پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ کسی سیاستدان کی گردن پر کوئی چھری نہیں رکھ سکتا، محمود اچکزئی اور ہم سب ساتھی ہیں، آپ ہمارے بیچ پھوٹ نہ ڈالیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں علی محمد خان نے کہا کہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو یہ سیاسی لوگوں کی جیت ہوتی، مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو بانی سے ملاقاتیں ہوجاتیں اور بہنیں رہا ہوجاتیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہوتا تو خیبر پختونخوا میں حکومت برقرار رہتی، ممبران اسمبلی رہا ہو جاتے، مذاکراتی عمل ہو تو بہت ساری چیزیں بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مذاکرات میں لیت و لعل نہیں کی جانی چاہیے، یہ نہیں کہنا چاہیے یہاں نہیں جاؤں گا، وہاں نہیں جاؤں گا، مذاکرات میں سرنڈر نہیں ہوتا، مذاکرات میں اپنے نکات پیش کیے جاتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں ایمرجنسی لگنا کسی بھی حکومت کے لیے باعث عزت نہیں ہوتا، کور کمیٹی میں بتایا گیا کہ 2، 3 مرتبہ معاہدہ ہونے کے قریب پہنچا لیکن نہ ہوسکا۔
علی محمد خان نے یہ بھی کہا کہ کسی سیاستدان کی گردن پر کوئی چھری نہیں رکھ سکتا، محمود اچکزئی اور ہم سب ساتھی ہیں، آپ ہمارےبیچ پھوٹ نہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل شروع ہو، جو شخص مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا کرے گا، اس پر ہمارا اعتراض ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت بنیادی مسئلہ حکومت نے پیدا کیا ہوا ہے، حکومت مذاکرات میں سیکیورٹی کا مسئلہ لے کر آئی جس سے مسئلہ ہوا، سیکیورٹی کے مسئلے پر علیحدہ سے سہیل آفریدی کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔