کسی باوقار قوم کی عظمت کا اصل پیمانہ اس کے محلات نہیں بلکہ شہریوں کی سانسوں کی حفاظت اور تندرستی کی ضمانت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہی ریاستیں امر ہوتی ہیں جنکے حکمرانوں کے سینے میں رعایا کا دردمند دل دھڑکتا ہو اور فیصلوں میں فولادی عزم ہو۔یہ سوال دنیا کو کچوکے لگاتا تھا کہ کیا روئے زمین پر کوئی ایسا ملک بھی ہو سکتا ہے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی، عالیشان شفا خانے، مسیحا صفت طبیب اور سستا علاج میسر آ سکے؟ دنیا جس تصور کو خواب سمجھتی تھی، برادر اسلامی ملک جمہوریہ ترکیہ نے اسے ایک درخشندہ حقیقت بنا دیا ہے۔ ترکیہ نے ثابت کیا ہے کہ جب قیادت کے ارادوں میں سچائی ہو، تو ہسپتال محض عمارتیں نہیں بلکہ دکھی انسانیت کیلئےامید کے روشن مینار بن جاتے ہیں، جس پر آج نہ صرف ترک قوم بلکہ پوری مسلم امہ اور دنیا کا ہر باشعور انسان فخر کر رہا ہے۔
ترکیہ کو یہ منزل کسی خیرات یا اتفاق سے حاصل نہیں ہوئی۔ دو دہائیاں قبل کا ترکیہ یاد کیجیے، جب غربت کے مارے لوگ معمولی ادویہ کی خاطر در در بھٹکتے تھے، ہسپتالوں کے سرد برآمدوں میں مریض طویل قطاروں میں دم توڑ دیتے تھے اور غریبوں کے علاج کے نام پر ملکی وسائل کے فقدان کا رونا رویا جاتا تھا۔تاریخ نے اس وقت پلٹا کھایا جب صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت نے اس قوم کا مقدر بدلنے کا بیڑا اٹھایا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ کسی نادار کی جان کسی امیر سے کم قیمتی نہیں ۔ اس عزم نے فرسودہ استحصالی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کو جوڑ کر ایک ایسا فلاحی نظام وضع کیا گیا جسکی نظیر امیر ترین ممالک میں بھی نہیں ملتی۔ OECD کے مطابق ترکیہ کی ننانوے فیصد آبادی کو ریاست کی طرف سے مکمل صحت کا تحفظ حاصل ہے۔ یہ وہ کرشمہ ہے جسکی تمنا بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی کرتے ہیں مگر پورا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ترک حکومت نے ثابت کر دیا کہ فلاحی ریاست کا مطلب نعرے بازی نہیں بلکہ ہر شہری کو عزت اور سستی دوا فراہم کرنا ہے۔
ترکیہ کا یہ انقلابی سفر ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ 17 اکتوبر 2026ء کو جب استنبول یونیورسٹی کے تاریخی چاپا کیمپس میں صدر ایردوان نے عوام اور طبی ماہرین کے جمِ غفیر کے سامنے اسی سال کے اختتام سے قبل ڈاکٹرز کے علاوہ شعبہ صحت میں 38 ہزار نئی ملازمتوں کا تاریخ ساز اعلان کیا، تو سب کے دل جیت لیے۔ یہ بھرتی محض روزگار کی فراہمی نہیں، بلکہ ریاست کے اس عزم کی بازگشت ہے کہ ترکیہ اپنے ہسپتالوں کو صرف مشینوں سے نہیں بلکہ باصلاحیت اور خدمت کے جذبے سے سرشار مسیحاؤں سے بھرنا چاہتا ہے۔ اسی کیمپس میں دو صدیوں کی عظیم عثمانی طبی روایت کے امین 44 ہزار مربع میٹر پر محیط جدید ترین داخلی امراض کے ہسپتال کا افتتاح کیا گیا، جو شدید زلزلے کو باآسانی جذب کرنیوالے شاندار نظام سے لیس ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسن یورت میں روبوٹک سرجری کے 12 ہائی ٹیک آپریشن تھیٹرز کے حامل ہسپتال کا قیام واضح کرتا ہے کہ ترکیہ میں انسانی جان کس قدر محترم مانی جاتی ہے۔
ترکیہ کے سرکاری یا نجی شفا خانوں میں جب کوئی مریض قدم رکھتا ہے تو وہ ہسپتال کم اور فائیو اسٹار ہوٹل یا جدید ترین تحقیقی درسگاہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان شفا خانوں کا ماحول مریض کی آدھی تکلیف تو اپنے حسنِ انتظام اور پرسکون فضا ہی سے ختم کر دیتا ہے۔ جدید ترین ایم آر آئی، ایڈوانس سی ٹی اسکینز، روبوٹک سرجری کے کمالات اور زیرو انفیکشن والے انتہائی نگہداشت کے وارڈز ہر مریض کو احساس دلاتے ہیں کہ اسکی سانسوں کی حفاظت کیلئے سائنس کی معراج بروئے کار لائی جا چکی ہے۔ ڈیجیٹل ترکیہ نے ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کی اذیت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا ہے۔ ایک کلک پر اپائنٹمنٹ، موبائل پر مکمل طبی ریکارڈ اور شفاف ترین نظام، یہ وہ سہولتیں ہیں جو ترکیہ کے نظامِ صحت کو دنیا کے ہر روایتی نظام سےبہت آگے لے جا چکی ہیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ لندن و نیویارک سے لے کر برلن اور مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں تک، اگر کسی انسان کو کسی پیچیدہ آپریشن، دل کی جراحی، بالوں کی پیوند کاری، دندان سازی، پلاسٹک سرجری یا کینسر کے علاج کی ضرورت پڑتی ہے، تو اس کی پہلی اور آخری منزل ترکیہ بن چکی ہے۔ مغربی ممالک میں مہینوں اور برسوں کا جان لیوا انتظار اور انشورنس کمپنیوں کے لاکھوں ڈالر کے لٹیرے بل انسان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں، مگر جب وہ ترکیہ پہنچتا ہے تو اسے محبت، شفقت اور انتہائی معقول اخراجات میں وہ نگہداشت ملتی ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025ء کے دوران تقریباً 14 لاکھ غیر ملکی مریض بہ غرض ِ ترکیہ آئے اور ترکیہ نے 3ارب 22 کروڑ ڈالر کی آمدنی سمیٹ کر دنیا کی طبی منڈیوں میں تہلکہ مچا دیا۔ سال 2026ء کی محض دوسری سہ ماہی میں 5 لاکھ 63ہزار سے زائد غیر ملکی مریضوں کی آمد اور تقریباً 1 ارب 58کروڑ ڈالر کا حجم یہ گواہی دیتا ہے کہ عالمی برادری کا ترکیہ کے طبی نظام پر اعتماد کس قدر غیر متزلزل ہے۔
ترکیہ کی اس بے مثال کامیابی کا راز گارے اور سیمنٹ کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ ایک خودمختار قوم کی غیرت اور عوامی فلاح پر مبنی سیاسی بصیرت میں پوشیدہ ہے۔ ترکیہ نے تمام ترقی پذیر ریاستوں کو جھنجھوڑ کر بتا دیا ہے کہ اگر حکمران باضمیر ہوں اور قومی سرمایہ محلات پر ضائع کرنے کے بجائے شفا خانوں پر نچھاور کیا جائے، تو قومیں کس طرح سربلند ہوتی ہیں۔ دنیا آج رشک کی نگاہوں سے اس نظام کو دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کا مقابلہ کسی کے بس میں نہیں۔ ترکیہ اب صرف علاج گاہ نہیں رہا، یہ دنیا بھر کے ستم رسیدہ مریضوں کی پناہ گاہ اور شعبہ صحت کا عظیم اورناقابلِ تسخیر ماڈل بن چکا ہے۔