دنیا بھر میں ہر سال 1 ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہو جاتی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025ء میں 645 ملین افراد بھوک کا شکار رہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق 2022ء میں 1.05 ارب ٹن خوراک ضائع ہوئی جس میں 60 فیصد حصہ گھروں، 28 فیصد ہوٹلوں اور دیگر غذائی مراکز جبکہ 12 فیصد دکانوں کا تھا۔
اس کے علاوہ پیدا ہونے والی 13 فیصد خوراک دکانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق دنیا میں ہر شخص سالانہ اوسطاً 132 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے، مالدیپ میں یہ مقدار 260 کلو گرام فی کس ہے جبکہ شام، ڈومینیکن ریپبلک، سیشلز، میکسیکو اور تیونس میں بھی سالانہ 210 کلو گرام سے زائد خوراک فی کس ضائع ہوتی ہے۔
گلوبل ہنگر انڈیکس کی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں افریقا کے 309 ملین، ایشیاء کے 292 ملین اور لاطینی امریکا و کیریبیئن کے 32 ملین افراد غذائی قلت کا شکار رہے۔
8 ممالک میں بھوک کی صورتِ حال تشویش ناک ہے جن میں 7 افریقی ممالک شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق خوراک کا ضیاع عالمی معیشت کو سالانہ 1 کھرب ڈالرز سے زائد کا نقصان پہنچاتا ہے، اس سے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 8 سے 10 فیصد اضافہ بھی ہوتا ہے۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق خریداری سے پہلے فہرست بنانا، خوراک درست طریقے سے محفوظ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا پکانا اور بچا ہوا کھانا دوبارہ استعمال کرنا ضیاع کم کرنے کے مؤثر طریقے ہیں۔