• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

‎پاکستان و امریکا کیلئے ٹیکنالوجی میں تعاون انتخاب کا معاملہ نہیں، ضرورت ہے: پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ

---تصویر بشکریہ رپورٹر
---تصویر بشکریہ رپورٹر

‎ امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات رکھنا کسی انتخاب کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

‎رضوان سعید شیخ نے ڈیلس میں منعقدہ پاک یو ایس ٹیک کنیکٹ 2026ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 5 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل یہ دونوں ملک آئی ٹی سمیت ہر شعبے میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

تقریب قونصلیٹ جنرل آف پاکستان ہیوسٹن کے تعاون سے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور اوپن گلوبل کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں پاکستان کی نامور آئی ٹی کمپنیوں ابیکس، آر بی سافٹ، ایڈو اے آئی، نیکسٹ برج اور ایمومبا سمیت متعدد اداروں نے امریکی کاروباری برادری کے سامنے اپنی خدمات اور مصنوعات پیش کیں۔

‎سفیر رضوان سعید شیخ نے خطاب کا آغاز شرکاء اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سی ای او فیصل جیدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ یہ ایونٹس کی اس سیریز کا تیسرا ایڈیشن ہے، جو 3 برس قبل سلیکون ویلی سے شروع کی گئی تھی اور تب سے مسلسل جاری ہے۔

 ان کے مطابق اس سال تقریبات کا آغاز 16 اکتوبر کو سلیکون ویلی سے ہوا، اس سلسلے میں ڈیلس اور واشنگٹن ڈی سی سمیت مختلف امریکی شہروں میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور کاروباری حلقوں کے درمیان ملاقاتیں اور پروگرام ترتیب دیے گئے، اس سیریز کے آغاز کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ امریکا ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے موجودہ اور مستقبل کے آئی ٹی کھلاڑیوں کی پسندیدہ اور اولین منزل ہے۔ 

‎سفیرِ پاکستان نے کہا کہ ٹیکنالوجی سپرسونک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے تازہ ترین حل اب سپر انٹیلی جنس کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، اس لیے امریکی مارکیٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، پاکستان کی سروسز برآمدات کا تقریباً 60 سے 62 فیصد حصہ امریکی مارکیٹ کو جاتا ہے۔

‎انہوں نے آئندہ 10 سے 12 برسوں میں پاکستان کی آبادی کے متوقع عالمی مقام کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ملک کی آبادیاتی اہمیت آنے والے برسوں میں مزید بڑھے گی، پاکستان کی 60 سے 65 فیصد آبادی 30 برس سے کم عمر ہے اور یہی نوجوان ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ 

سفیرِ پاکستان نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اور امریکی مارکیٹ کی جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع مل کر دونوں ممالک کے تعاون کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں، دنیا کے 5 بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہونے کے ناتے دونوں ملکوں کے درمیان ایک فطری تکمیل موجود ہے، جو صرف آئی ٹی تک محدود نہیں، اسی لیے پاکستان اور امریکا کے لیے تعلقات رکھنا انتخاب کا معاملہ نہیں، ہمیں خاص طور پر اس اہم ترین شعبے میں تعلقات رکھنے ہی ہوں گے۔

‎انہوں نے بتایا کہ اس سال ایونٹ کا فارمیٹ گزشتہ 2 ایڈیشنز سے مختلف رکھا گیا ہے، اس بار امریکی کارپوریٹ شعبے کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، تاکہ پاکستانی کمپنیوں کی ملاقات ایسے امریکی اداروں سے ہو سکے جو مستقبل میں تجارتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی رکھتے ہوں، پاکستان کی بہترین میں سے بہترین کمپنیوں کو منتخب کر کے لایا گیا ہے، ان میں سے بیشتر کمپنیاں پہلے ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں کام کر رہی ہیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ اس نئے طریقۂ کار کا مقصد محض کمپنیوں کا تعارف نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ پاکستان تیزی سے بدلتی عالمی ٹیک مارکیٹ، مصنوعی ذہانت، سپر انٹیلی جنس اور ان سے وابستہ شعبوں میں کیا کچھ پیش کرسکتا ہے۔

‎سفیر رضوان سعید شیخ نے انکساری سے کہا کہ میں سفارت کار ہوں، ٹیکنالوجی کا ماہر نہیں اور ٹیکنالوجی کے بارے میں میرا علم صفر ہے، تاہم میں یہاں پاکستان کے مارکیٹنگ ایجنٹ اور پاکستان کے چیف مارکیٹنگ آفیسر کی حیثیت سے آیا ہوں، تاکہ اس سیریز اور خاص طور پر ڈیلس ایونٹ کو متعارف کرا سکوں۔

 انہوں نے کہا کہ ٹیکساس، ہیوسٹن اور اس بڑی ریاست کے دیگر حصوں کے لوگ پاکستان سے واقف ہیں، جب یہ کمپنیاں مستقبل کی شراکت اور تعاون کے لیے اپنی اسناد پیش کریں گی تو یقیناً آپ حیران رہ جائیں گے۔

پاکستانی سفیر نے شرکاء سے کہا کہ موجودہ دور پاکستان کے لیے ایک اہم لمحہ ہے، جسے عالمی جغرافیائی سیاست، علاقائی صورتحال اور اقتصادی امکانات کے تناظر میں سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے، مئی 2025ء میں اپنے خطے میں استحکام ثابت کرنے کے بعد پاکستان خبروں کا مرکز بنا۔

 ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 سے7 ماہ میں پاکستان ناصرف خطے بلکہ وسیع تر دنیا میں ایک مستحکم کردار کے طور پر ابھرا ہے، ایک ایسے ملک کے طور پر جو ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں ثالثی کر رہا ہے۔

 پاکستانی سفیر نے پاکستان کے اس بدلتے سفارتی کردار کو ملکی اقتصادی امکانات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ٹی کے شعبے میں صلاحیت بھی موجود ہے اور مستقبل کا وعدہ بھی، یہ دونوں الفاظ سوچ سمجھ کر استعمال کر رہا ہوں۔

‎اپنے اختتامی کلمات میں سفیرِ پاکستان نے سامعین سے کہا کہ پاکستان نے آج یہاں اپنی ترقی کا وعدہ آپ کے سامنے رکھا ہے، اس سے درست نتائج، درست خیالات اور درست کاروباری روابط اخذ کریں، کیونکہ اس کے ساتھ پاکستان منافع کا وعدہ بھی پیش کر رہا ہے۔ 

انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری نمائندوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کمپنیوں کی صلاحیتوں اور خدمات کا جائزہ لے کر ممکنہ تجارتی مواقع کی نشاندہی کریں، یہ سیریز وقت کے ساتھ آپ کے دل میں اپنی جگہ بناتی جائے گی۔

‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سی ای او فیصل جیدی نے کہا کہ اس بار فارمیٹ تبدیل کر کے پاکستان کا بہترین ٹیک ٹیلنٹ اس کمرے میں جمع کیا گیا ہے، یہاں موجود کمپنیاں امریکا، یورپ اور لاطینی امریکا میں کام کر رہی ہیں، یہ کمپنیاں عالمی معیار کی مصنوعات کے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے تکنیکی مسائل حل کرنے کا عملی تجربہ رکھتی ہیں، کانفرنس کا مقصد پاکستان کی اس صلاحیت کو نمایاں کرنا اور نئی تجارتی شراکت داریوں کی راہ ہموار کرنا ہے۔

‎فیصل جیدی نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 25 ہزار کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی گریجویٹس افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں، گزشتہ 3 سے 4 برس میں پاکستان کی آئی ٹی کی برآمدات مسلسل بڑھی ہیں اور گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ستمبر کے اعداد و شمار تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا مہینہ ثابت ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور برطانیہ کا نمبر آتا ہے، پاکستانی کمپنیاں رفتار، ذہین افرادی قوت اور لاگت کے اعتبار سے دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہترین منافع کا مارجن فراہم کرتی ہیں، آئندہ چند ہفتوں میں بعض منصوبوں کے لیے تجاویز طلب کرنے، یعنی آر ایف پیز کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

‎فیصل جیدی نے امریکی ڈیولپمنٹ فنڈز اور انضمام و حصول (مرجرز اینڈ ایکوزیشنز) سے وابستہ سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح 2005ء کے آس پاس کلاؤڈ ٹیکنالوجی آئی اور 8 سے 10 برس تک صنعت کا نقشہ بدلتی رہی، اسی طرح مصنوعی ذہانت آئندہ 7 برسوں میں بہت کچھ بدل دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات کو نئی ٹیکنالوجیز سے لیس کرنے کے لیے بڑے منصوبے شروع کریں گی اور یہی سمجھدار کمپنیوں کے لیے اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ہو گا۔

 ‎فیصل جیدی نے اس تبدیلی کو پاکستانی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے ایک اہم کاروباری موقع قرار دیا۔

‎ٹیک ٹائٹنز کی صدر اور سی ای او وینڈی آر ولبرن نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیک ٹائٹنز ٹیکساس کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی انڈسٹری ایسوسی ایشن  ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ لون اسٹار اسٹیٹ میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ کاروبار بڑھانے، نئے کاروبار شروع کرنے اور سرمایہ فراہم کرنے کا بہترین موقع ہے، جس سے ٹیکساس کا معاشی ایکو سسٹم مضبوط ہو گا۔

گزشتہ کانفرنس کے بعد کی پیش رفت پر وینڈی آر ولبرن کا کہنا ہے کہ جامعات، صنعتی تنظیموں، آجروں، اسٹارٹ اپس، وینچر کیپیٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی کے درمیان تعلقات گہرے ہو رہے ہیں۔

‎امیگرنٹ کمیونٹی کے لیے پیغام میں وینڈی ولبرن نے کہا کہ یہاں آئیے، امریکا ایک میلٹنگ پاٹ ہے، ہم آپ کی ذہانت، بصیرت اور عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی امیگریشن پالیسیوں کے اثرات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کا اثر شمالی ٹیکساس کی جامعات میں داخلوں اور کلاسوں کے حجم پر پڑ رہا ہے، بالآخر اس سے یہ بھی متاثر ہو گا کہ ٹیکساس جدت میں کس حد تک آگے رہ سکتا ہے اور امید ہے کہ جلد اس میں تبدیلیاں آئیں گی۔

‎آسٹن سے آئے آر بی سافٹ کے خواجہ حماد حیدر نے کہا کہ پاکستان ٹیلنٹ کے اعتبار سے بہت امیر ملک ہے، خصوصاً آئی ٹی کے شعبے میں، ضرورت صرف اس خلاءکو پُر کرنے کی ہے کہ اس ٹیلنٹ کو امریکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑا جائے۔

 انہوں نے بتایا کہ میری کمپنی پہلے ہی متعدد امریکی کلائنٹس کو خدمات فراہم کر رہی ہے اور گزشتہ 15 برس سے ایم آئی ٹی، اسٹینفورڈ اور دیگر بڑی جامعات کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

خواجہ حماد حیدر نے معروف ٹریول سرچ پلیٹ فارم کائیک (KAYAK) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آر بی سافٹ اس کے قدیم اور بڑے ٹیکنالوجی شراکت داروں میں شامل ہے۔

‎آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ روز ہشام نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں اور پاکستان کے مختلف سروس پرووائیڈرز کو یہاں دیکھنا خوش آئند ہے، امریکی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان جتنا زیادہ تعاون ہو گا اتنا ہی بہتر ہو گا۔

 انہوں نے پاکستانی امریکنز کو مشورہ دیا کہ وہ دیانت، معیار، ترقی اور شفافیت جیسی امریکی اقدار کو اپنا کر اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ کام کریں، اسی سے سب کے لیے خوشحالی اور ترقی آئے گی، خدا امریکا اور پاکستان دونوں کو برکت دے۔

آئی ٹی کمپنی کے سی ای او مبشر وڑائچ نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستانی کمپنیوں کو ناصرف یہاں کی پاکستانی امریکن کمپنیوں بلکہ مین اسٹریم امریکی آئی ٹی کمپنیوں اور بڑے اینڈ یوزرز سے جوڑنے کا بہترین موقع ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ابیکس، سسٹمز اور نیٹ سول جیسی نامور کمپنیوں کی شرکت خوش آئند ہے، ڈیلس میں قائم پاکستانیوں کی آئی ٹی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان سے آنے والے اداروں کا رابطہ بڑھے گا، اس سے پاکستان میں کاروبار کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان میں آئی ٹی کمپنی کے سی ای او امیر مکھانی نے پاکستانی اور امریکی کمپنیوں کو ملانے کا موقع فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات تسلسل سے جاری رہنے چاہئیں۔

انہوں نے تقریب کی کوریج پر میڈیا اور جیو نیوز کا بھی شکریہ ادا کیا۔

40 برس سے امریکا میں مقیم پاکام گلوبل (پی اے جی) کے سی ای او عمران جان نے کہا کہ پاکستان کی خدمت میرا سب سے بڑا فرض ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے قابل پاکستانیوں کو یہاں وہ ایکسپوژر اور جائز حصہ نہیں ملتا جس کے وہ حق دار ہیں، ہماری اپنی ٹیم پاکستان میں کام کر رہی ہے اور کمپنی کا نام بھی پاکستان سے محبت کی بنا پر رکھا گیا ہے، کووڈ کے بعد ریموٹ ورکنگ مستحکم ہو چکی ہے اور بھارت میں اس وقت تقریباً 20 لاکھ افراد ریموٹ کام کر رہے ہیں۔

‎عمران جان نے امریکی ایچ ون بی ویزا سے متعلق پابندیوں اور آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے امکانات کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین کو ریموٹ ورکنگ کے ذریعے امریکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے خدمات فراہم کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، حکومت اور نجی شعبہ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی بہتر بنائیں تو قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انٹرنیٹ کے ذریعے سرحدوں سے آگے کاروبار بڑھایا جا سکتا ہے۔

‎مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ بابر بھٹی نے کہا کہ اے آئی امریکا میں بھی ابھی نئی ہے اور اس میں بے پناہ امکانات ہیں، پاکستان میں ٹیلنٹ اور انفرااسٹرکچر دونوں موجود ہیں، مگر انہیں مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، یہاں کے چیمبرز آف کامرس اور اکنامک ڈیولپمنٹ کارپوریشنز تک رسائی بڑھانی ہو گی اور پرائمری سے اعلیٰ تعلیم تک تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ 

انہوں نے کہا کہ اے آئی صرف تکنیکی ماہرین کے لیے مخصوص نہیں، کاروباری افراد اور چھوٹے کاروبار چلانے والے انٹرپرینیورز بھی اسے مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔

‎بابر بھٹی نے بتایا کہ پاکستان میں اے آئی سے متعلق نئی اسٹارٹ اپس سامنے آ رہی ہیں اور مختلف کمپنیوں سے رابطے اور بات چیت جاری ہے، تاہم مطلوبہ مہارتیں ابھی پاکستان میں کم ہیں، پیشہ ورانہ استعداد کا معیار نیچے ہے اور خام ٹیلنٹ کی تربیت کے لیے بڑی محنت اور وقت درکار ہو گا، یہ ٹیکنالوجی نئی ہے اور میدان سب کے لیے برابر ہے، جو سیکھ لے گا وہ آگے نکل جائے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید