آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کوئی زمانہ تھا جب پاکستان کا ہیلتھ سسٹم دُنیا کا بہترین نظام سمجھا جاتا تھا، سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں پر لوگوں کا اعتماد تھا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، فاطمہ جناح میڈیکل کالج، نشتر میڈیکل کالج اور ڈائو میڈیکل کالج کا نام نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں احترام سے لیا جاتا تھا اور یہاں سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دنیا کے جس ملک میں بھی جاتے تھے، وہاں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ آج بھی امریکہ اور انگلستان کے اسپتال ان کالجوں کے سینئر گریجوایٹس سے بھرے پڑے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کی عزت، اس کی تعلیم، تربیت اور اچھی شخصیت کی وجہ سے ہوتی ہے، بلاشبہ ماضی میں ہمارے اداروں نے ایسے ڈاکٹر پیدا کئے جو اپنی مثال آپ تھے۔ اسی طرح پچھلے دور میں ہمارے اسپتالوں کو بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسپتالوں میں ڈاکٹرز موجود ہوتے تھے، مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولت میسر تھی، ادویات ملتی تھیں، ٹیسٹ ہوتے تھے، آپریشن ہوتے تھے حتیٰ کہ تین وقت کا کھانا بھی سرکار کی طرف سے مفت مہیا کیا جاتا تھا لیکن پھر اس اچھے خاصے سسٹم کو کسی کی نظر لگ گئی۔ نااہل حکمرانوں نے اس سسٹم کی اوورہالنگ شروع کر دی اور ہیلتھ سسٹم کو جدید بنانے کے چکر میں بالکل ناکارہ بنا کر رکھ دیا گیا۔ صوبہ پنجاب میں یہ تخریب کاری پرویز مشرف کے

دور سے پہلے شروع ہوئی اور اس وقت کے حاکم ِ صوبہ کے ذہن میں ’’اٹانومی‘‘ کا خیال گھس گیا اور انہوں نے اداروں کو خودمختار بنانے کے چکر میں اپاہج بنانے کا کام شروع کر دیا۔ پھر پرویز مشرف کا دور شروع ہوا توایسے شخص کو پنجاب کا وزیر صحت بنا دیا گیا جو اپنی من مانیوں اور ضدی طبیعت کی وجہ سے مشہور تھے۔ انہوں نے ’’خودمختاری‘‘ کے ڈرامے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے صدیوں پرانے پرشکوہ ادارے ویرانی کی تصویر بن گئے۔ انہی کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں بھی ایک افلاطون وزیر صحت نمودار ہوئے اور چند مہینوں میں انہوں نے خیبرپختونخوا کے طبی اداروں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا۔ جب تک پرویز مشرف کا دورِ حکومت رہا، اس طرح کے خودسر وزرائے صحت دونوں صوبوں کے اداروں کی درگت بناتے رہے۔ پھر ایک بہت بڑا سیاسی زلزلہ آیا اور پرویز مشرف ایوانِ اقتدار سے فارغ ہو گئے۔ مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا دور حکومت ہوا۔ زرداری صاحب نے صحت کے معاملات میں اپنے ایک خاص دوست کو مختارِ کل بنا دیا‘ ان صاحب کو وفاقی کابینہ میں بھی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ ان صاحب نے اپنی وزارت اور مشاورت میں بھی خوب کارہائے نمایاں انجام دئیے اور صحت کے میدان پر بھی بھرپور توجہ فرمائی۔ صدر زرداری کے مشیرخاص نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو اپنا تختہ مشق بنایا اور پانچ سال کے اپنے دورِ اقتدار میں اس اہم ادارے کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا۔ اس مرضی کے نتائج کیا نکلے، اس پر تو کسی آئندہ نشست میں بات ہو گی، فی الحال صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا جس میں ہیلتھ کی رہی سہی کسر بھی نکال دی گئی اور ایسی ایسی چیزیں وجود میں آ گئیں کہ ماضی میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیراعلیٰجو خادم اعلیٰ کہلاتے ہیں اور کافی سارے میدانوں میں بنفس ِ نفیس خدمت کے فیصلےکرتے ہیں۔ ان شعبوں میں وزیر ہی نہیں لگائے گئے، ہیلتھ کا شعبہ بھی خادمِ اعلیٰ کی خصوصی توجہ کا مستحق ٹھہرا اور اس اہم وزارت میں کوئی وزیر مقرر نہیں کیا گیا۔ جنابِ خادمِ اعلیٰ نے اپنے پہلے دور میں زیادہ تر کمانڈو ایکشن کئے اور طبی اداروں پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں جس میں وہ مختلف اسپتال بھی تشریف لے گئے، وہاں حالات دگرگوں پائے اور غصے میں آ کر طبی عملے کو خوب جلی کٹی سنائیں اور اکثر و بیشتر ڈاکٹروں اور نرسوں کو معطل کرنے کے احکامات جاری فرمائے۔ اگر کسی فوت شدہ مریض کے لواحقین نے اسپتال کے عملے کیخلاف شورشرابہ کیا اور کوئی سڑک بلاک کر دی تو طبی عملے کیخلاف حکومت کے ایماء پر قتل کے مقدمات درج کر لئے گئے اور پولیس وارنٹ گرفتاری لیکر ڈاکٹروں کے گھروں کی دیواریں پھلانگنے لگی۔ خادمِ اعلیٰ نے اپنے نئے دورِ حکومت میں مشرف دور کی پالیسیوں کو ہی صحت کے میدان میں جاری رکھا اور منہ زور بیوروکریسی نے خادمِ اعلیٰ کو یقین دلایا کہ اٹانومی کے نسخہ ٔ کیمیا کی مدد سے سب کچھ ٹھیک کر دیا جائیگا۔ وزیر صحت کی مسلسل عدم موجودگی کی وجہ سے اوپر وزیراعلیٰ تھے اور نیچے افسرشاہی اور درمیان میں کچھ نہیں تھا۔ افسرشاہی کھل کر کھیلی اور خادمِ اعلیٰ کو عظیم انقلاب کی رپورٹس بھیجی جاتی رہیں۔ پھر کسی افلاطون نے یہ مشورہ دیا کہ جو بھی ڈاکٹر اگلے گریڈ میں ترقی پائے یا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہو کر آئے، اسے فوراً جنوبی پنجاب بھجوا دیا جائے لہٰذا کئی سال تک نہایت سختی کیساتھ اس پالیسی پر عملدرآمد کروایا گیا۔ لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں سالہاسال خدمات سرانجام دینے کے بعد جب کوئی ڈاکٹر سینئر گریڈ میں جاتا تو محکمہ صحت اسے بیدردی سے اٹھا کر جنوبی پنجاب کے دُور اُفتادہ علاقوں میں تقرری کے احکامات تھما دیتا۔ لاوارث ڈاکٹروں کو تو کسی صورت بھی کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا تھا البتہ منظورِنظر طاقتور میرٹ والے ڈاکٹروں کو اس پالیسی سے استثنیٰ ملتا رہا جس سے لاوارث ڈاکٹروں میں بے دلی پھیلی۔ لاوارث ڈاکٹروں کو رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان جانے کے احکامات ملتے، وہ وہاں جا کر حاضری دیتے اور پھر لمبی چھٹی لیکر گھر بیٹھ جاتے، نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے شہر اور بڑے میڈیکل کالج ڈاکٹروں سے خالی ہوتے چلے گئے اور جنوبی پنجاب کے اداروں کے رجسٹروں میں ڈاکٹر نظر تو آنے لگے مگر حقیقت میں ایسا نہ ہو سکا۔ ڈاکٹروں نے اس صورتحال کیخلاف بہت چیخ و پکار کی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی اور لوگوں کیلئے پروموشن ایک ایسا خوفناک خواب بن گیا کہ جس کے بعد زندگی اجیرن نظر آنے لگی۔ خادمِ اعلیٰ تک عام لوگوں کی رسائی نہیں تھی اور افسر شاہی کچھ سننے پر آمادہ نہ تھی، نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر برادری میں بددلی پھیل گئی۔ خدا خدا کر کے گزشتہ دنوں برف پگھلی کہ جب بعض بااثر ڈاکٹرز کو ایڈجسٹ کرتے وقت یہ پالیسی واپس لے لی گئی اور ڈاکٹروں نے سکھ کا سانس لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی بے تکی پالیسیاں بنانے والوں کا محاسبہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا جس کسی نے بھی یہ غلط پالیسی بنائی تھی، وہ کئی سالوں تک طبی اداروں اور ڈاکٹروں کی تباہی کے ذمہ دار تھے لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ ہمیں تو آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ محکمہ صحت کے بقراط ہیں کون؟ بیوروکریسی کو تو اتنی سمجھ ہی نہیں، وزیر موجود نہیں، ڈاکٹروں کا پالیسی تیار کرنے والی مشین کیساتھ کوئی تعلق نہیں، لے دے کر ایک مشیر صحت خادمِ اعلیٰ پنجاب رہ جاتے ہیں جو بیچارے کئی سالوں سے مشاورت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اب تک وزارت کے عہدے کے قابل نہیں سمجھے گئے۔
پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اکثر ممبران کی شہرت مثالی ہونے کی وجہ سے ہمیں توقع تھی کہ کمیشن میرٹ کے برعکس کسی بھی تقرری کی سفارش نہیں کرتا ہو گا لیکن ہمیں یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ کمیشن میں اب بھی طاقتور میرٹ کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے‘ اس سے یقینا قطعی میرٹ پر آنیوالے امیدواروں کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہو رہی ہے بلکہ کمیشن کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں