• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

 دورانِ سماعت بیرسٹر گوہر نے عدالت سے ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، اسی دن ایڈوائزری کونسل تشکیل پائی، 38 ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوئے، ہمارے 12 اراکینِ قومی اسمبلی، 13 اراکینِ صوبائی اسمبلی اٹھائے گئے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے دفاتر گرائے گئے، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں توڑی گئیں، دیگر جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں چھوڑ کر ہماری کیوں توڑی جا رہی ہیں، ہم سے منڈیٹ لیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کیا جائے۔

چیئرمین تحریکِ انصاف نے کہا کہ ایک ٹولہ ہے جو پی ٹی آئی میں اور دیگر سیاسی جماعتوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے، ہم ایک ہیں، ایسا کیوں ہو رہا ہے، یہ غلط ہو رہا ہے، مائنز اینڈ منرلز کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن اس کو میں زیرِ بحث نہیں لایا۔ 

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کوئی دو رائے نہیں، ہم پرامن ہیں، دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں، جو ہو رہا ہے، اس سے بہت نفرت بڑھ رہی ہے۔

عدالت میں سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کر دیا، جس کے بعد درخواستوں پر سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید