• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملتان میں بچے کو کار سے کچلنے کا واقعہ، یتیم خانوں میں مقیم بچوں کی حفاظت پر سوالات کھڑے ہوگئے

ملتان میں 15 سال کے یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم سی سی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا گیا، جبکہ یتیم خانہ کی انتظامیہ کا ایک رکن گرفتار کرلیا گیا ہے۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کی درخواست پر گرفتار شخص کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، 15 سالہ وسیم عباس کو یتیم خانے سے ہنر سکھانے کے لیے ایک الیکٹریشن کے پاس بھیجا گیا تھا، اس واقعے نے غیر رجسٹرڈ یتیم خانوں میں مقیم بچوں کی حفاظت، انہیں کام سکھانے کے انتظامات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کی موت کے بعد معاملہ صرف ایک بچے کی ہلاکت تک محدود نہیں رہا۔ نہ جانے ایسے کتنے ہی وسیم یتیم خانوں سے باہر بھیجے گئے ہیں اور ان سے کیا مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔

وسیم عباس کی موت سے ان سب معاملات سے پردہ اٹھانا ضروری ہے، اگر کوئی ادارہ بچوں کو دوسرے افراد کے حوالے کرتا ہے تو ان کی نگرانی اور حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا متعلقہ محکمے ایسے اداروں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں؟ اور اگر کوئی یتیم خانہ رجسٹرڈ نہ ہو تو وہاں مقیم بچوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانے کا ذمہ دار کون ہوتا ہے؟

اس واقعے نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے، جیسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق کسی بھی یتیم خانے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ بچے کو کوئی بھی ہنر سکھانے کے لیے ادارے سے باہر بھیجے۔ اسے تعلیم کے ساتھ ساتھ جو بھی ہنر ہو اسی ادارے میں سکھانا لازم ہے۔ لیکن اس غیر رجسٹرڈ یتیم خانے سے تو وسیم جیسے کئی بچے ہنر سکھانے کے بہانے بھیجے گئے ہیں۔

جس یتیم خانے سے وسیم عباس کا ہنر سکھانے کے لیے باہر بھیجا گیا اس کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی۔ مقدمہ درج کرکے این جی او کی گورننگ باڈی کے رکن شعیب کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ لیکن ایسے کتنے غیر رجسٹرڈ یتیم خانے چل رہے ہیں اور وہاں رہنے والے بچوں کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔

 بچوں کا استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات بھی موجود ہیں۔ ان تمام سوالات کے جواب تحقیقات سے ہی مل سکتے ہیں۔ 

قومی خبریں سے مزید