آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان اور ترکمانستان نے ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن (TAPI) منصوبے کے تحت گیس کی خرید و فروخت کے معاہدے (GSPA) پر 14 نومبر 2011ء کو اسلام آباد میں دستخط کئے گئے تھے، آج تقریباً 4سال کے بعد ترکمانستان کے شہر میری سٹی میں اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم پاکستان سمیت افغانستان، ترکمانستان اور بھارت کے سربراہان نے شرکت کی۔ تاپی منصوبے کی لاگت 10 ارب ڈالر ہے جس کے تحت 1700 کلومیٹر کی گیس پائپ لائن ترکمانستان، افغانستان، پاکستان کے راستے بھارت تک پہنچائی جائے گی۔ یہ منصوبہ 3 سے 4 سال میں مکمل ہوگا جس کی تکمیل کے بعد پاکستان کو 1.325 ارب MMCFD گیس مل سکے گی۔ پاکستان کو اس وقت تقریباً 2 ارب MMCFDگیس کی کمی کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کیلئے گزشتہ حکومت نے اپنے آخری دنوں میں ایران کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن کے 7.5 ارب ڈالر کے ایک اور منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس کے تحت دسمبر 2014ء سے ایران کو پاکستان کو یومیہ 750MMCFD قدرتی گیس 25 سال تک سپلائی کرنا تھی۔ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے کو مزید 5 سال تک بڑھاکر 30 سال اور گیس کی مقدار 750 سے بڑھاکر 1000MMCFD یومیہ کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے میں ایران نے اپنی جنوبی گیس فیلڈ سے گیس سپلائی کیلئے پہلے ہی 907 کلومیٹر گیس پائپ لائن اصلیہ اور

ایرانشہر کے مابین ڈال دی ہے اور اب صرف پاکستان کے علاقے میں گیس پائپ لائن کو بچھانا باقی ہے جس کیلئے پاکستان کو 700 کلومیٹر 42 انچ پائپ لائن مکران کوسٹل ہائی وے پاک ایران بارڈرز پر ڈالنا پڑے گی تاکہ اس پائپ لائن کو نوابشاہ گیس نیٹ ورک سے ملایا جاسکے جس کی لاگت کا تخمینہ 1.65 ارب ڈالر لگایا گیاہے۔ پاک ایران گیس منصوبے کی تکمیل میں تقریباً 2 سال کا عرصہ درکار تھا لیکن بدقسمتی سے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی ایران پر معاشی پابندیوں کی وجہ سے امریکہ نے اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کی جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا اور یہ منصوبہ التواء کا شکار ہوگیا مگر گزشتہ دنوں امریکہ اور یورپ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد امید ہے کہ ایران سے معاشی پابندیاں اٹھالی جائیں گی جس کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے اور ان دونوں منصوبوں پاک ایران اور تاپی گیس لائن کی تکمیل سے پاکستان کی 2 ارب MMCFD یومیہ گیس کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا۔
20 سال قبل جب ترکمانستان کے صدر کی دعوت پرمیں شہید بینظیر بھٹو کے ساتھ ترکمانستان گیا تو شہید بینظیر بھٹو نے مجھے بتایا کہ وسط ایشیائی ریاستوں سے پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں 1995ء میں شہید بینظیر بھٹو نے پاکستان اور ترکمانستان کے مابین اس گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے ایک یادداشت پر دستخط کئے تھے جس کی تقریب میں، میں نے بھی شرکت کی تھی لیکن افغانستان میں ناقص امن و امان کی وجہ سے 2006ء میں طے پانے والا یہ منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکا۔ 24 اپریل 2008ء میں پاکستان، بھارت اور افغانستان نے اس منصوبے کے ایک اور معاہدے پر دستخط کئے جس کے تحت گیس پائپ لائن ہرات سے قندھار براہ راست چمن کے راستے 735 کلومیٹر افغانستان اور 800 کلومیٹر پاکستان سے ہوتی ہوئی پاک بھارت سرحدی گائوں فاضلکا تک پہنچے گی۔ 11 دسمبر 2010ء کو اشک آباد میں صدر آصف زرداری افغانستان کے صدر حامد کرزئی ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوف اور بھارت کے وزیر پیٹرولیم اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے صدر نے TAPI گیس پائپ لائن کے تاریخی معاہدے پر دستخط کرکے شہید بینظیر بھٹو کے خواب کی تکمیل کی۔ گیس کی ایک عالمی کمپنی کے مطابق اس وقت ترکمانستان میں 24.6 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر ہیں جس میں سے 14 کھرب مکعب فٹ جنوبی یولوتان عثمان گیس فیلڈ کے ہیں جس سے تاپی منصوبے میں شامل ممالک کو گیس سپلائی کی جائے گی۔ 20سال کی تاخیر کے باعث TAPIگیس منصوبے کی لاگت 3.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے یہ خطہ انرجی کاریڈور بن جائے گااور پاکستان کواس کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے اربوں ڈالر ٹرانزٹ فیس سالانہ حاصل ہوگی۔ ترکمانستان میں روس کا اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے تاپی منصوبے کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے ایشین ڈیویلپمنٹ بینک، امریکہ، روس اور چین کی پرائیویٹ کمپنیوں کے کنسورشیم کے ساتھ سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔ اس منصوبے سے مجموعی یومیہ 3.2 ارب کیوبک فٹ گیس حاصل ہوگی۔ گیس کی تقسیم کے فارمولے کے تحت افغانستان 500 ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ، پاکستان اور بھارت مساوی 1.325 ارب کیوبک فٹ گیس یومیہ حاصل کرسکیںگے۔ تاپی گیس کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کا 70% ہوگی۔ آج کل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 37 ڈالر فی بیرل کے حساب سے صرف 26 ڈالر MMCFD بنتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے تحت گیس کے نرخ خام تیل کی قیمت کا 78% ہوں گے جو تیل کی موجودہ قیمت کے حساب سے 29 ڈالر MMCFD بنتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران گیس اور تاپی گیس منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت یکساں یعنی خام تیل کا 70% ہو جس سے ہمیں آئندہ 25سالوںمیں تقریباً100ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوگی۔
پاکستان کی اس وقت گیس کی مجموعی پیداوار 27 کھرب کیوبک فٹ ہے جو ملکی ضروریات کیلئے ناکافی ہے۔ ملک میں سردیوں کے دوران ہمیں2 ارب کیوبک فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمارے سوئی گیس کے 60فیصد سے زائد ذخائر استعمال ہوچکے ہیں اور بقایا تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ پاکستان کاآئل امپورٹ بل 13 ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے حالانکہ پاکستان میں 27ملین بیرل تیل کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں لیکن ان میں سے صرف 3فیصد سے تیل نکالاجارہاہے۔ گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے حال ہی میں ایل این جی امپورٹ کرنا شروع کی ہے لیکن پورٹ قاسم میں دوسرے ایل این جی ٹرمینل کی تکمیل تک LNG کی محدود امپورٹ کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی 7 سالوں میں کم ترین قیمتوں کی وجہ سے ایل این جی کی قیمتیں بھی نہایت کم ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان قطر کے ساتھ 15 سال کیلئے 15 ارب ڈالر کا قطر گیس خریدنے کا معاہدہ کرنے والا ہے تاکہ ایل این جی کی امپورٹ سے ملک میں گیس کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔
حکومت ملک میں بجلی و گیس کی اضافی پیداوار کیلئے کوششیں کررہی ہے اور انرجی کا حصول حکومت کی ترجیحات میں واضح نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود آج صنعتوں کیلئے بجلی اور گیس کے نئے کنکشنزپر پابندی عائد ہے۔ پورٹ قاسم میں پاکستان ٹیکسٹائل سٹی کا منصوبہ گیس کے نئے کنکشن پر پابندی کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ ان حالات میں جہاں نئی صنعتوں کیلئے بجلی اور گیس دستیاب نہیں تو پھر سرمایہ کار کس طرح نئی صنعتیں لگاسکتے ہیں؟ ملک میں انرجی کا بحران ہماری صنعتی و معاشی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے ہماری جی ڈی پی گروتھ 4% سے زیادہ نہیں بڑھ رہی۔ تاپی اور پاک ایران گیس منصوبے یقینا ملک میں گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے نہایت ضروری ہیں لیکن یہ دونوں منصوبے طویل المیعاد ہیں جن کی تکمیل میں کافی وقت درکار ہوگا۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ ایل این جی، کوئلے اور دیگر متبادل انرجی کے ذرائع کو استعمال کرکے ملک میں جلد از جلد بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرے اور نئی صنعتوں کیلئے بجلی و گیس کے کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرے تاکہ ملک میں صنعتکاری کا عمل جو گزشتہ کئی سالوں سے جمود کا شکار ہے، فروغ پاسکے جس سے ملک میں غربت اور بیروزگاری میں کمی ہوگی۔

ادارتی صفحہ سے مزید