جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دو روزہ اجلاس میں مرکزی شوریٰ نے اہم فیصلے کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور دیگر معاملات پر مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔ عوام دشمن حکومتی پالیسیوں کا معقول جواب دینا چاہیے۔
امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس شوریٰ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا۔ حکومت کے یہ اقدامات بدنیتی پر مبنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے ہی فاٹا کو صوبے میں ضم کیا تھا اور اب وفاق کے کنٹرول میں دے دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے اور اعتماد میں لیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گورنر راج سے ملک کا بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔ جے یو آئی کا کوئی رکن کونسل کا حصہ نہیں بنے گا۔ صدر مملکت نے قانونی پہلووں کی پیروی نہیں کی، یہ آئینی تقاضوں کی نفی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے اپنی آزادانہ مخالف رائے بھی دی ہے۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر تبدیلیاں آرہی ہیں۔ چین عالمی مالیات کا گڑھ بنتا جارہا ہے۔ ہمارا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی کمزور پلیٹ فارم ہے، نیا سیاسی معاشی اور دفاعی اتحاد ہونا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ناجائز ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے تو ہمیں بھی وہی انداز اپنانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جب پاکستان پر جارحیت کی تو سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی۔ پاکستان نے ایران، امریکا کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے خیرمقدم کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی نے عوام اور دینی حلقوں میں دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔