آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
2015ء میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ اور ’’کراچی آپریشن‘‘ کی کامیابی سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی دنیا کیلئے ایک مثبت پیغام ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم رول ادا کرے گا۔اس کے علاوہ صنعتی سیکٹر میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی کمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس سے ملکی معیشت میں بہتری آئی ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے 2015ء کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر پہلی بار 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو 5 سے 6 ماہ کے امپورٹ بل کیلئے کافی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے رواں مالی سال ریکارڈ ترسیلات زر بھیجی ہیں۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 16% اضافہ ہوا ہے، افراط زر کی شرح 4.5% اور بجٹ کے مالی خسارے کو 8% سے کم کرکے 5.3% کی سطح پر لایا گیا ہے جو موجودہ حکومت کا اہم کارنامہ ہے۔ رواں مالی سال ملکی گروتھ میں سروس سیکٹر کی کارکردگی دیگر سیکٹرز کے مقابلے میں بہتر رہی ہے جس کی وجہ سے جی ڈی پی گروتھ 4.24% رہی جبکہ انڈسٹریل سیکٹر جس کا ملکی جی ڈی پی میں 20% حصہ ہے، کی گروتھ گزشتہ سال کے 4.45% سے کم ہوکر رواں سال 3.62% رہی۔ اسی طرح زرعی سیکٹر جو ملکی جی ڈی

پی میں 21% حصہ رکھتا ہے، کی گروتھ گزشتہ سال کے 2.7% کے مقابلے میں اس سال بھی 2.9% غیر متاثر کن رہی۔ پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 9.25% اضافے سے 1512 ڈالر ہوگئی ہے لیکن ملکی ایکسپورٹس میں 14% کمی ہوئی ہے۔ پیداواری لاگت میں کمی اور ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے وزیراعظم پاکستان نے یکم جنوری 2016ء سے صنعتی صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں 3 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ بینکوں کے مارک اپ ریٹ میں واضح کمی کے باوجود نجی شعبوں کے قرضے گزشتہ سال کے 371 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر صرف 209 ارب روپے تک رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے جی ڈی پی میں کریڈٹ کی شرح 7 سالوں کی کم ترین 13% کی سطح پر آگئی جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ بڑے درجے کی صنعتوں کی گروتھ اس سال صرف 2.5% رہی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی دورانئے میں یہ 4.6% تھی۔ اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور بینکوں کے مارک اپ میں کمی ہے جس کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ فروخت کررہے ہیں۔ پاکستانی روپیہ بیرونی کرنسیوں کے مقابلے میں دبائو کا شکار ہے اور اس وقت ڈالر کے مقابلے میں 105 سے 106 روپے میں ٹریڈ ہورہی ہے۔
بھارت میں آبادی کے 4.7%، فرانس میں 58%، کینیڈا میں 80% جبکہ پاکستان میں صرف 0.4% ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت مجموعی 35 لاکھ افراد انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں جس میں سے صرف 10 لاکھ ٹیکس کے گوشوارے داخل کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی جی ڈی پی میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی شرح خطے میں سب سے کم صرف 9.1% ہے جبکہ خطے کے دوسرے ممالک میں یہ کم از کم 15% ہے۔ ایف بی آر نے پاکستان میں شاہانہ طرز زندگی کی بنیاد پر 2.4 ملین ایسے افراد کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں جو ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ نہیں، ان میں سے 16 لاکھ ایسے افراد ہیں جو کئی اکاؤنٹ رکھتے ہیں اور ہر سال بیرون ملک چھٹیاں منانے جاتے ہیں لیکن کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ان کے پاس19 ہزار قیمتی گاڑیاں ہیں اور وہ ایک لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ بجلی کے بلز ادا کرتے ہیں۔ حکومت نے ایسے 2 لاکھ 33 ہزار افراد کو نوٹس جاری کئے تھے جس میں سے صرف 33 ہزار افراد نے اب تک ٹیکس ریٹرن فائل کیا ہے۔ ٹیکس نادہندگان کو ان کے اکائونٹس کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے حکومت نے بینکنگ کیش ٹرانزیکشن پر 0.6% ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا تھا جسے بعد میں کم کرکے 0.3% کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وزیر خزانہ، ایف بی آر، فیڈریشن اور تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ حکومت کی کئی مہینوں سے مذاکرات چل رہے تھے اور یکم جنوری 2016ء کو وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان اور نادہندگان کے اکائونٹس کی ریگولرائزیشن کیلئے رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اس اسکیم سے 10 لاکھ نئے ٹیکس نادہندگان صرف 1% ٹیکس دے کر 5 کروڑ روپے تک کا کالا دھن سفید بناسکتے ہیں۔ اس اسکیم میں 5 کروڑ روپے تک کے ٹرن اوور پر 0.20% (ایک لاکھ روپے)، 25 کروڑ روپے تک 0.15% (4 لاکھ روپے) اور 25 کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور پر 0.1% ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ 31 جنوری 2016ء تک جمع کرانے والے نئے ٹیکس گوشواروں پر گزشتہ 4 سال کی آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا اور آئندہ 3 سالوں (2016ء سے 2018ء) کے ٹیکس گوشواروں میں اگر تاجر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں اپنا ٹرن اوور 25% زیادہ دکھایا تو اس کا انکم ٹیکس آڈٹ نہیں ہوگا۔ اس اسکیم سے وہ ٹیکس فائلرز جنہوں نے گزشتہ 10 سالوں میں اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں، بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اسکیم میں پراپرٹی، رئیل اسٹیٹ اور گاڑیاں شامل نہیں کی گئی ہیں اور حکومت کا زیادہ تر فوکس ٹیکس نادہندگان کے بینک اکائونٹس ہیں۔ اسکیم یکم جنوری 2016ء سے صرف ایک ماہ کیلئے نافذ العمل کی گئی ہے جس کی مدت ختم ہونے کے بعد مزید تجدید نہیں کی جائے گی۔ 3 سال کے بعد نئے ٹیکس دہندگان اپنی ظاہر شدہ رقم کسی خونی رشتے دار کو قانونی طور پر منتقل (گفٹ) بھی کرسکتے ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس2001ء کے سیکشن 111(4) کے تحت مستقل ایمنسٹی حاصل ہے جس کے تحت بینکوں کے ذریعے باہر سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر کوئی سوال نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے پاکستان میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر18ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں کالے دھن کو سفید کرنے کی ایمنسٹی اسکیموں کا پہلے بھی اعلان ہوچکا ہے جس میں ٹیکس انویسٹمنٹ اسکیم 2008ء(TIS) جس میں 2% انکم ٹیکس دے کر غیر قانونی رقوم اور اثاثوں کو قانونی شکل دی جاسکتی تھی لیکن یہ اسکیم بھی اتنی کامیاب نہ ہوئی اور اس اسکیم سے صرف2.5 ارب روپے حاصل ہوئے۔ انڈیا نے بھی کالے دھن کو سفید کرنے کیلئے ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا ہے لیکن1990ء میں انڈیا کی حکومت نے سپریم کورٹ کو ایک حلف نامہ دیا کہ وہ اس طرح کی کسی اور ایمنسٹی اسکیم کا اعلان نہیں کرے گی۔ بنگلہ دیش نے اپنی ایمنسٹی اسکیم میں 2% ٹیکس پر کالے دھن کو سفید کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بنگلہ دیشی کورٹ نے اس اسکیم کی اجازت نہ دی۔ ان ایمنسٹی اسکیموں میں پرتگال کی ایمنسٹی اسکیم RERT3 اب تک سب سے کامیاب رہی ہے۔
آئی ایم ایف نے وزیر خزانہ کی تجویز کردہ اسکیم کو ایمنسٹی کا نام دینے کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے اسکیم کا نام ’’رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس اسکیم‘‘ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے ٹیکس دہندگان جو کئی دہائیوں سے قانونی طور پر 30% سے 35% انکم ٹیکس کی ادائیگی کررہے ہیں، نے حالیہ اسکیم پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ ٹیکس نادہندگان ہر چند سالوں کے بعد کالے دھن کو سفید کرنے والی حکومتی ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے معمولی رقم دے کر اپنی کمائی قانونی بنالیتے ہیں جبکہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے اپنی کمائی پر متواتر اونچی شرح پرٹیکس ادا کررہے ہیں۔ میں باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے نقطہ نظر سے متفق ہوں لیکن ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے حکومت کو ٹیکس نادہندگان کے خدشات کو دور کرنا ہوگا۔ یہ بات صحیح ہے کہ متواتر ایمنسٹی اسکیموں کے آنے سے ٹیکس چوروں کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ آئندہ آنے والی اسکیموں کے ذریعے اپنے کالے دھن کو سفید کرالیں گے لہٰذا ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جانا نہایت ضروری ہے تاکہ انہیں یہ پیغام دیا جاسکے کہ اب ان کیلئے کالا دھن رکھنا آسان نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کالے دھن روکنے کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں کیونکہ یہ المیہ ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکس نادہندگان، ایماندار ٹیکس دہندگان کے مقابلے میں نہایت کم ٹیکس ادا کرکے اپنے اثاثے اور آمدنی کو قانونی شکل دے دیتے ہیں جس سے ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔