فٹبال کی دنیا میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا دی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یوراگوئے میں ایک ریفری نے روایتی پیلے اور سرخ کارڈز کے بجائے اسمارٹ فون جیسی الیکٹرانک ڈیوائس استعمال کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تجربہ کوپا یوراگوئے کے ایک میچ کے دوران کیا گیا، جہاں 15 اکتوبر کو ناسیونال اور رینٹسٹاس کے درمیان کھیلے گئے میچ میں ایک کھلاڑی کو پہلی مرتبہ ڈیجیٹل یلو کارڈ دکھایا گیا، اس میچ میں ناسیونال نے0-3 سے کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق میچ کے 12 ویں منٹ میں ریفری ایڈورڈو ویریلا نے رینٹسٹاس کے کھلاڑی خوان پابلو پلاڈا کو فاؤل پر ڈیجیٹل یلو کارڈ دکھایا، کسی بھی فٹبال میچ میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا یہ پہلا تجربہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ آلہ دیکھنے میں اسمارٹ فون جیسا ہے اور اس پر دو بٹن موجود ہیں، پیلا کارڈ دکھانے کے لیے پہلا بٹن دبایا جاتا ہے، جس سے اسکرین پیلی ہوجاتی ہے، جب کہ سرخ کارڈ دکھانے کے لیے دوسرے بٹن کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اسکرین سرخ رنگ کی ہو جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ڈیوائس کا مقصد صرف کارڈ دکھانا نہیں بلکہ میچ کے دوران ہونے والے واقعات کا ریکارڈ بھی خودکار طور پر محفوظ کرنا ہے، اس میں کھلاڑیوں کو ملنے والے کارڈز، گول، متبادل کھلاڑیوں کی تبدیلی اور دیگر اہم واقعات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیوائس یوراگوئے فٹ بال ایسوسی ایشن کے ڈیجیٹل میچ مینجمنٹ سسٹم تک منتقل کرنے کے لیے تیار کی ہیں تاکہ ریفریز کو نوٹ بک میں فیصلے لکھنے اور بعد میں انہیں کمپیوٹر پر درج کرنے کی ضرورت کم پڑے، یہ ڈیوائس وائی فائی کنکشن کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی تجربے کے دوران ایک اہم مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں اور ٹی وی پر میچ دیکھنے والوں کو اسکرین کے رنگ واضح طور پر پہچاننے میں دشواری ہوئی، جس کے باعث پیلے اور سرخ کارڈ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک میچ میں اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن روشنی کے نامناسب حالات میں اسکرین واضح نظر نہ آنے کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔
اب ڈیوائس تیار کرنے والی کمپنی اس کی اسکرین کے کناروں پر ایل ای ڈی لائٹس لگانے سمیت دیگر تبدیلیاں کرنے پر غور کر رہی ہے۔