمن دار آدمی ہے، وہ جب گھر سے سائیکل تھامے نکلتا ہے تو تنگ گلی کی وجہ سے وہ اس پر سوار نہیں ہوتا بلکہ سواری کیلئے کھلی گلی کا انتظار کرتا ہے لیکن اگر وہ سامنے سے اپنے دشمن کو آتا دیکھ لے تو پہلے کھنگورا مار کر اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور پھر ایک پاؤں پیڈل پر رکھ کر دوسری ٹانگ کو فضا میں پوری طرح پھیلا کر سائیکل کی گدی پر سوار ہو جاتا ہے۔ دھوتی اور بنیان میں ملبوس جورا پہلوان اگر سائیکل کے بغیر ہو تو دشمن کو سامنے پاکر دھوتی کے پلو سے ہوا لینے لگتا ہے اور سردیوں میں بھی کہتا جاتا ہے بڑی گرمی اے۔لباسوں میں ایک لباس اور بھی ہے جو دھوتی کی طرح بہت منفرد ہے، یہ چوڑی دار پاجامہ ہے، یہ لباس اپنے پہننے والے کی ٹانگوں کو شکنجے کی طرح جکڑ لیتا ہے دوسرے کسی لباس میںچنٹیں پڑی ہوں تو وہ ناگوار گزرتی ہیں، یہ واحد لباس ہے جس کی خوبصورتی اس کی چنٹوں میں ہی ہے، چوڑی دار پاجامہ پہننے اور اتارنے کیلئے کسی پہلوان کی مدد لینا پڑتی ہے، اسی طرح اس میں چنٹیں ڈالنے کیلئے خاصا وقت درکار ہوتا ہے، میرے ہمسائے میں لکھنؤ کے ایک نواب صاحب یہ پاجامہ پہنا کرتے تھے، اب کافی عرصے سے چھوڑ چکے ہیں۔
میں نے پوچھا نواب صاحب کیا چنٹیں ڈالنے کی بک بک سے بچنے کیلئے آپ نے چوڑی دار پاجامہ پہننا ترک کر دیا ؟ شرما کر بولے نہیں حضور اس کے پہننے میں تو جو وقت ضائع ہوتا تھا، وہ تو ہوتا ہی تھا، مگر اسے اتارنے میں وقت کا جو ضیاع تھا ، بندے سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔
چوڑی دار پاجامے کی طرح ایک چوڑی دار جین بھی ہوتی ہے جو نئی نسل کی مغربی لڑکیاں پہنتی ہیں، یہ لوگ ہر میدان میں ہم سے آگے ہیں ، انہوں نے اس چوڑی دار جین کیلئے بھی کوئی تکنیک ایجاد کی ہوئی ہے چنانچہ انہیں اس حوالے سے وہ مشکل پیش نہیں آتی جو لکھنؤکے نواب صاحب کو پیش آتی تھی۔ نواب صاحب کو ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا چاہئے، اسکے نتیجے میں ان کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔
یہاں ایک اور لباس کا ذکر ضروری ہے، اسے پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام پہنتے ہیں اور اسے شلوار کہا جاتا ہے، عورتوں کی شلوار اور طرح کی ہوتی ہے اور مردوں کی شلوار اور طرح کی۔ پنجاب والے شلوار پر استعمال ہونے والے کپڑے کے ضمن میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں جبکہ سرحد، بلوچستان اور سندھ کے لوگ شلوار کے ضمن میں جس طرح فیاضی سے کام لیتے ہیں ، وہ اگر اس فیاضی سے ہاتھ کھینچ لیں تو پاکستان کی آدھی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہو کر رہ جائے ، ان کی ایک شلوار پر اتنا کپڑا لگتا ہے جتنا ایک سائبان پر لگتا ہے۔ تاہم وہ شلوار کی چنٹیں آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے کپڑے دھونے والی صابن انڈسٹری ایک عرصے سے خسارے میں جارہی ہے۔
یہ سب لباس اپنی جگہ مگر دھوتی ، دھوتی ہے۔ دھوتی پہن کر بلندی سے چھلانگ لگا ئیں تو یہ دھوتی پیرا شوٹ بن جاتی ہے اور یوں زمین پر گرنے سے چوٹ نہیں آتی ، تاہم اس لباس کے حوالے سے میرے کچھ ذاتی نوعیت کے تحفظات ہیں جسکی وجہ سے میں اس لباس کی سر پرستی سے تائب ہو چکا ہوں ۔ آخری دفعہ میں دھوتی باندھ کر سویا تھا صبح آنکھ کھلی تو یہ میں نے اوپر اوڑھی ہوئی تھی ، اس کے بعد سے میرے اور اس کے راستے جدا ہو گئے ہیں۔