یہ 13 اکتوبر 1999ءکی بات ہے، پچھلی رات ملک میں مارشل لا لگ چکا تھا، رات 3بجے کے قریب ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ پرویز مشرف پی ٹی وی پر تقریر فرما چکے تھے، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا خطابِ ’’دل پذیر‘‘ سننے والوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ملک ایک دفعہ پھر طویل عرصےکیلئے سرزمینِ بے آئین ہونے جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے گھر، اپنی خواب گاہ میں بیٹھے ہوئےیک دم عدم تحفظ کا احساس ہوا۔ ملک کا سب سے افضل قانون پامال ہو چکا تھا، یعنی جس دستاویز کے بطن سے تمام قوانین جنم لیتے ہیں، وہ دستاویز پھاڑ دی گئی تھی، ہم شہریوں اور ریاست کے درمیان معاہدہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ لاٹھی والے بھینس لے جا چکے تھے۔ہم ان دنوں روزنامہ ’’دی نیوز‘‘ میں کام کرتے تھے۔ اگلے دن صبح ہم حالتِ اضطراب میں دفتر کی طرف روانہ ہوئے، شہر سہما ہوا لگ رہا تھا، زندگی معمول کے مطابق چلنے کی اداکاری کر رہی تھی، جب ہم مال روڈ سے دفتر کیلئے ڈیوس روڈ پر مڑنے لگے تو ٹریفک کا اشارہ بند ہو گیا۔ ہم نے گاڑی روکی تو چوک میں تعینات پولیس مین غیر معمولی مستعدی سے ہماری طرف بڑھا، اس کی آنکھوں سے افسرانِ بالا کی تازہ ہدایات کی روشنی پھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، وہ فرض شناس لہجے میں یوں گویا ہوا ’’آپ کی گاڑی کا پہیا زیبرا کراسنگ کی لکیر کو چُھو رہا ہے، گاڑی پیچھے کریں، یہ خلافِ قانون ہے۔‘‘ ہم نے لہجہ پرسکون رکھتے ہوئے اس سے پوچھا کہ ’’بھائی جان، کیا آپ کو معلوم ہے کہ جبر کا پہیا آئین کے سینے پر چڑھ گیا ہے۔ ’’اس نے حیرت اور ہم دردی سے ہمیں دیکھا، جیسے کسی فاتر العقل کو دیکھتے ہیں۔ ’’سر، میری نوکری کا سوال ہے،‘‘ یہ کہہ کر وہ مزید ضد کیے بغیر واپس چوک کی طرف چل پڑا۔ ہم یہ واقعہ کبھی نہیں بھول سکے، جب بھی ہم Rule by law کا کوئی عملی نمونہ دیکھتے ہیں ہمیں یہ واقعہ یاد آ جاتا ہے۔رول بائی لا ایک ایسا نظام حکومت ہے جسے ہم رول آف لا کا حریف قرار دے سکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں رول آف لا کا مطلب ہے قانون کی نظر میں سب یکساں ہیں، سگوں اور سوتیلوں کیلئے ایک ہی پیمانہ ہے، طاقتوروں اور تہی دستوں کیلئے ایک ہی ضابطہ ہے۔ جبکہ رول بائی لا ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں قانون کا مقصد ہی تخصیص کرنا ہوتا ہے، اشرافیہ ان قوانین سے بلند ہوتی ہے، قوانین خلقِ خدا کیلئے ہوتے ہیں، یعنی یوں کہہ لیجیے کہ اس نظام میں قوانین کا اطلاق فقط ایک غیر قانونی بندوبست کو برقرار رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ ایسی ریاستیں آئین کا حلیہ بھی ’’قانونی‘‘ طور پر ترامیم کے ذریعے بگاڑتی ہیں۔ قوانین کو عوام پر انتہائی سختی سے لاگو کرتی ہیں، مقصد ’’قانون کی حکم رانی کا التباس‘‘ پیدا کرنا ہوتا ہے، آمرِ اول ایوب خان صاحب کے زمانے میں ایک ہمہ گیر آپریشن ہوا تھا جس میں اشیائے خور و نوش کی دکانوں پر جالیاں لگانا لازم قرار دیا گیا، تاکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی پاس داری یقینی بنائی جا سکے، اس جالی قانون کے اطلاق کیلئے ریاست نے اپنی قوتِ نافذہ کا بھر پور مظاہرہ کیا، دکانداروں کو سزائیں ہوئیں، بھاری بھرکم جرمانے ہوئے، کچھ دکانیں بند بھی کر دی گئیں۔ ضیاالحق صاحب کو "قانون کی حکم رانی" کا اتنا شوق تھا کہ انہوں نے پپو کے قاتلوں کو سرِعام پھانسی دی تھی، اور" غیر قانونی حرکات" میں ملوث سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو تو وہ کوڑے لگواتے ہی رہتے تھے۔ اسی کو رول بائی لا کہتے ہیں۔ ہٹلر کا جرمنی"قانون کی حکم رانی" کی غالباً سب سے جامع مثال ہے۔ ہٹلر کے جرمنی میں انسدادِ گداگری کیلئے فقیروں کو پھانسیاں دی گئیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عمر قید دی گئی، غیر ملکی ریڈیو سننے والوں کو موت کی سزا دی گئی، اور یہ سب کچھ "قانون کی حکم رانی" کے نام پر کیا گیا۔ اس دوران جرمنی میں پرانا جمہوری آئین بھی موجود رہا، نہ آئین متروک ہوا نہ معطل، مگر آئین کی ایمرجنسی شِق کے تحت جرمنی کو بدترین فسطائیت میں تبدیل کر دیا گیا۔اگلے زمانوں میں بادشاہ کی موت پر اکثر سلطنت کا نظم و نسق ٹوٹ جایا کرتا تھا، منصب دار سے کوتوال تک تمام نظام اپنی جگہ موجود ہوتا تھا مگر قانون کے جس منبع سے پورا نظام قانونی اور اخلاقی اعتماد حاصل کرتا تھا، وہ بنیاد ہل جاتی تھی۔ بادشاہ اس زمانے کا "آئین" ہوا کرتا تھا، یعنی ہر قانون کا سرچشمہ، وہ" آئین" جب ٹوٹتا تھا تو نچلے سب قوانین خود بہ خود معطل ہو جاتے تھے، جب تک کہ ایک"قانون " وارث تخت نشین نہ ہو جائے۔ اس دور میں بادشاہ کی جگہ آئین لے چکے ہیں جو حکم رانوں کی قانونی اور اخلاقی پشت پناہی کرتے ہیں، اقتدار کو لجٹی میسی عطا کرتے ہیں۔ مگر حکم رانوں کی ایک قسم نے آئین کا بھی توڑ نکال لیا ہے، وہ آئین کو آئین سے لڑا دیتے ہیں، آئین صرف اس لیے رہ جاتا ہے کہ اس کے پیچھے چھپا جا سکے۔ موزوں ہو گا کہ یہاں منیرنیازیؔ کو یاد کر لیا جائے۔
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا
اکتوبر کی نسبت سے ’’دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں‘‘ آج بھی جب ہم Rule by law کا کوئی منظر دیکھتے ہیں، جو کہ ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں، تو دماغ میں اس "مستعد اور فرض شناس" پولیس مین کا جملہ گونجنے لگتا ہے، ’’آپ کی گاڑی کا پہیا زیبرا کراسنگ کی لکیر کو چُھو رہا ہے، یہ خلافِ قانون ہے۔‘‘