آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاید یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ ماضی اور تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔ ہم پاکستانیوں پر یہ اصول کچھ زیادہ ہی لاگو ہوتا ہے۔ معاشرے کا کوئی طبقہ اور ملک کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جو ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اصلاح پر توجہ دے اور طے کر لے کہ آ ئندہ وہ اس غلطی کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ آپ پیچھے پلٹ کر دیکھئے۔ ایوب خان اور یحییٰ کا طویل مارشل لا تقریباً تیرہ سال جاری رہا۔ یہ سلسلہ اُس وقت ختم ہوا جب جمہوری عمل کا گلا گھوٹنے کی وجہ سے مشرقی اور مغربی پاکستان میں دوریوں کی خلیج بہت زیادہ وسیع ہو گئی اور پاکستان ٹوٹ گیا۔ حمود الرحمن کمیشن بنا۔ اس کمیشن نے بہت سی تجاویز دیں کہ آئندہ مارشل لاؤں سے بچنے اور جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ معلوم نہیں ان تجاویز کا کیا بنا لیکن تاریخ کے اتنے بڑے المیّے کے باوجود صرف چھ برس بعد ایک اور مارشل لا لگ گیا جو گیارہ برس جاری رہا۔ اس مارشل لانے نہ صرف جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ معاشرے کو انتہا پسندی، تشدد اور کلاشنکوف کلچر کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا جس سے ہم آج تک نہیں نکل سکے۔ خدا خدا کر کے 1988؁کے آخر سے ایک بار پھر جمہوریت کی گاڑی پٹری پر چڑھی لیکن گیارہ سال بعد ایک اور مارشل لا نے آلیا جو تقریباً نو سال جاری

رہا۔ مجموعی طور پر تقریباً 33سال جاری رہنے والی ان غیر جمہوری آمرانہ حکومتوں نے وطن عزیز کوکیادیا؟ کتنے مسائل حل کئے اور کتنے مسائل پیدا کئے؟ جمہوریت کو کتنا مضبوط اور کتنا کمزور کیا؟ دنیا میں پاکستان کے نام کو کتنا روشن یا کتنا داغدار کیا؟ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔
سیاستدانوں پر نظر ڈالی جائے تو اُن کا ریکارڈ بھی نہایت افسوس ناک ہی رہا ہے۔ انہوں نے بھی جمہوری عمل کی مضبوطی کے لئے قابلِ رشک کردار کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب بھی مارشل لانافذ ہوا اور فوجی حکمراں نے آمریت کو سیاسی لبادہ پہنانے کی ضرورت محسوس کی تو مفاد پرست سیاستدانوں کا ایک گروہ اُن کے ساتھ مل گیا۔ ایسا بھی اکثر ہواکہ مارشل لا کے ذریعے جب کسی سیاسی مخالف کی حکومت ختم کی گئی تو دوسری طرف کھڑے سیاستدانوں نے خوشیاں منائیں، مٹھائیاں تقسیم کیں اور آمریت کو آگے بڑھ کر خوش آمدید کہا۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں ہرگز یہ خیال نہ آیا کہ اُن کا یہ روّیہ آمریت کو کتنی طاقت فراہم کر رہا ہے اور جمہوریت کو کس قدر نقصان پہنچا رہا ہے۔ بس انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ اُن کے سیاسی حریف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اُن کے ذاتی مفاد کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
اُدھرجب بھی آمرانہ دور آیا، ڈکٹیٹرز نے سیاستدانوں کے گرد شکنجہ کسنے کے لئے طرح طرح کے ضابطے اور قانون بنائے۔ اپنی مرضی کے مطابق آئین کا حلیہ بگاڑا۔ اس طرح کی ترامیم کیں جن کا مقصد صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ضیاء الحق نے آئین میں اس طرح کی شقیں ڈال دیں جو آج تک سیاستدانوں ہی نہیں جمہوری عمل کے لئے بھی مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ ان میں ایک آرٹیکل 58(2B) تھا جس کے ذریعے صدر کو اسمبلیاں توڑنے اور وزیراعظم کو گھربھیجنے کا صوابدیدی اختیار دے دیا گیا۔ اس آرٹیکل کی تلوار دوبار پیپلز پارٹی اور ایک بار مسلم لیگ (ن) پر چلی۔ بالآخر اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف نے اس وقت کی قائدِ حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر 1997ء میں تیرھویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو آئین سے نکال دیا۔ لیکن ضیاء الحق ہی کی طرف سے ڈالے گئے آرٹیکل 62,63 آج تک آئین کا حصہ ہیں۔ انہی آرٹیکلز کے تحت سپریم کورٹ نے نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے فارغ کر کے نا اہل قرار دے دیا۔
اس سارے تاریخی پس منظر کا تذکرہ کرنے کی ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ آج کل نیب کے قانون کو آئین سے نکال باہرکرنے کے لیے پارلیمانی پارٹیوں کی مشاورت عروج پر ہے۔ وزیر قانون زاہد حامد کے مطابق دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان نیب کے خاتمے اور احتساب کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عمران خان نیب پر شدید ترین تنقید کرنے والوں میں سرِفہرست رہے ہیں۔ آج اُن کی اور جماعت اسلامی کی مخالفت کی وجہ کوئی اصول یا نظریہ نہیں ، صرف سیاسی بغض ہے۔ یہ دونوں جماعتیں نواز شریف کے خلاف عدالت میں گئیں اور اُنہیں نا اہل قرار دلوا دیا۔ اب وہ چاہتی ہیں کہ نیب (جو بھی ہے، جیسا بھی ہے) تمام تر ظالمانہ ضابطوں اور ہتھکنڈوں سمیت قائم رہے تا کہ اُن کا سیاسی حریف اس کے ذریعے جیل میں ڈالا جاسکے۔ انہیں یہ خیال نہیں آ رہا کہ کل وہ بھی اس نیب کی زدمیں آسکتے ہیں۔ ذرا اور پیچھے جا کر دیکھیں تو پی۔پی۔پی اور مسلم لیگ (ن) کا طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے۔ جب آصف علی زرداری یا پی۔پی۔پی کے دیگر افراد نیب کے شکنجے میں تھے تو مسلم لیگ (ن) اس آمرانہ قانون کی محافظ بنی رہی۔ جب نیب کی تلوار نواز شریف اور اُن کے خاندان کے سروں پر لٹکنے لگی توپیپلز پارٹی خوش ہوئی کہ چلو اچھا ہوا۔ اس روّیے نے جمہوریت اور سیاسی رہنماؤں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والے میثاقِ جمہوریت کی ایک اہم شِق تھی کہ نیب کو ختم کر کے ایک متوازن احتسابی نظام بنایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں یہ کام نہ ہوا۔ اب مسلم لیگ (ن) کا پانچ سالہ دور بھی اختتام پذیر ہے لیکن احتساب کا قانون حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاسی قیادت، ذاتی اور سیاسی بُغض و عناد سے اوپر اٹھ کر آمریت کی اُن تمام نشانیوں کو آئین سے نکال باہر کرے جو کبھی ایک اور کبھی دوسرے کو نشانہ بنالیتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک ’’نیب‘‘ بھی ہے۔ پیپلز پارٹی زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس مطالبے سے دستبردار ہو گئی ہے کہ جرنیلوں اور ججوں کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے۔ سو اگر اب احتساب کا عمل صرف سیاستدانوں تک ہی محدود ہونا ہے تو کم از کم اسے بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں ہر شخص کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع ملنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اگر کچھ سبق سیکھ ہی لیا ہے تو تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی بھی ’’نواز دشمنی‘‘ کی ہٹ دھرمی سے نکلیں اور ایک اچھے اقدام میں دوسری جماعتوں کا ساتھ دیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں