آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ ہفت رنگ کا خلجان سخت مشکل ہے
تیرے مزاج کی پہچان سخت مشکل ہے
حضور خضر و مسیحا سے مشورہ کر لو
حضور درد کا درماں سخت مشکل ہے
پیٹرول کے بحران پر اتنا زیادہ اور اتنے قلمکاروں نے لکھا ہے کہ مزید لکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ میں بڑی کنجوسی کر کے عبدالحمید عدم کے حسب حال مندرجہ بالا شعر پر گزارہ کر لیتا ہوں۔ بحرانوں کی کئی قسمیں ہیں جس طرح طوفانوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں اور اب تو امریکہ والوں نے طوفانوں کے نام رکھنے شروع کر دیئے ہیں اور آخری طوفان کو تو نیلوفر کا نام دے دیا جو کہ پاکستان میں خاصہ مقبول ہوا اور ہمارے سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے تو اسمبلی میں اس نام پر تبصرہ بھی کیا۔ پاکستانی لوگ نیلوفرکو دیکھنے کراچی کے ساحل پر جوق در جوق جمع ہوگئے اور نتیجتاً نیلوفرآنے سے پہلے لوٹ گیا۔ اب ہمیں چاہئے کہ ہم بھی بحرانوں کے کوئی خوبصورت نام رکھ دیں کیونکہ اس ملک میں بحران بھی موسموں کی طرح آتے ہیں اور یکے بعد دیگرے آتے ہیں۔
جہاں تک میرا خیال ہے کچھ بحران آتے ہیں۔ کچھ پیدا کئے جاتے ہیں کچھ لائے جاتے ہیں اور کچھ غفلت، نااہلی، سستی اور کام میں عدم دلچسپی کی وجہ سے بپا ہو جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پیٹرول کے بحران کو قارئین کیا نام دیں گے۔ میں نے مندرجہ بالا کیٹیگریاں لکھ دی ہیں آپ اپنی سمجھ کے مطابق اس

بحران کو ان میں سے کسی ایک یا دو میں فٹ کر لیں۔ بحران کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے آتے ہی پھر اس پر قابو پانا پڑتا ہے۔ اور اس پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ دو چار لوگ معطل کئے جاتےہیں۔ بڑی بڑی میٹنگیں ہوتی ہیں۔ پریس کانفرنسیں کی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے اپنے کندھوں کو ہر ذمہ داری سے پاک کیا جاتا ہے۔ خود کو بے گناہ اور معصوم ثابت کیا جاتا ہے۔ پھر آخر میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نوٹس لیتے ہیں اور نوٹس کے فوراً بعد مقررہ حدف حاصل ہو جاتا ہے یعنی کے ہنگامی بنیادوں پر بے حساب فنڈ جاری کر دیئے جاتے ہیں۔ فنڈ کے جاری ہوتے ہی شانتی ہو جاتی ہے۔ بحران تھم جاتا ہے اور پھر نیلوفر کی طرح اس کا رخ دوسرے ساحلوں پر چلا جاتا ہے۔ بحران پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے افسران کا انتہائی تجربہ کار ہونا ضروری ہے۔ پھر فنڈز کی نشاندہی کرنا، انہیں حاصل کرنا اور حاصل ہونے کے بعد ان کی بندر بانٹ اضافی قابلیت ہیں جو کہ افسر موصوف میں ہونی ضروری ہے۔ کبھی بجلی کے نام پر بحران پیدا کر کے سرکلر ڈیٹ میں کثیررقم جھونک دی جاتی ہے۔ رقم بٹنے کے بعد سرکلر ڈیٹ واپس ہی آجاتا ہے اور پھر ایک نئے بحران کی تیاری شروع ہو جاتی ہے اور بقول شاعر ؎
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
اضطراب پیدا کیا جاتا ہے اور پھر بحر کی موجیں سب کی موج کروا دیتی ہیں۔ کبھی چینی کا بحران، کبھی انرجی/ بجلی کا بحران، کبھی گندم اور آٹے کا بحران کبھی کبھی مون سون میں سیلاب بھی آجاتا ہے اور بہت لوگوں کی قسمت کھل جاتی ہے۔ سیلاب سے پہلے پشتے بنتے ہیں جن کے لئے کافی بجٹ درکار ہوتا ہے۔ سیلاب کے دوران امدادی کا رروائیاں ہنگامی بنیادوں پر ہوتی ہیں اور بہت بجٹ درکار ہوتا ہے اور سیلاب کے گزر جانے کے بعد اس کی پیدا کردہ تباہ کاریوں کی مرمت کے لئے مزید بجٹ درکار ہوتا ہے۔ گویا کہ خدا ہرحال میں مہربان ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے اور کھانے والوں کے لئے راستے نکالتا رہتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ من و سلویٰ بند ہو گیا۔ ہاں عام آدمی کے لئے بند ہو گیا۔ خواص کا تو گزارا ہی من و سلویٰ پر ہے اسی لئے تو میں ہر کالم میں لکھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں سیاست سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہے آپ حکومتوں میں رہنے والے سیاستدانوں کے 90 سے پہلے کے اثاثے دیکھیں اور آج کے اثاثے اور ٹھاٹھ باٹھ دیکھیں۔ آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی ہو سکتا ہے کہ بینائی بھی جاتی رہے۔ اللہ نے ان کو عوامی خدمت کے صلے میں بے انتہا نوازا ہے اور وہ ان پر آئندہ بھی یہ نوازشیں جاری رکھے گا۔ احتساب کا عمل اس دنیا میں روک کر رکھے گا کیونکہ ان کا احتساب اگلے جہاں میں کرنا مقصود ہے۔ بقول علامہ اقبال کے ہم فقط وعدہ حور پر ہیں۔ خیر یہ ساری فضول باتیں میں نے نہ جانے کس موڈ میں لکھ دی ہیں۔ ہمارے ہاں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے اور انہیں کی کاوشوں اور دعائوں سے یہ ملک چل رہا ہے ورنہ تو دوستوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اب تھوڑا سا سنجیدہ کالم ہو جائے۔
اس ہفتے کی سب سے اہم خبر یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے تین طلاقوں کی شرعی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا غیر شرعی ہے اور اس اقدام کو قابل تعزیر بنانے کی سفارش کی ہے۔ یہ بڑا ہی احسن قدم ہے جو کہ ہماری اسلامی نظریاتی کونسل نے اٹھایا ہے ہمارے ملک کے 1962 کے عائلی قوانین کے مطابق کوئی بھی طلاق 90 دن سے پہلے مؤثر نہیں ہوتی۔ ہر طلاق کی اطلاع دفعہ7 کے تحت چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا لازمی ہے۔ چیئرمین دونوں پارٹیوں کو نوٹس دے کر طلب کرتا ہے اور صلح کروانے کی بے انتہا کوشش کرتا ہے اوراکثر اوقات کامیاب ہو جاتا ہے اور گھر ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔ اب یہ اچھا ہو گیا ہے کہ علماء کرام نے بھی یہی سفارش کر دی ہے اور اب بیک وقت تین طلاقوں کا سلسلہ فوراً ختم ہو جائے گا کیونکہ اسے قابل تعزیر بنانے کی سفارش اسلامی نظریاتی کونسل نے کر دی ہے۔ اب قومی اسمبلی کے ممبران کا فرض ہے کہ دیر کئے بغیر اس کا بل منظور کریں۔ سزا کا تعین کریں اور عدالت نامزد کریں تاکہ سزائوں کا سلسلہ ظالم شوہروں کے خلاف جلد شروع ہو جائے اور مظلوم عورتیں سکھ کا سانس لیں۔ آخر میں اشفاق حسین کے اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
دل ہے کہ کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پاتا
اک موج تذبذب کے اچھالے ہوئے ہم ہیں
اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں
یوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں