آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میانمار(برما) میں روہنگیا مسلمان بد ترین مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی حکومتی اور سرکاری سر پرستی میں انکے خلاف آپریشن ہوتے رہے ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے انکی نسل کشی، معاشی اور سماجی استحصال کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور خواتین کی عصمت دری معمول کے واقعات ہیں۔ کہنے کی حد تک برما کا آئین اپنے باشندوں کو سماجی اور مذہبی آزادی دیتاہے۔ حکومتی سطح پر مگر اقلیتوں کے حقوق اور آزادی سلب کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ برما کی نوے فیصد آبادی بدھ مت مذہب کی پیروکار ہے۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات کے مطابق کسی جانورکو مار ڈالنا بھی انسانی قتل کے برابر قابل مذمت اور ناجائز تصور ہوتا ہے۔ برما میں مگر مہاتما بدھ کے پیروکاروں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے قتل و غارتگری اور خونریزی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ایسی صورتحال میں روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کی خاطر بنگلہ دیش یا تھائی لینڈ جیسے قریبی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔دوران سفر سینکڑوں مہاجرین بارودی سرنگوں یا سمندری لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اور جو سرحد پار پہنچتے ہیں انہیں انتہا درجے کی کسمپرسی اور بے سروسامانی کا سامنا رہتا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں سے بودھ بھگشوں نے روہنگیا مسلمانوں پر جو قیامت ڈھا رکھی ہے،

اس سے بچنے کی خاطرسوا لاکھ مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں انہیں خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی انتہائی قلت کا سامنا ہے۔ مزیدمشکل یہ کہ حسینہ واجدکو ان سے کوئی ہمدردی بھی نہیں۔ وہ کھلے بندوں کہہ چکی ہیں کہ وہ کیوں برمی باشندوں کو اپنے ملک میں رہنے دیں؟ْ۔گزشتہ سات دہائیوں سے جاری اس تماشے پر عالمی اداروں نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ برما میں ہزاروں انسانوں کے حالیہ قتل نا حق پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے رسمی طور پر مذمتی بیان جاری کیاہے۔ یعنی" عالمی حقوق کی ٹھیکیدار " اس تنظیم نے اسی طرز عمل کا اعادہ کیا ہے جومسلمانوں کی خونریزی پر اس نے برسوں سے اختیار کر رکھا ہے۔ کہنے کو مسلمان دنیا کی دوسری بڑی مذہبی اکثریت ہیں۔ دنیا میں49 مسلمان ممالک موجود ہیں۔ اسلامی دنیا تیل اور دیگر قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ اسکے باوجود کرہ ارض کے مختلف حصوں میں مسلمان مفلوک الحالی کا شکار ہیں۔ وہ اسقدر کمزور ہیں کہ کوئی بھی ان پر چڑھ دوڑے، انکی تباہی و بربادی کا اہتمام کر ڈالے۔ بوسنیا ، فلسطین، شام اور کشمیر میں مسلمانوں کی خونریزی کی جائے، یا اٖفغانستان ، عراق، لیبیا اور پاکستان میں بسنے والوں کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار عالمی طاقتوں کے نزدیک مسلمانوں کا خون بے حد ارزاں ہے۔
عالمی برادری کی اسی بے حسی کے باعث گزشتہ ستر برس سے بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ قائم ہے۔بھارت کھلے عام ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرتا ہے۔ عورتوں کی عصمت دری ، نوجوانوں اور بچوں کا قتل معمول کے واقعات ہیں۔ ایک لاکھ شہادتیں ہو چکیں، تاہم یہ مسئلہ ہنوذ حل طلب ہے۔ فلسطین کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ اسرائیل نے برسوں سے فلسطینی مسلمانوں کا حق غصب کر رکھا ہے۔اسکے باوجود وہ ہر طرح کی گرفت سے آزاد ہے۔ مسلمانوں کی ذلت و رسوائی اور پسپائی دراصل انکی اپنی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے۔ مثال کے طور پر، اسرائیل مٹھی بھر یہودی آبادی کا حامل ملک ہے ، جو مسلمان ممالک میں گھرا ہوا ہے۔ اسکے اطراف میں لبنان، مصر، اردن، شام، ترکی، سعودی عرب، عراق، ایران ، یمن اومان اور دیگر مسلمان ممالک آباد ہیں۔ ان ممالک نے اسرائیل کا ناطقہ بند کرنے کی مشترکہ حکمت عملی اپنائی ہوتی تو یہ معاملہ اب تک حل ہو چکا ہوتا۔کشمیر کے معاملے پر بھی آج تک 49 مسلمان ممالک بھارت یا عالمی برادری پر دبائو ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کی تنظیم او۔آئی ۔سی (OIC) جو اقوام متحدہ (United Nations) کے بعد سب سے ذیادہ رکن ممالک کی حامل تنظیم ہے، وہ برسوں سے عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ممالک کو اپنے باہمی جھگڑوں سے فرصت نہیں۔ مسلکی تنازعات نے بھی مسلم دنیا کو تقسیم کر رکھا ہے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مسلمان ممالک کے درمیان یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر مسلمان اپنے جائز حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور تمام تر وسائل کے باوجود ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ کر سکیں۔
برما کی موجودہ صورتحال کا تقاضا تھا کہ او۔آئی۔ سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتا۔ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوتا اور دنیا بھر کے ممالک کی توجہ ان غیر انسانی اقدامات کی جانب مبذول کروائی جاتی۔ مگر ایسا نہیں کیا جا سکا۔اس بحران میں ترکی کا تحرک البتہ قابل تعریف ہے۔ ترک صدر نے میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کو فون کر کے برما میں جاری آپریشن کی بھر پور مذمت کی ۔ ترک صدر کی بیوی اور بیٹے نے بنگلہ دیش میں مہاجرین کیمپوں کا دورہ بھی کیا ہے۔ترکی یہ معاملہ سلامتی کونسل میں لیجانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ مالدیپ، انڈونیشیا اور ملائشیا کی طرف سے بھی میانمار حکومت تک مذمتی پیغامات پہنچائے گئے ہیں۔ ان انفرادی اقدامات کی اہمیت بجا، تاہم اچھا ہوتا کہ مسلمان ممالک کوئی مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے۔ اور کچھ نہیں تو اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر کوئی خط ارسال کر دیاجاتا۔
پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ خطے میں اسکا کردار بے حد اہم ہے۔ میانمار میں قتل عام کے حوالے سے پاکستان کو موثر کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔اب تک مگر ہم نے زبانی کلامی بیانات اور مذمتی قراردادو ں کی منظوری پر اکتفا کیا ہے۔ افسوس کہ کشمیر ، فلسطین، برما جیسے اہم معاملات پر ہم آج تک کو ئی ٹھوس اور جامع حکمت عملی وضع نہیں کر سکے۔ مظالم کے واقعات پر ہم وقتی جوش و جذبے کے زیر اثر بلند آہنگ بیانات جاری کرتے ہیں اور چند دن بعد ان واقعات کو بھول جاتے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی جماعتوں نے خود کو امریکہ، انڈیا ، اور اسرائیل مردہ باد کے نعروں تک محدود کر رکھا ہے۔ غالباانکا خیال ہے کہ انہی نعروں سے عالمی طاقتوں کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں حساس معاملات بھی سیاست بازی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں جب کشمیر میں بھارتی دہشت گردی عروج پر تھی۔ ترک صدر طیب اردوان پاکستان آئے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ تحریک انصاف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کر ڈالا۔ کشمیر کے معاملہ پر اس بے اتفاقی کا بھارتی میڈیا میں خوب چرچا ہوا۔جس سے پاکستان کی سبکی ہوئی۔ اب بھی ہماری سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ برما کی صورتحال پر ہونے والے بیشتر ٹاک شوز سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر ہو رہے ہیں۔ زیر بحث میانمار کا معاملہ ہوتا ہے، اور سیاستدانوں کی تان پانامہ اور این۔اے 120 پر جا ٹوٹتی ہے۔سیاستدانوں کا یہی طرز عمل پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ اسی طرز عمل کی وجہ سے بہت سے داخلہ اور خارجہ معاملات پر ہم بے سمتی کا شکار ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمارے کہے پر کان دھرے تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کو درست کرنا ہو گا۔ اپنے رویوں کی اصلاح کے بعد ہی ہم اس قابل ہو نگے کہ دنیا سے اپنا موقف منوا سکیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ برما اور کشمیر جیسے اہم معاملات پر جذباتی نعروں کے بجائے ، حکمت کی راہ اپنائی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں