ملزم فہیم اکرم کو ضلع کچہری لاہور میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزم فہیم اکرم کو 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، ملزم نے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے، مبینہ فراڈ نیٹ ورک کے لیے خاندان کے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا 35 ارب روپے کا مبینہ فراڈ بےنقاب کرکے مرکزی ملزم گرفتار کیا تھا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عاطف امیر کا کہنا ہے کہ ملزم فہیم اکرم نے جعلی ویب سائٹ بنا کر تین سال تک امریکی پوسٹل سروسز نظام کو بائی پاس کرکے جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرتا رہا۔
سائبر کرائم یونٹ نے 6 اکتوبر کو اس کیس کی نشاندہی کی تھی، خانیوال سے تعلق رکھنے والے ملزم نے مبینہ طور پر ایک ویب سائٹ تیار کی، جس کے ذریعے غیر ملکی پوسٹل کمپنی کے نظام کو بائی پاس کرکے تقریباً 50 لاکھ ٹکٹ فروخت کیے، ملزم کی تلاش اور گرفتاری کے لیے 10 روز تک آپریشن جاری رہا، جس کے بعد فہیم اکرم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ اس فراڈ سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 126 ملین ڈالر لگایا گیا ہے، جو پاکستانی کرنسی میں 35 ارب روپے سے زائد بنتا ہے، مبینہ فراڈ کے لیے 16 اکاؤنٹس استعمال کیے گئے جن میں ملزم، اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔
عاطف امیر کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے لیے 8 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہیں۔