آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردوکا ایک محاورہ ہے ’’گھر پھونک، تماشا دیکھ‘‘۔ یہ محاورہ ہم پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ ابھی ابھی ہم نے سترویں سالگرہ اپنی آزادی کی منائی ہے۔ ستر سال کچھ کم عرصہ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہی ساتھ یا آس پاس آزاد ہونے والے ممالک کے ہاں ایک طرف تو بڑے مضبوط اور مستحکم سیاسی و حکومتی نظام قائم ہو گئے ہیں اور دوسری طرف وہ تیز رفتاری کے ساتھ سائنسی، صنعتی اور اقتصادی کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ ان ممالک نے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو بھی اپنے ملکی وقومی تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی متعین کردہ راہوں پر چل رہے ہیں۔
اس کے برعکس ہم نے ستر سالوں سے ’’گھر پھونک تماشہ دیکھ‘‘ ہی کو اپنی قومی پالیسی بنا رکھا ہے۔ ماضی کو تھوڑی دیر کے لئے ایک طرف رکھ کرزمانہ حال پر غور کیجئے۔ ہمارے سیاستدان، ہمارا میڈیا، معاشرے کے اہم طبقے اور ہمارے ادارے کن کاموں میں لگے ہوئے ہیں؟ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ’’پانامہ‘‘ ہمارے اعصاب پر سوار ہے۔ پانامہ کی اس کہانی میں ایک سو کے لگ بھگ دیگر ممالک کا تذکرہ بھی ہے۔ ان میں سیاستدان اور حکمران بھی شامل ہیں ۔ تقریباً تمام ممالک میں یہ مسئلہ دفن ہو چکا ہے۔ کہیں سے کوئی ذکر سنائی نہیں دیتا۔ کہا جاتا ہے آئس لینڈ کے وزیر اعظم مستعفی ہو گئے تھے۔ انہیں تو

ہونا ہی تھا کیوں کہ اُن کا اپنا اور اُن کی بیگم کا نام پانامہ لیکس میں شامل تھا اور یہ شواہد بھی ملے تھے کہ انہوں نے اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود نہ تو اُن پر کوئی مقدمہ چلا، اور نہ وہ نا اہل ہوئے۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ الیکشن میں وہ ایک بار پھر جیت کر وزیر اعظم کی کرسی پر جا بیٹھے۔
پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے یا جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔ ہمارے سیاست دانوں، ہمارے میڈیا، ہمارے اداروں اور ہمارے بااثر حلقوں نے اسے اتنا بڑا ایشوبنا لیا کہ ہم سب کچھ بھول گئے۔ ہم نے یہ بھی یاد نہ رکھا کہ ہمارے پڑوس افغانستان میں آگ لگی ہوئی ہے اور دنیا بھر کی پروپیگنڈہ مشینری ہمیں کسی نہ کسی حد تک اس آگ کا ذمہ دار خیال کرتی ہے۔ ہم بھول گئے کہ افغانستان کا صدر ہمارے بارے میں کیا کہہ رہا ہے ۔ ہم بھول گئے کہ بھارت ہمارے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر نے کے ساتھ سازشوں میں بھی مصروف ہے۔ ہم بھول گئے کہ ہم تو نواز شریف کو عبرت کا نمونہ بنانے اور شریف خاندان کو رسوا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن ہمارے مخالفین خود پاکستان کو عبرت کا نمونہ بنانے اور ساری دنیا میں رسوا کرنے کی چالیں سوچ رہے ہیں۔ہم بھول گئے کہ ملک کو عدمِ استحکام اور بے یقینی کی آگ میں جھونکنے، صفِ اول کی قیادت کو منظر سے ہٹا دینے اور اپنے خلاف پروپیگنڈے کا موثر توڑ نہ کرنے کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ ہم الزامات کا کیچڑ اچھالتے اور ایک دوسرے کے گریبان نوچتے رہے۔ ہمارا میڈیا بھی اس کھیل کا حصہ بن گیا۔ شام 6 بجے سے رات 12بجے تک ’’گھر پھونک تماشا دیکھ‘‘ کا کھیل جاری رہا۔
وزیر اعظم نواز شریف تو گھر چلے گئے۔ ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے لگانے والوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اب اُن کا اگلا منشور یہ ہے کہ نواز شریف اور اُن کا خاندان نیب عدالتوں سے سزا پائے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا جائے۔ میڈیا بھی اس نئی مہم کا حصہ بن گیا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ آگے کیا ہو گا لیکن اس وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیں کھلی دھمکی دی ہے کہ تم باز آجا ؤ ورنہ تمہارے خلاف انتہائی سخت اقدام اٹھائے جائیں گے۔ جنوبی ایشیااور افغانستان کے حوالے سے ایک پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی قوم سے اپنے پہلے رسمی خطاب میں کہا کہ ’’ ہم اربوں ڈالر پاکستان کو دیتے ہیں لیکن پاکستان اب بھی ان دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے جن سے ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان اپنا یہ روّیہ فی الفور تبدیل کرے۔‘‘ ٹرمپ نے اور بھی بہت کچھ کہا جن کا آسان زبان میں ترجمہ یہ ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کی فرمانبرداری نہ کی تو اُسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ پاکستان کی سرزنش کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے بھارت کی زبردست تعریف کی ہے اور افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔ اگلے دن امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کرخت لہجے میں کہا کہ پاکستان نے روّیہ نہ بدلا تو اس کی امداد کم کی جاسکتی ہے۔ نیٹو اتحادی کا درجہ بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان عسکریت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے دینا بند کرے، انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ امریکہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھ پاکستان کے ایٹمی اسلحہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
یہ ساری باتیں نئی نہیں ہیں۔ پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی سب سے زیادہ قیمت اُس نے ادا کی ہے۔ ہزاروں لوگ وار اِن ٹیرر کا نشانہ بن گئے۔ پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔ زندگی کے تمام شعبے اس جنگ سے متاثر ہوئے۔ پاکستان نے افغانستان میں پائیدار امن کے لئے بھی سنجیدہ کوششیں کیں۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردّالفساد کے ذریعے دہشت گردوں اور اُن کے نیٹ ورک پر شدید ضرب لگائی گئی۔ لیکن امریکہ ہے کہ مسلسل ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتا رہا۔ اب ڈو مور کا یہ مطالبہ کھلی دھمکیوں تک آ پہنچا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج کو سمجھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اب تو صاف دکھائی دینے لگا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ناکہ بندی کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ بھارت نے ہمیں تنہا کر دینے کے جس مشن کا اعلان کیا تھا، اُسے عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کن مرحلہ بھی شاید قریب آ گیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کا ذکر بڑے تسلسل سے ہونے لگا ہے۔ وجہ اسکی یہ بتائی جا رہی ہے کہ دہشت گرد ان ہتھیاروں پر قبضہ کر لیں گے۔ اس سے زیادہ بچگانہ بات کا تصور بھی محال ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس صورت حال میںمشاورت کے لئے فی الفور سعودی عرب گئے۔ چیئرمین سینیٹ جناب رضا ربانی کا ایک عجیب وغریب بیان سامنے آیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔ اپوزیشن کے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکی سفیر کو احتجاجاً پاکستان سے نکال دیا جائے۔ کچھ اورتنظیمیںبھی متحرک ہو گئی ہیں__لیکن یہ سب کچھ وہی ہے جس نے ہمیں اس موڑ تک پہنچا دیا ہے۔
آج ملک صفِ اول کی سیاست سے محروم ہو چکا ہے۔ ایک بڑا بحران ہماری دہلیز تک آ گیا ہے۔ دشمن اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے کمر کس رہا ہے۔ بھارت امریکہ گٹھ جوڑ بڑے خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے لیکن ’’گھر پھونک تماشادیکھ‘‘ کا سلسلہ جاری ہے۔ لال قلعہ پر پرچم لہرانے والے اب وائٹ ہائوس کو سبق پڑھانے کے نعرے لگارہے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں