آپ آف لائن ہیں
ہفتہ7؍ذوالقعدہ 1439ھ 21؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی ریاست ورجینیا میں سفید فام نسل پرستوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر گاڑی چڑھا دی گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور 19افراد زخمی ہو گئے، سفید فام ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا۔

ریاست ورجینیا کے علاقے شارلٹس وِل میں سفید فام نسل پرستوں کی جماعتوں نے ایک ریلی کا اعلان کیا تھا ۔دائیں بازو کی جماعتیں حکومت کی جانب سے جنرل رابرٹ ای لی کے مجسمے کو ہٹانے کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ کررہی تھیں ۔

اس موقع پر سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے والے بھی آگئے اور انہوں نے اس ریلی کی مخالفت کی جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تصادم ہو گیا ۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کے اسپرے کیے جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

اس دوران سفید فام افراد کی ریلی کے خلاف احتجاج کرنے والے سیاہ فام افراد پر ایک شخص نے گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں 32 سالہ خاتون ہلاک ہوگئی جبکہ19افراد زخمی ہوئے ۔

پولیس نے 20 سالہ کار ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے بعد میں ورجینیا کے گورنر نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ریاست میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں اس طرح کے واقعات کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہم سب کو متحد ہونا چاہیے اور اس نفرت انگیز ، تعصبانہ مظاہرے کی مذمت کرنی چاہئے ۔

اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کہا کہ ’شارلٹس ول میں تشدد اور موت نے امریکی قانون اور انصاف کو زک پہنچائی ہے۔ جب اس طرح کے افعال نسلی تعصب اور نفرت سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ ہماری اقدار کے خلاف ہوتے ہیں اور انھیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

شارلٹس ویل کی پولیس کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے دو گروہوں کے درمیان ایک اور مقام پر ہونے والے جھگڑے میں 15 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ورجینیا کے گورنر ٹیری میکولف نے ایک پریس کانفرنس میں ان واقعات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

کئی دیگر رپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس تشدد کو نسل پرستانہ اور نفرت انگیز بتا کر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں