آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن نام نہاد نیشنل ایکشن پلان کے اکثر حصوں پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ اس پلان کا بنیادی مقصد پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو کم کرنا اورتعصبات پیدا کرنیوالی ذہنیت کا خاتمہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ عسکری طاقت نے مسلح گروہوں کا کسی حد تک صفایا کردیا ہے لیکن ملک میں مذہبی تعصب کی فضا میںمزید اضافہ ہوا ہے ۔ سول حکمران اشاروں کنایوں سے اسکا سارا ملبہ مقتدر طاقتوں پر ڈالتے ہیں اور خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سارا حکمران طبقہ مذہبی بنیاد پرستی کو بڑھاوا دیتاہے۔ مقتدر حلقوں کی مذہبی حلقوں کی حوصلہ افزائی کی توثیق تو نہیں ہو سکتی لیکن حکومتی اشرافیہ اور سیاستدانوں کے موقع پرستانہ طرز عمل کے اظہار ہر دوسرے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ابھی پچھلے ہفتے ہی پیمرا نے میڈیا کو ہدایات جاری کیں کہ ویلنٹائن ڈے منانے کی تشہیر نہ کی جائے کیونکہ یہ مغربی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔ شاید اس سے پہلے ہائی کورٹ بھی اس پر پابندی لگا چکی ہے۔ اسی طرح پنجاب کی حکومت بسنت منانے کی اجازت نہیں دیتی۔ ویلنٹائن ڈے ہو یا بسنت ، ہماری حکومت اور اشرافیہ کو اس سے کوئی خاص غرض نہیں ہے وہ تو صرف مذہبی قدامت پرستوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت کی ناراضی سے بچنے کیلئے انتہائی موقع پرستی کا مظاہرہ

کرتے ہوئے مذہبی جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کی قومی اسمبلی میں ایک مخصوص اقلیت کیخلاف تقریر ہو یا میاں شہباز شریف کی اسمبلی میں ختم نبوت کے سلسلے میں نعرہ زنی اور پیر سیالوی کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کا معاملہ ، سب موقع پرست سیاست کے مظاہرے ہیں۔سیاست دان سماج اور قوم کے طویل المیعاد مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے وقتی شہرت کیلئے قدامت پرست اقلیت کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہبی بنیاد پرستوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ چند سو لوگوں کی ہمراہی میں پورے پورے شہر بند کردیتے ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان میں جو بھی شقیں شامل کی گئی ہوں اس مسودے کی روح یہ تھی کہ مذہبی تنگ نظری کو ختم کیا جائے اور معتدل ذہنی فضا قائم کی جائے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے فرقہ وارانہ سیاست کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور روشن خیالی کو وسعت دینا تھا۔چند مبینہ مذہبی انتہا پسندوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کرنے سے نہ تو معتدل ذہنی فضا قائم ہوتی ہے اور نہ ہی روشن خیالی کی حدیں وسیع ہوتی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی سماجی گھٹن میں زیادہ پیدا ہوتی ہے اور ہمارے سیاست دان اس گھٹن میں اضافے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے طرز عمل سے ایک طرف تو انتہا پسندی پیدا ہو رہی ہے اور دوسری طرف جب یہ قاتل صورت اختیار کرتی ہے تو پھر پولیس مقابلے کروائے جاتے ہیں۔ یعنی کہ:
درمیانِ قعر دریاتختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش
( دریا کی موجوں میں تختے پر باندھ کر مجھے کہا جاتا ہے کہ تمہارا دامن گیلا نہ ہو)
ویلنٹائن ڈے اور بسنت پر پابندی لگانے جیسے فیصلوں سے معتدل فکری فضا قائم نہیں ہوتی۔ اور یہ اتفاقیہ امر نہیں ہے کہ ہندو بنیاد پرست بھی ویلنٹائن ڈے کے اتنے ہی مخالف ہیں جتنے ہمارے نام نہاد مذہب کے ٹھیکیدار۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس عمل میں بھی عورت مرد کا رشتہ شامل ہو، دنیا کے سارے مذاہب کے بنیاد پرست متفقہ طور پر تلوار لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کی رگ حمیت جاگ پڑتی ہے۔ اپنے جیون ساتھی کو پھولوں یا مٹھائی کا تحفہ دینے سے کونسی قیامت ٹوٹ پڑتی ہے؟ لیکن چونکہ اس میں عورت کی ذات شامل ہے لہٰذا اس کو مغربی قدر کا نام دے کر مسلمان اور ہندو بنیاد پرست ایک ہی طرح سے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ رہا مغربی اقدار کا مسئلہ، تو ہم کس کس چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دیں گے؟ ہمارے سر تا پا ، جوتوں سے لے کر سر تک سارا کچھ مغربی ہو چکا ہے۔ اب نہ پاؤں میں دیسی جوتا ہے اور نہ ہی سر پر پگڑی۔
بالوں کا اسٹائل ہی لے لیجئے۔ پہلے اکثر مرد خاص طرح سے گول کٹائی کرواتے تھے اور صرف موجودہ بالوں کا اسٹائل شہروں کے فیشن ایبل لوگوں تک محدود تھا۔ اسی لئے نور جہاں کا یہ گانابہت مقبول ہوا :
پٹھے سدھے بودے واہ کے شہری بابو لنگھدا
(الٹے سیدھے بودے (انگریزی طرز کی کٹائی) بنا کر شہری بابو گزرتا ہے)
اب کون ہے جو اس طرح کے ’بودے‘ نہیں بناتا۔ اب کرتے کی جگہ کالروں والی قمیض نے لے لی ہے اور دیسی جوتی کی جگہ چپل اوربوٹ آگئے ہیں۔ اب محض ماں باپ کی پسند پر شادیاں نہیں ہوتیں: اب تو گاؤں میں بھی فریقین ایک دوسرے کو دیکھنے اور جاننے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اب تو گاؤں تک میں ٹوٹے پھوٹے انگریزی میڈیم اسکول کھل چکے ہیں جن میں بچے ٹائی لگا کر جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ پچھلے ساٹھ سالوں میں ہماری زندگیوں پر مغربی معاشرے کی چھاپ گہری ہوتی گئی ہے۔ یہ عمل جاری و ساری ہے اور حکومتی محکمے اس رجحان کو روک نہیں سکتے۔ بقول علامہ اقبال:
انداز نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں