آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہتے ہیں اور شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ سیاست بے یقینی کاکھیل ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔ ان دنوں پورے پاکستان کی نظریں لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ120 پر جمی ہیں۔ کہنے کو تویہ محض ایک ضمنی انتخاب ہے۔2013کے بعد سے بیسیوں ضمنی انتخابات ہو چکے ہیں۔ سو اس لحاظ سے یہ معمول کی ایک سیاسی سرگرمی سمجھی جانی چاہیے لیکن ایسا نہیں ۔ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے کئی بار منتخب ہونے والے میاں محمد نواز شریف کو عدالت نے نا اہل قرار دے دیااور الیکشن کمیشن نے یہ سیٹ خالی قرار دے دی۔ اب وہاں میاںصاحب کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں۔مقابلے میں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں لیکن کلثوم نواز صاحبہ کااصل مقابلہ تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد سے بتایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے2013ء کے انتخابات میں میاں نواز شریف کے مقابلے میں پچاس ہزارسے زائد ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ اب بھی وہ بہت مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہیں اگرچہ یہ خیال عام ہے کہ اُن کی پارٹی پوری طرح اُن کے ساتھ متحرک نہیں تا ہم وہ گھر گھر جا کر رابطہ مہم چلا رہی ہیں۔
جہاں حلقہ120 کے بارے میں اخباری اندازوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں رائے عامہ کے دو جائزوں نے بھی

خاصی ہل چل پیدا کر دی ہے۔ پہلا انتخابی سروے ایک ادارے ’’پلس کنسلٹنٹ‘‘ (Plus Consultant) کی طرف سے آیا ہے۔ اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ حلقے کے 69فیصد ووٹر بیگم کلثوم نواز کو ووٹ دینا چاہتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو ووٹ دینے والوں کی تعداد 23فی صد ہے۔ دونوں جماعتوں کے ووٹ بنک میں 46فی صد کا فرق ہے جبکہ 2013ء میں یہ فرق صرف 26فی صد تھا۔ تب مسلم لیگ (ن) نے 61فی صد اور پی ٹی آئی نے 34فی صد ووٹ لئے تھے۔ دوسرا سروے زیادہ تجربہ رکھنے والے معتبر ادارے گیلپ پاکستان کی طرف سے آیا ہے۔ اس سروے کے مطابق حلقہ 120میں مسلم لیگ (ن) کے حامی ووٹرز کی تعداد 53فی صد اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی تعداد 29فی صد ہے۔ گویا دونوں کے درمیان فرق صرف 24فی صد ہے جو 2013ء سے بھی قدرے کم ہے۔ گیلپ کے مطابق پیپلز پارٹی 4فی صد اور جماعت اسلامی 1فی صد ووٹروں کی حمایت رکھتی ہیں۔
اب جبکہ 17ستمبر میں صرف ایک دن باقی ہے۔ کل شام تک نتائج سامنے آ جائیں گے۔ دعوئوں کا پول بھی کھل جائے گا اور یہ بھی اندازہ ہو جائے گا کہ رائے عامہ کے یہ جائزے حقیقت کے کتنے قریب نکلے۔ فی الحال میرے لئے چند ایسے نتائج کسی قدر دلچسپی بلکہ حیرت کا باعث ہیں جو گیلپ کے سروے میں سامنے آئے ہیں۔ انہیں دلچسپ اور حیرت انگیز اس لئے کہا جارہا ہے کہ یہ عمومی قیاس سے خاصے مختلف ہیں۔ مثلاً عام خیال ہے کہ 18سال سے 30سال کی عمر کے جوان بھاری تعداد میں عمران خان کو پسند کرتے اور پی ٹی آئی کوووٹ دیتے ہیں۔ لیکن گیلپ پول کا کہنا ہے کہ 18سے30 سال کی عمر کے جوانوں میں سے 50فی صد مسلم لیگ (ن) کو ووٹ کرنا چاہتے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کوووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کرنے والوں کی تعداد 33فی صد ہے۔ اسی طرح عام تاثر یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے لیکن یہ سروے بتاتا ہے کہ بی اے اور اس سے اوپر کی سطح کی تعلیم رکھنے والے افراد میں سے 47 فی صد مسلم لیگ (ن) اور 39فی صد پی ٹی آئی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ لیکن جب نوجوانوں کی باری آتی ہے تو 18اور 30سال کی درمیانی عمر کے افراد میں سے 44فی صد مسلم لیگ (ن) اور 44فی صد ہی پی ٹی آئی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ایک تاثر یہ ہے کہ پی ٹی آئی خواتین ووٹرز میں زیادہ مقبول ہے لیکن گیلپ پول کا کہنا ہے کہ 51فی صد خواتین مسلم لیگ (ن) جبکہ 28فی صد پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی خواہش مند ہیں۔ مردوں میں مسلم لیگ (ن) کو55فی صد اور پی ٹی آئی کو 31فی صد کی حمایت حاصل ہے۔
ان اعدادو شمار کو نہ تو کلی طور پر قبول کیاجا سکتا ہے اور نہ ہی یکسر مسترد کیا جاسکتاہے۔ اس بات سے انکار محال ہے کہ ساری دنیا میں ایسے جائزوں کی ایک اہمیت ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013ء میں گیلپ اور پلڈاٹ کے مشترکہ سروے کے اعدادو شمار حیران کن حد تک حقیقی نتائج سے مطابقت رکھتے تھے۔
حلقہ 120 کے ضمنی انتخاب کے نتائج صرف اس حلقے تک محدود نہیں رہیں گے۔ سیاسی جماعتیں ان نتائج کی روشنی میں اپنے مستقبل کی منصوبہ بند ی کریں گی۔ اُنہیں بہتر انداز میں معلوم ہو جائے گا کہ نواز شریف کی نا اہلی نے عوام پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں۔ اگر کوئی بڑا اپ سیٹ ہو جاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کو شدید دھچکا لگے گا۔ اس کے منفی اثرات موجودہ حکومت پر بھی پڑیں گے اور پارٹی کی سیاست پر بھی۔ یہ اثرات 2018ء کے انتخابات کو بھی متاثر کریں گے۔ دوسری طرف اگر مسلم لیگ (ن) 2013ء کی نسبت زیادہ بڑے مارجن سے جیت جاتی ہے یا کم از کم 2013ء کا تناسب برقرار رکھتی ہے تو وہ دلیل دینے میں حق بجانب ہو گی کہ عوام نے نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔ اور وہ اب بھی پوری طرح نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ نتیجہ جو بھی نکلے اس کے سب سے زیادہ اثرات مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف پر ہی مرتب ہوں گے ۔ بلا شبہ اس انتخاب کو پیپلز پارٹی کے لئے بھی ایک ٹیسٹ کیس کہا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں رابطہ مہم بھی چلائی ہے۔ حلقہ 120 کی انتخابی مہم میں بھی پیپلز پارٹی نے کافی سرگرمی دکھائی ہے۔ قمر زمان کائرہ کی قیادت میں پارٹی کی مقامی اور سینئر لیڈر شپ کافی متحرک رہی ہے۔ 2013ء میںاُس کے امیدوار زبیرکاردار نے صرف 2604 ووٹ حاصل کئے تھے اور اس کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ دیکھنا ہو گا کہ بلاول کی قیادت میں متحرک ہونے والی پیپلز پارٹی نے عوام کو کتنا متاثر کیا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی کے لئے بھی اس انتخاب کا نتیجہ لمحہ فکریہ مہیا کر سکتاہے لیکن ماضی میں ایسے بہت سے ’’لمحات‘‘ آئے اور چلے گئے۔ جماعت نے فکر کرنے اور حکمت عملی بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ 2013ء میں اُس کے بڑے ہی طاقت ور امیدوار حافظ سلمان بٹ نے صرف952 ووٹ لئے تھے۔ دیکھنا ہو گا کہ اب جماعت کتنی بڑی چھلانگ لگاتی ہے۔ کچھ دینی جماعتیں بھی اس انتخابی اکھاڑے میں اتری ہیں۔ اُن کا مقدر بھی دیکھنا ہوگا۔ مجموعی طور پر کل کا انتخابی دنگل ہماری سیاست کا بڑا سنگ میل ثابت ہو گا جو بہت سے سوالوںکا جواب دے گا اور بہت سے نئے سوالات بھی اٹھا دے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں