آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ نے16نومبرکو ’’عالمی یوم برداشتـ‘‘ کے طور پر متعارف کروا رکھا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا کے مختلف ممالک اور معاشروں میں برداشت اور رواداری کو فروغ دیناہے۔ آج کی دنیا ایک گلوبل ویلج ہے، چنانچہ اس بار اس دن کی گونج ہمارے ہاں بھی سنائی دی۔ مختلف تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں برداشت کی اہمیت اور ضرورت کا تذکرہ ہوا۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم کوئی د ن منا تولیتے ہیں ، مگراس کے ساتھ جڑے سبق کو سال بھر فراموش کیے رکھتے ہیں۔ "یوم برداشت" بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہمارے مذہب اسلام میں تحمل، برداشت، رواداری، صلہ رحمی اور عفو و درگزر جیسے معاملات کی بیحد تاکید ہے۔ اسلام کے نام پر قائم ہمارے ملک میں مگر عدم برداشت دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ بسا اوقات یہ عدم برداشت، انتہا پسندی کی شکل اختیار کرتا محسوس ہوتاہے۔ یہ صورتحال تقریبا ہر سطح اور ہر شعبے میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر ،ملکی سیاست کو ہی دیکھ لیں۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر اس بات کے حق میں نہیں کہ ہر خرابی اور غلط کاری کیلئے حکومتوں اور سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کا تذکرہ ہو، تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان بھی ہیں۔ انتہا درجے کی عدم برداشت ہے جو سیاسی سطح پر دکھائی

دیتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں۔مجال ہے کہ مخالف سیاسی نقطہ نظر کوتسلیم کر لیا جائے، خواہ وہ کتنا ہی درست اور ملکی مفاد کیمطابق کیوں نہ ہو۔ایسا بلند سیاسی درجہ حرارت صرف قومی معیشت اوردیگر معاملات پر ہی اثر انداز نہیں ہوتا،بلکہ قوم کے مزاج کو بھی متاثر کرتا ہے۔یہ امر نہایت قابل تشویش ہے کہ کچھ برسوں سے سیاست میں تلخی اور بے لچک رویے در آئے ہیں۔ غیر اخلاقی زبان و بیان رواج پا گیا ہے۔ کرخت لہجے اور تحقیر وتضحیک آمیز الفاظ کا استعمال عام ہوگیاہے۔ اس صورتحال کے منفی اثرات پوری قوم ،خاص طور پر نوجوان نسل کے عمومی مزاج پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ عام لوگوں کی محفل میں مذہب اور مسلک جیسے حساس معاملات کو زیر بحث لانے سے گریز کرنا چاہیے۔ آجکل قومی سیاست بھی ایک ایسا ہی حساس معاملہ بن چکی ہے، جس پر بات کرتے وقت لوگ جوش جذبات میں صبر و تحمل کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ یعنی سیاسی پسند نا پسند کو عوام نے مذہب اور مسلک کی مانند اختیار کر لیاہے۔یہی وجہ ہے کہ اپنے اپنے نقطہ ہائے نگاہ کے علاوہ کسی دلیل کو سننے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ بطور استاد میرا جامعات میں زیر تعلیم نوجوانوں سے رابطہ رہتا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ سیاست نے ان نوجوانوں کے ذہنوں اور سوچ میں تلخی اور انتہا پسندی بھردی ہے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کا حامی اپنی پسندیدہ جماعت اور رہنما کو تمام خامیوں سے پاک ایک فرشتہ اور مسیحاتصورکرتا ہے۔ باقی تمام سیاست دان اس کے نزدیک چور، ڈاکو ، لٹیرے ہیں، جنہوں نے اس ملک کو برباد کر ڈالا ہے۔یہ پڑھے لکھے نوجوان اس امر کی تفہیم سے قاصر نظر آتے ہیں کہ ہر سیاستدان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے موقف کی حمایت میں ان نوجوانوں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل بھی نہیں ہوتی۔ ٹی وی پروگراموں اور جلسوں میں سنی سنائی باتیں ہیں جو وہ من وعن دہرا دیتے ہیں۔ جن مخصوص سیاستدانوں نے ہماری نوجوان نسل کو دلیل سے عاری،اس بے لچک سوچ کی جانب دھکیلا ہے، انہوںنے اس قوم پر ظلم کیا ہے۔
اس منفی صورتحال میں میڈیا بھی حصہ دار ہے۔ بیشتر ٹی وی چینلز کو دیکھ کر تاثر ملتا ہے کہ انکا مشن ہی یہ ہے کہ سیاست دانوں کے مابین پائی جانے والی تلخی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔زیادہ تر ٹی وی اینکرز کو قومی معاملات زیر بحث لا کر مسائل کا حل تلاش کرنے اور لوگوں کو آگہی فراہم کرنے سے زیادہ ریٹنگ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ لہذامہمان شخصیات کو آپس میں لڑائی جھگڑے پراکسایا جاتا ہے۔ کچھ ٹی وی اینکروں نے باقاعدہ عدالتوں اور ججوں کی طرح فیصلے صادر کرنیکا کام بھی شروع کر رکھا ہے۔ سرعام غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ تقسیم کئے جاتے ہیں۔ کفر کے فتوے عائد کئےجاتے ہیں۔ ایسے نام نہاد صحافیوں نے عوام کو سکھایا ہے کہ اپنے نقطہ نظر پر ڈٹے رہنا چاہئے، خواہ وہ کتنا ہی بے وزن کیوں نہ ہو۔ ان سیاستدانوں اور صحافیوں سے متاثر نوجوان جب سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اپنے نا پسندیدہ سیاستدانوں کو غلیظ گالیاں بکتے اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں توہم اسے سیاسی شعو ر اور سیاسی شراکتـ (political participation) کا نام دیتے ہیں۔ اس پہلو پر ضرور تحقیق ہونی چاہئے کہ کیا اس قسم کے "سیاسی شعور "نے نوجوانوں کو سوچنے سمجھنے کاسلیقہ سکھایا ہے یا پھر انہیں بے لحاظی ، بے ادبی اور ذہنی انتہا پسندی کی طرف مائل کیا ہے۔
کہنے کو ہم اس پیارے نبیﷺ کے پیروکار ہیں جنہوں نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا اور انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ غور کیجیے کہ اپنی روز مرہ زندگی میں ہم صبر و برداشت سے متعلق انکے فرمودات پر کتنا عمل کرتے ہیں؟ سڑک پر ، اپنے دفتر، گھر، خاندان ، گلی محلے میں کتنی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اپنے ماتحتوں اور ملازمین کیساتھ ہمارا رویہ کس قدر نرم ہوتا ہے؟ اپنے گھر اور خاندان میں کتنے تحمل، بردباری، رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ سچ یہ ہے کہ اپنی اپنی زندگی اور دائرہ اختیار میں ہم سب عدم تحمل اور عدم برداشت کی مثال پیش کرتے ہیں۔
عوام تو رہے ایک طرف، بیشتر مذہبی رہنما بھی دلیل سے نقطہ نظر پیش کرنے اور منوانے کے ہنر سے عاری ہیں۔ ختم نبوت کے حلف نامہ میں چند الفاظ کی تبدیلی جیسی کوتاہی کا ازالہ ہو چکا ۔ مگر اللہ کے پیارے رسول ﷺ کی حرمت کے نام پر کئی دنوں سے اسلام آباد کا محاصرہ کیا گیاہے۔ ہمارے دین میں تو کسی راہگزر کو تکلیف سے بچانے کی غرض سے، راستے کا پتھر ہٹانابھی نیکی میں شمار ہوتاہے۔ مگر اسلام آباد میں نبیﷺ کی حرمت کے نام پراسلام آباد کے لاکھوں شہریوں کا راستہ بند کر کے انہیں اذیت دی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر اس دھرنے کی نمائندہ شخصیات کے بہت سے ویڈیو کلپ گردش کر رہے ہیں ۔ ایسی زبان کہ خدا کی پناہ۔ کیایہ ہے وہ لب و لہجہ جو اللہ کے نبی ﷺ کی حرمت کے نام پر اختیار کیا گیاہے۔اگر اسلام کے نام پر اسقدر عدم برداشت کا مظاہرہ ہو سکتا ہے، تو پھر کیا تعجب کہ ڈاکٹرز اپنی تنخواہیں بڑھوانے کیلئے اسپتالوں کی تالہ بندی کرکے مریضوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ وکیل ہیں تو ججوں کی مار پیٹ کرتے اور کمرہ عدالت میں گالی گلوچ کرتے ہیں۔ جج صاحبان اپنے فیصلوں میں سخت اور تلخ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے تمام رویے دراصل ہماری عدم برداشت اور بے لچک سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔کاش ہم سب اپنے رویوںپر نظر ثانی کریں۔ اپنے ذہن اور زبان کی تلخی پر غور کریں۔اپنے غصے، نفرت، حسد، اور کینے پر قابو پائیں۔ یقین جانیں اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو خود بھی ایک خوشگوار زندگی گزاریں گے اور دوسروں کیلئے بھی راحت و سکون کا باعث ہوں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں