آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍جمادی الاوّل 1440ھ 21؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بلوچستان میںترقی کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکیج کا اعلان بلاشبہ صوبے کے عوام کے لئے خوشحالی و کامرانی کی وہ نوید ہے جس سے علاقے میں امن و استحکام ممکن بنانے میں یقینی طور پر مدد ملے گی ۔ امن عامہ کی صورت حال اور سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے کئے گئے دورہ کوئٹہ میں وزیراعظم عباسی نے بلوچستان کیلئے اس خصوصی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو وہ تمام سہولتیں مہیا کی جائیں گی جو ملک کے دیگر حصوں کے عوام کو حاصل ہیں۔انہوں نےصوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 10 سالہ منصوبے کے تحت صوبے کے ہرضلع میںبنیادی ضروریات زندگی کے منصوبوں پر 20 ارب خرچ کئے جائیں گے ، جس کے نصف فنڈز وفاقی حکومت اور نصف صوبائی حکومت دے گی۔ وزیر اعظم نے بلوچستان میں امن کی بحالی کے عزم کا بجا طور پر اعادہ کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ شر پسندوں کا خاتمہ کرکے صوبے کے عوام کی خوشیاں لوٹائیں گے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ بلوچستا ن کو دیگر صوبوں کے مساوی لانے کیلئے پیکیج کا اعلان نہایت خوش آئند ہے اور اس پر عمل درآمد سے صوبے کے مفلوک الحال عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا مگر

دیکھا گیا ہےکہ ماضی میں بھی وفاقی و صوبائی سطح پر بلوچستان کی ترقی کے لئے کئی پیکیجز اور منصوبے پیش کئے گئے جن میں بیشتر صرف اعلان تک ہی محدود رہےاور صوبے کےعوام تک ان کے ثمرات نہیں پہنچے۔ تاہم وزیراعظم نے حالیہ پیکیج پر رواں سال سے عملدرآمد شروع کئے جانے کا جو عندیہ دیا ہے امید ہے کہ بلوچستان کے عوام جلد ا س کے مثبت نتائج سے بہرہ ور ہوں گے اور غیر ملکی مداخلت سے پیدا ہونے والی شورش کی فضا کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔اسی طرح کے پیکیجز کا اعلان ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے بھی کیا جانا چاہئے تاکہ ملک میں یکجہتی اور اتحاد قائم ہو ااور بنیادی سہولتوں سے محروم ان علاقوں کے عوام ملک کی ترقی اپنا کردار ادا کرسکیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں