• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یار عطا ! تمہیں یاد ہے میں کتنا با نکا سجیلا نو جوان ہوا کرتا تھا۔ گورا چٹا، گھنگریالے گھنے بال ، گھر سے نکلتا تو دریچوں سے روشن چہرے جھانک رہے ہوتے۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتا تو منزلیں میرا رستہ تک رہی ہوتی تھیں مگر میں کہیں رکتا نہیں تھا۔ اس دور میں کہیں قیام پسند ہی نہیں تھا۔ میں جلسوں جلوسوں ، ریلیوں میں شرکت کرتا ، لوگوں کے پُر جوش نعرے سنتا، مقررین کی خطابت کے کمالات دیکھتا مختلف ادوار میں ان کی قلابازیوں کو انجوائے کرتا اور صرف انجوائے کرتا۔ میں علمائے کرام کی خطابت کا بھی بہت دلدادہ تھا۔ اس میں شیعہ،سنی ،اہل حدیث کی کوئی تفریق نہیں تھی۔

یار عطا ! تمہیں یاد ہوگا ، میں اُن دنوں ٹی ہاؤس میں بھی باقاعدگی سے جایا کرتا تھا۔وہاں ادیب اور دانشور چائے کے کپ پر علمی اور ادبی گفتگو کر رہے ہوتے۔ یہ کسی کو رگید رہے ہوتے کسی کو بانس پر چڑھا رہے ہوتے۔ وہاں حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس بھی ہوا کرتے تھے، میں ان میں بھی شرکت کرتا۔ یہاں گفتگوؤں میں مغربی دانشوروں کے اقوال زریں کے حوالے دیئے جاتے۔ جو زیادہ حوالے دیتا اسے بڑا دانشور تسلیم کر لیا جاتا۔ تم بھی کبھی کبھی وہاں آیا کرتے تھے۔

تمہیں یاد ہوگا ایک دفعہ ہمارے ایک مشتر کہ دوست نے بہت مزے کی شرارت کی۔ اس نے ایک مغربی دانشور کا حوالہ اپنی گفتگو میں دیا۔ اس کے بعد بیشتر دانشور اسی کا حوالہ اور اس کی کو ٹیشنز سے اپنی گفتگو کو بہت قابل توجہ بناتے رہے اور سامعین ان کے علم کی وسعت سے متاثر ہوتے رہے۔ بالآخر ایک دن ہمارے اس دانشور دوست نے حلقے میں اعلان کیا کہ یارو! میں نے جس مغربی فلاسفر کا حوالہ دیا تھا اور اسکے بعد دوسرے دوست بھی اس کی کو ٹیشنز کوٹ کرتے رہے وہ کوئی فلاسفر یا دانشور نہیں تھا بلکہ میں نے اس کا نام سگریٹ کے ایک پیکٹ پر پڑھا تھا، جو اس کمپنی کا مالک تھا۔

یار عطا ! تمہیں یاد ہو گا کالج کے دنوں میں ابراہیم ہمارے ساتھ کیسی کیسی شرارتیں کیا کرتا تھا۔ وہ شدید گرمی کے دنوں میں کالج گراؤنڈ میں میری اور تمہاری کشتی اناؤنس کر دیتا۔ ہمارے کلاس فیلو تماشائی ہوتے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگ جاتے ، ہم پسینوپسین ہو جاتے ، ہمارا سانس دھونکنی کی طرح چلنے لگتا ، ہمارے کپڑے لیر و لیر ہو جاتے ، ناک سے خون بھی بہنے لگتا اور جب ہم نڈھال ہو جاتے تو پتہ چلتا کہ ابراہیم اور اس کے لائے ہوئے تماشائیوں میں سے وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ اس وقت یقیناً کالج کے گیٹ کے قریب واقع خان کی کینٹین پر پلستر کھا رہے ہوتے ۔

یار عطا ! کیا ہمارے ساتھ آج بھی یہی کھیل تو کھیلا نہیں جا رہا ؟“یار عطا ! تمہیں یاد ہے اُن دنوں ہم کبھی کبھی لکشمی چوک میں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کشمیری چائے بھی پیا کرتے تھے۔ وہاں تیل بھری شیشیوں کو چھنکا تے مالشیے بھی پھرا کرتے تھے، ہم ان سے سر پر چانپی بھی کرواتے اور اس خدمت کے عوض وہ پانچ روپے لے کر بہت خوش ہوتے۔ وہاں ایک نا بینا فقیر بھی ہوتا تھا ۔

یار عطا ! تمہیں یاد ہے ایک دن اتوار کے روز میں اپنی موٹر سائیکل پر نسبت روڈ سے گزر رہا تھا۔ اتوار کی وجہ سے سڑک بالکل خالی تھی اور وہاں لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے، اور ربڑ کی گیند سے نہیں "اصلی گیند" سے اپنی جولانیاں دکھا رہے تھے۔ اس دوران ایک خونخوار قسم کی گیند میرے جبڑوں سے ٹکرائی اور یہ جبڑا ہل کر رہ گیا۔ میں گر گیا، کافی چوٹیں آئیں، مجھے اسپتال لے جایا گیا، ایمر جنسی میں میری مرہم پٹی کی گئی۔ میں ٹھیک ہو گیا مگر ابھی تک کرکٹ کے شیدائیوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ سڑکیں بند ہو رہی ہیں، لوگ زخمی ہور ہے ہیں مگر اسٹروک لگانے والے باز نہیں آرہے۔

میں نے اپنے دوست کی یہ باتیں سنیں تو کہا تمہاری سب باتیں صحیح ہیں، میں ان کاگواہ ہوں مگر تم نے یہ جو کہا ہے کہ تم بہت بانکے سجیلے تھے ، گورے چٹے ، گھنگریالے بال، گھر سے نکلتے تو دریچوں سے روشن چہرے جھانک رہے ہوتے تھے، یہ مجھے یاد نہیں ۔ ویسے یہ کب کی بات ہے؟(قند مکرر)

تازہ ترین