• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک صاحب ہیں، برائن جانسن نام ہے، عمر 49 برس ہے اور اُن کا خیال ہے کہ انسان کو مرنا نہیں چاہیے۔ آپ ارب پتی ہیں، روزانہ 50 سے زیادہ وٹامنز کھاتے ہیں، اپنے دل اور دماغ کو انہوں نے ایک مشین سے منسلک کر رکھا ہے جو اُن کے (تمام) اعضائے رئیسہ کی مسلسل نگرانی کرتی ہے، اور خود کو جوان رکھنےکیلئے وہ اپنے بیٹے کا خون بھی لے چکے ہیں۔ موصوف کا نعرہ ہے ’مرنا نہیں۔‘ وہ بہت چھان پھٹک کر کھانا کھاتے ہیں، روزانہ ایک گھنٹہ شدید قسم کی ورزش کرتے ہیں اور نیند ایسے پوری کرتے ہیں کہ بندہ اپنی گھڑی کی سوئیاں ملا لے۔ مسٹر جانسن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے بڑھاپے کی رفتار کو0. 64تک کم کر دیا ہے، یعنی ہر سال اُن کی عمر محض ساڑھے سات ماہ بڑھتی ہے اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق اُن کا دل اِس وقت کسی 31 سالہ جوان کی طرح کام کر رہا ہے۔ عام آدمی جن چیزوں سے مسرت حاصل کرتا ہے، جیسے فاسٹ فوڈ، شراب اور دیر تک جاگنا، جانسن نے انہیں اپنی روزمرہ زندگی سے نکال باہر کیا ہے، مگر اِس کے باوجود ان کا دعویٰ ہے کہ وہ زندگی میں اتنے خوش کبھی نہیں رہے جتنے اب ہیں۔

یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ برائن جانسن کب تک زندہ رہیں گے مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ زندہ رہ کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ جس مخلوق کا نام انسان ہے وہ کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتی چاہے اسے عمرِ خضر ہی کیوں نہ مل جائے۔ جانسن بھی دراصل اُس مسرت کی تلاش میں ہیں جو شاید انہیں طویل عمر پا کر حاصل ہو لیکن انسانی مسرت کا یہ معمہ ہزاروں سال سے لاینحل ہے اور اگلے ہزار برس بھی اِس کے حل ہونے کا امکان نہیں اِلّا یہ کہ مصنوعی ذہانت انسان کی زندگی سے مشقت نکال دے اور ہم سارا دن تصورِ جاناں کیے بیٹھے رہیں۔ لیکن یہ بھی محض ایک مفروضہ ہے۔ یہ کائنات اِس قدر بے ترتیب، غیر یقینی اور لامتناہی ہے کہ کسی بھی قسم کی ریاضی اِس میں وقوع پذیر ہونے والے حادثات کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ کل کو مصنوعی ذہانت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کوئی نہیں جانتا۔

کچھ آثار تو ابھی سے نظر آنے لگے ہیں جن کے بارے میں بیس سال پہلے کسی نے سوچا تک نہ تھا۔ ہماری زندگیاں تمام تر حشر سامانیوں کے باوجود ’بور‘ ہیں۔ اِس وقت دنیا ہمارے انگوٹھے کے نیچے ہے مگر اِس ’سہولت‘ کی وجہ سے ہم الٹا خود کو ناکام محسوس کرنے لگے ہیں، پچھتاوے بڑھ گئے ہیں اور زندگی میں کچھ نہ کر پانے کا احساس کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ ”اگر میں نے نوکری کے انتخاب میں درست فیصلہ کیا ہوتا تو آج اپنے کولیگ کی طرح کسی کمپنی کا سی ای او ہوتا، اگر محبت میں عقل سے کام لیا ہوتا تو میری زندگی کے قیمتی سال یوں برباد نہ ہوتے، اگر وقت پر کاروبار شروع کر لیا ہوتا تو آج پیسے کی ٹینشن نہ ہوتی۔“ انسان کے ساتھ یہ پچھتاوے پہلے بھی تھے مگر سوشل میڈیا نے انہیں کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ہمیں ہر لمحے یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا تو عیش کر رہی ہے اور فقط ہم ہی دو ٹکے کی نوکری میں جُتے ہوئے ہیں۔

بدھ مت کی قدیم پالی تحریروں میں ایک مختصر کہانی ہے جس میں مہاتما بدھ اپنے شاگردوں کو سمجھاتے ہیں کہ تکلیف تو عام آدمی کو بھی پہنچتی ہے اور تربیت یافتہ سالک کو بھی۔ جسم ہے تو چوٹ بھی لگے گی، بیماری بھی آئے گی اور بڑھاپا بھی دستک دے گا۔ فرق یہ ہے کہ عام آدمی جب درد میں مبتلا ہوتا ہے تو اس پر کڑھتا ہے، روتا پیٹتا ہے، شکوہ کرتا ہے اور یوں ایک کی بجائے دو تکلیفیں جھیلتا ہے، ایک جسم کی اور دوسری ذہن کی۔ بدھ اسے یوں سمجھاتے ہیں کہ جیسے کسی شخص کو ایک تیر لگے اور پھر عین اسی جگہ دوسرا تیر بھی آ لگے تو درد دوگنا ہو جاتا ہے۔ سمجھدار آدمی پہلے تیر کا درد تو محسوس کرتا ہے مگر دوسرا تیر خود کو نہیں مارتا۔ نوکری کا غلط انتخاب، محبت میں عقل کی بجائے دل کی اندھا دھند پیروی، کاروبار شروع کرنے میں تاخیر، یہ سب پہلے تیر ہیں۔ ان کا زخم اصلی ہے، اس سے انکار کرنا خود فریبی ہوگی۔ اگر یہ نقصان ہوا ہے تو اسے تسلیم کیجیے۔ مہاتما بدھ بھی یہ نہیں کہتے کہ تیر لگا ہی نہیں۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تیر لگ چکا، اب دوسرا تو نہ مارو۔ مگر ہم پہلے تیر کو نکال کر مرہم پٹی کرنے کی بجائے اپنا ترکش کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور رات کے دو بجے اجنبیوں کی عیاشیوں کی تصاویر دیکھ کر خود پر ملامت شروع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا دراصل تیروں کی ایک فیکٹری ہے جو چوبیس گھنٹے چلتی ہے اور جس کا خام مال دوسروں کی زندگیوں کا وہ حصہ ہے جو وہ دکھانا چاہتے ہیں۔ ہمارا جو کولیگ آج سی ای او ہے، اس کی ترقی کی خبر ہمیں لنکڈ اِن پر ملتی ہے مگر اپنے ہائی بلڈ پریشر، طلاق کے مقدمے اور ناکامی کی خبریں وہ کبھی نہیں لگاتا۔ آج تک کسی بندے نے یہ پوسٹ نہیں لگائی کہ مجھے نالائقی کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا۔ ہم اپنی پوری زندگی کودوسروں کی زندگیوں کی منتخب کردہ جھلکیوں کے سامنے ماند سمجھتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں کہ ہم نے توجھک ہی ماری۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنی مکمل فلم کا موازنہ کسی دوسرے کی فلم کے ٹریلر سے کرے جبکہ ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ ٹریلر تو انیمل جیسی بکواس فلم کا بھی بہت اچھا تھا۔

جب ہم ماضی کے کسی فیصلے پر کڑھتے ہیں تو اسے آج کی معلومات کی روشنی میں پرکھتے ہیں۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ وہ کمپنی ڈوب گئی، وہ رشتہ نبھ نہ سکا، وہ پلاٹ جو ہم نے نہیں خریدا تھا اس کی قیمت دس گنا ہو گئی۔ مگر جس دن ہم نے وہ فیصلہ کیا تھا، اُس دن ہمارے پاس یہ معلومات نہیں تھیں۔ اُس دن ہم نے اپنی سمجھ، اپنے حالات اور اپنے ڈر کے مطابق جو بہترین لگا، وہی کیا۔ آج کا سیانا شخص ماضی کے نادان شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا سنا رہا ہوتا ہے حالانکہ یہ مقدمہ ہی غیر منصفانہ ہے۔ غالب نے کہا تھا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ خواہشیں ہونا انسان کی فطرت ہے اور ان میں سے کچھ کا پورا نہ ہونا بھی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر ادھوری خواہش ایک پہلا تیر ہے، اِس سے کوئی بچ نہیں سکتا، نہ آپ، نہ میں، نہ برائن جانسن۔ مگر ہر ادھوری خواہش پر ساری عمر ماتم کرنا، یہ ہمارا اپنا انتخاب ہے۔ برائن جانسن اپنی عمر بڑھانے کیلئے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ جو عمر ملی ہے، اسے خود پر تیر برسانے میں ضائع نہ کریں۔ یہ نسخہ مفت بھی ہے اور اس کیلئے بیٹے کا خون بھی نہیں لینا پڑتا۔

تازہ ترین