پاکستانی میزبان و اداکارہ عائشہ جہانزیب کا کہنا ہے کہ جب ایک خاتون کی طلاق ہو جائے یا کسی اور وجہ سے وہ اکیلی رہ جائے تو اسے مسئلہ سمجھا جانے لگتا ہے، معاشرے کا یہ رویہ خواتین کی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
عائشہ جہانزیب نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ گھریلو تشدد کے واقعے نے میرے کیریئر کو متاثر کیا۔
انہوں نے پاکستان میں متاثرہ افراد، خصوصاً خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے کے رجحان پر بھی بات کی۔
انٹرویو کے دوران اداکارہ نے کہا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جب میں نے اپنی ذاتی زندگی کے مسائل پوری دنیا کے سامنے رکھے تو اس کی مجھے سب سے بڑی قیمت چکانا پڑی کیونکہ یہاں لوگ آپ ہی کو قصوروار ٹھہرانے لگتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں فی الحال اپنے وزن میں کمی آنے اور کمر کی تکالیف سے صحت یاب ہونے کے عمل سے لطف اندوز ہو رہی ہوں اور مختلف منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہوں۔
خواتین کو درپیش مشکلات پر بات کرتے ہوئے عائشہ جہانزیب نے کہا کہ لوگ مکمل حقائق جانے بغیر خواتین کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں، جب کوئی رشتہ ختم ہوتا ہے تو اکثر خاتون کو ہی قصوروار سمجھا جاتا ہے اور یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ غلطی اسی کی ہو گی۔
واضح رہے کہ عائشہ جہانزیب پر گھریلو تشدد کا معاملے جولائی 2024ء میں منظرِ عام پر آیا تھا۔
عائشہ نے اپنے شوہر کے خلاف جسمانی تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا تھا۔
بعد ازاں انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنے بچوں کی خاطر فوجداری کارروائی آگے نہیں بڑھانا چاہتی اور خلع لینے کا ارادہ رکھتی ہوں۔