آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محاورہ ہے کہ’’قبرستان ناگزیر افراد سے بھرے پڑے ہیں‘‘، لیکن عاصمہ جہانگیر جیسے کچھ افراد کو استثنیٰ حاصل ہے ۔ بھرپور زندگی کا اس سے بڑھ کر اظہارکیاہوگا کہ ایک فانی انسان دنیا کو اپنی رحلت پر متوجہ کرلے ؟ عزیز واقارب کی وفات خاندان کو غمزدہ کردیتی ہے ۔ لیکن کچھ ایسی عظیم الشان شخصیات ہوتی ہیں جو ہر کسی کومتاثر کرتی ہیں۔ آپ اُن سے نفرت کریں یا محبت، لیکن آپ اُن سے لاتعلق نہیں رہ سکتے ۔ عاصمہ جی کی نماز ِ جنازہ نے پاکستانی اجتماعیت کو زندہ کردیا۔ اُن کی وفات پر سوگ منانے والے، اُن کی زندگی کو داد وتحسین پیش کرنے والے اور اُن کی روشن کردہ شمع لے کر آگے بڑھنے والے، سب انسان وہاں جمع تھے ۔
نام نہادپارسائی ، غیر اخلاقی عزائم، خوشامد، عدم برداشت، مہم جوئی اور خواتین سے امتیازی سلوک کےسامنے کسی کو یہ سمجھانا بھی مشکل ہے کہ بے خوف، بااصول، نڈر، صاف گو اور مہربان عاصمہ جہانگیر کی وراثت کیا ہے؟وہ تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح بہت نمایاں، بے حد ممتاز اور واضح تھیں۔ جن افراد نے اُنہیں قریب سے دیکھا، یا جو اُن سے تحریک لیتے ہیں، وہ اُن کی زندگی سے سبق حاصل کرتے رہیں گے ۔ اُن کا بیانیہ ہمیشہ ہماری طاقتور اشرافیہ کیلئے درد ِ سر بنا رہے گا۔
میری اُن سے پہلی ملاقات وکلا تحریک کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں

ہونے والے تین روابط یادگار تھے ۔ پہلا، جب وہ حسین حقانی کی وکالت کرتے ہوئے میموگیٹ پر سپریم کورٹ کی طرف سے 184(3) کے تحت اختیارات کے استعمال کی ناقد تھیں۔ میرے اخبار نے مجھے اس موضوع پر اظہار ِخیال کی دعوت دی۔ میں نے اپنے مضمون،’’سپریم کورٹ کا ٹرائل‘‘ میں قانونی موقف کو ایک مختلف زاویے سے پیش کیا۔ مجھے صبح ساڑھے نو بجے عاصمہ جہانگیر کا فون آیا۔ اُنھوں نے کہا۔۔۔’’آپ کا مضمون،جس میں میرے موقف پر تنقید کی گئی، پڑھ کر لطف آیا۔ کوئی بات نہیں،ہم اختلاف ِ رائے کا حق رکھتے ہیں۔ جس بات پر آپ یقین رکھتے ہیں، اُس پر لکھتے رہیں۔ ‘‘دوسرا رابطہ اُس وقت ہوا جب میں نے ’’انصاف کا غرور‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی طرف سے سوموٹو اختیار کو بے دریغ استعمال کرنے پر تنقید کرتے ہوئے میر ی دلیل یہ تھی کہ اس کی وجہ سے طے شدہ طریق ِکار کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔یہ مضمون اُس وقت لکھا گیا جب جسٹس چوہدری عوامی مقبولیت کا صنم کدہ آباد کیے ہوئے تھے ۔ اُن حالات میں اس مضمون نے ایک ہلچل سی مچا دی۔ ایک معروف اینکر نے اپنے پروگرام میں اس مضمون کے مندرجات کو نمایاں جگہ دی۔ میں نے EOBI کیس کا حوالہ دیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالت میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں EOBI کی وکالت کررہا ہوں؟ اُن دنوں جسٹس چوہدری کے تبصرے ’’بریکنگ نیوز ‘‘ بن جاتے تھے ۔ مجھے بتایا گیاکہ اب مجھے توہین ِعدالت کا نوٹس وصول کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے ۔ جسٹس چوہدری کے تیور دیکھتے ہوئے میں سپریم کورٹ میںدرخواست دینے کا سوچ رہا تھا۔ میںنے عاصمہ جہانگیر سے مشورہ کیا۔ اُس وقت وہ جسٹس (ر) طارق محمود کے گھر پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ میں بہت جذباتی ہورہاتھا کہ کس طرح عدالت میں مجھے لتاڑا گیا ہے ، تو اُنھوں نے طارق صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے قہقہہ لگایا۔۔۔’’یہ اس کے ساتھ پہلی با ر ہوا ہے ‘‘۔ اُنھوں نے مجھے یقین دلایا کہ میں نے جوبھی فیصلہ کیا ہے، وہ اس کی حمایت کریں گی۔ بہرحال اُنھوں نے مجھے سمجھایا کہ برہم عدالت کا سامنا کرنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ نیز اگر کوئی مقدس گائے کے خلاف زبان کھولنے کی جسارت کرتاہے تو پھر اُسے سخت جان بھی ہونا چاہئے۔
تیسرا موقع وہ تھا جب مجھے ایک ہائی کورٹ میں بے قاعدہ تقرریوں کے بارے میں لکھنے کی پادا ش میں توہین ِعدالت کانوٹس ملا۔ عاصمہ جی نے مجھے فون کیا کہ میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ میں اس کا سامنا کروں گا، اور یہ کہ مخدوم علی خان صاحب مہربانی کرتے ہوئے میری نمائندگی کرنے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سماعت کے دوران آئیں گی۔ وہ خاص طور پر لاہور سے آئیں۔ اُنہیں خود کو لاحق سیکورٹی خدشات کی وجہ سے بلٹ پروف ڈبل کیبن، جو قطعاً آرام دہ نہیں ہوتی، استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اُنھوں نے عدالت میں شائستہ لیکن جاندار لہجے میں دلیل دی کہ توہین کے اختیار ات استعمال کرتے ہوئے آزادی اظہار کو مسدود نہیں کرنا چاہئے ۔ عدالت نے مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوٹس واپس لے لیا۔ عدالت سے باہر آتے ہوئے میں نے اُن کا شکریہ ادا کیاکہ اُنھوں نے اتنی زحمت کی۔ اُنھوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ’’بالکل ، آپ کو شکریہ ادا کرنا چاہیے ، کیونکہ میں نے کبھی اپنے شوہر کی اتنی خوشامد نہیں کی جتنی آپ کو بچانے کیلئے آج عدالت کی کرنا پڑی۔‘‘
یہ تھیں عاصمہ جہانگیر، مہربان اور پرعزم۔ جب اصولوں کیلئے لڑتیں تو ایک چٹان کی طرح غیر متزلزل ۔ آپ مدد کرنے پر اُن کی تعریف کریں تو وہ اس کا احساس کم کرنے کیلئے مزاحیہ جملے میں بات اُڑا دیتیں۔ اُن کی زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی وابستگی افراد کے ساتھ نہیں، اصولوں کے ساتھ تھی۔ یہ اصول تھے جنہیں سامنے رکھتے ہوئے وہ اداروں اور افراد کے حوالے سے اپنی پوزیشن لیتیں۔ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی تھیں۔ جب 2007 ء میں مشرف نے ججوں کو معزول کیا تو عاصمہ جہانگیر نے اُن کی بحالی کی پرزور حمایت کی ۔ تاہم عدلیہ کی بحالی کے بعد اپنی کاوش کو مفاد میں بدلنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اس کی بجائے وہ جسٹس چوہدری کے عروج کے زمانے میں سپریم کورٹ کی سب سے بلند آہنگ ناقدبن گئیں کیونکہ وہ دیکھ رہی تھیں کہ اُس وقت کی سپریم کورٹ کی فعالیت نمائندہ اداروں اور قانونی طریق ِ کار کو کمزور کررہی ہے ۔ ہماری داغدار سیاسی ( اور عدالتی) تاریخ کا علم رکھنے والی عاصمہ جہانگیر کو کسی طور برداشت نہ تھا کہ عدالت اسٹیبلشمنٹ کا دست و بازو بن کر سویلین حکومت کے پرَ کترنے کی کوشش کرے ۔ وہ میموگیٹ کو اسی پس ِ منظر میں دیکھ رہی تھیں۔ اُن کاموقف تھا کہ اگر سپریم کورٹ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں اتنی ہی پرعزم ہے تو پھر گمشدہ افراد کا کیس بھی تو قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔میمو گیٹ کی تحقیقات میں جوش دکھانے والے عدالت کو گمشدہ افراد کا کیس دکھائی کیوں نہیں دیتا، اُنھوںنے استفسار کیا ۔ وہ ایم کیو ایم کے بعض پرتشدد حربوں کی بے خوف ناقد تھیں، لیکن جب بانی متحدہ کی زبان بندی کی گئی ، تو عاصمہ جہانگیر نے اُن کی وکالت کی۔ اس پر وہ شدید تنقید کی زد میں آگئیں کہ وہ ایک ایسے ’’غدار ‘‘ کی نمائندگی کررہی ہیںجو فوج کے بارے میں ناروا زبان استعمال کرتا ہے ۔اُنہیں گم شدہ افراد ، جنہیں مبینہ طور پر دہشت گرد اور غدار قرار دیا گیا تھا، کا کیس اٹھانے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔عاصمہ کی دلیل یہ تھی کہ اگر کوئی دہشت گرد ہے تو اُس پر عوام کی نظروں کے سامنے مروجہ طریق ِ کار کے مطابق عدالت میںمقدمہ چلایا جائے ۔ دراصل یہ عاصمہ جی کا بنیادی انسانی حقوق اور قانونی طریق ِ کار کی حمایت کا غیر متزلزل عزم تھا جس کی وجہ سے اُن پر ’’ریاست دشمن ‘‘ ہونے کا شک کیا جاتا رہا۔ بطور ایک وکیل، عاصمہ جہانگیر معاشرے کے کمزور طبقات کا دفاع کرنے کیلئے کمر بستہ تھیں ، چاہے اُن طبقات کو معاشرے کی طرف سے جبر کا سامنا ہو یا ریاست کی طرف سے۔ اُنھوں نے ظلم کا شکار ہونے والی خواتین ، عزت کے نام پر قتل ہونے والیوں، جبری مشقت کی زنجیروں میں جکڑی انسانیت اور توہین کے قانون کا شکار ہونے والی اقلیتی برادری کیلئے جنگ کی ۔ وہ مذہب اور عقیدے کی تفریق کے بغیر تمام شہریوں کیلئے مساوی حقوق، اور سب سے یکساں سلوک کی قائل تھیں۔ وہ اس بات سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہوتی تھیں کہ جبر کرنے والا کون ہے اور کتنا طاقتور ہے ۔
تنگ نظری اور قدامت پسندی کے خلاف خواتین کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے اُنھوں نے ہماری مذہبی اشرافیہ کو بے نقاب کردیا۔ گم شدہ بلوچ شہریوں کے قانونی حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے وہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے سے بھی نہ ڈرتیں۔ جب شہریوں کے حقوق کا معاملہ ہوتا تو وہ ڈٹ جاتیں ، اس سے قطع نظر کہ کس کی حکومت ہے ۔ ایک وکیل اور کورٹ آفیسر ہوتے ہوئے وہ عدالت کے دہرے رویوں پر تنقید کرنے سے کبھی خائف نہ ہوئیں۔طاقت ور کے سامنے سچ بولتے ہوئے عاصمہ جہانگیر طاقت وراشرافیہ کی نگاہوں میں کھٹکتی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کے نظریات میں ہم آہنگی اور تسلسل پایا جاتا ہے ۔ وہ بھارتی جبر کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہوتیں، لیکن وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور قیام امن کی زبردست داعی تھیں۔ وہ پاکستان کیلئے جان قربان کرنے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتیں لیکن وہ ’’اچھے طالبان اور برے طالبان ‘‘ کے تصور کی پرزور مخالفت کرتیں۔ اس دوران اُنہیں یقین تھا کہ عام شہریوں اور فوجیوں کی جانیں یکساں طور پر قیمتی ہیں۔ اُنھوں نے کبھی علیحدگی پسندی کی حمایت نہیں کی لیکن وہ ریاست کے اس جبر کی ناقد تھیں جو بلوچ بھائیوں کی ناراضی کا باعث بنتا۔
ہم مجموعی طور پر روایت پسند ہیں۔ ہم اتھارٹی کا ادب کرنے کی تربیت پاتے ہیں۔ ریاست کے ارزاں کردہ بیانیے، نیشنل سیکورٹی اورحب الوطنی کے ساتھ اندھی وابستگی رکھتے ہیں۔ اگر ہم ان کا دہرا پن دیکھ بھی لیں، یا ان کی غلطیاں ہم پر آشکار ہوجائیں تو بھی ہماری علمیت پسندی ان تصورات کو چیلنج کرنے کی روادار نہیں ہوتی ۔ عاصمہ جہانگیر ایسی ’’روادار ‘‘نہیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک سچی حب الوطن تھیں۔ وہ تنقید کے نشتر سے منافقت کی جراحی کرتے ہوئے ایک صحت مند معاشرہ اور ایک فعال ریاست چاہتی تھیں۔ اور یہی اُن کا سب سے بڑا جرم تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں