• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمارت کا نقشہ سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں: پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی رپورٹ تیار

---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
---فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا 

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی رپورٹ تیار کرلی گئی۔

کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے مشرقی زون کی رپورٹ کے مطابق عمارت کا نقشہ سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمارت 2011ء میں ٹاؤن 4 کی تحصیل میونسپل انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں تعمیر کی گئی تھی، عمارت بنیادی طور پر اسکول کے لیے نہیں بلکہ رہائشی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی جس میں گراؤنڈ اور پہلی منزل شامل تھی۔

رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ فلور کی دیواریں سیمنٹ کی اینٹوں سے بنی تھیں جبکہ چھت لوہے کے شہتیروں پر ٹائلیں رکھ کر تیار کی گئی تھی، پہلی منزل کی دیواروں پر پلستر نہیں تھا اور اس کی چھت لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر بنائی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی منزل کی چھت عارضی اور کچی تھی جو اسکول کے لیے موزوں نہیں تھی، چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت نہ کر سکی جس کے باعث گر گئی، حادثے میں نجی اسکول کے ایک کلاس روم کا پچھلا حصہ بھی منہدم ہوا۔

رپورٹ کے مطابق عمارت باہر سے خطرناک دکھائی نہیں دیتی تھی اس لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمے داری نجی اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید