Baber Sattar - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
بابر ستار
January 17, 2018
عقل سے دستبرداری

صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹویٹ پر اُنہیں پاگل یا خبطی قرار دے کر دل کی بھڑاس نکالنا اوربات، لیکن کیا پاک امریکہ تعلقات میں گہری دراڑیں پڑنے پراس ردعمل کو دانشمندانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہم عقل و شعور کے دریچے عین اُس وقت بند کرلیتے ہیں جب اُنہیں کھلا رکھنے کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ بے سروپا باتیں کرنے کی...
January 10, 2018
مرضی کی حکمرانی

(گزشتہ سے پیوستہ )ہمارے چیف جسٹس صاحب کو شکایت ہے کہ سپریم کورٹ کا تمام تر وقت سیاسی نوعیت کے مقدمات نمٹانے میں بسر ہوجاتا ہے۔ یہ وقت پاکستان کے عام شہری کو انصاف کی فراہمی کے لئے تھا۔ یہ بات البتہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ اپنے آئینی اختیار کی تشریح اس طرح کیوں کرتی ہے کہ اسے سیاسی معاملات میں الجھا لیا جاتا ہے اور وہ عام شہریوں کے...
December 30, 2017
مرضی کی حکمرانی

قانون کی حکمرانی اور افراد کی حکمرانی میں فرق ہوتا ہے ۔ قانون کی حکمرانی کی کی من مانی کی بجائے طے شدہ خطوط پر ہوتی ہے ۔ لوگ جانتے ہیں کہ قوانین کیا ہیں، چنانچہ وہ ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیتے ہیں۔ اگر وہ قوانین کی خلاف ورزی کریں تو پہلے سے طے شدہ نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ سبز روشنی پر آپ گاڑی چلاسکتے ہیں، زرد...
December 16, 2017
ناقابل ِ بیان

پرانے بھوت نہاں خانوں سے باہر آتے ہوئے ہمیں اُسی جانی پہچانی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ ہم بطور ایک ملک اس قدر قطبی رویوں کا شکار ہیں کہ غیر جانبداری اور راستے کے درمیان میں چلنے کے آپشن ختم ہوچکے ہیں۔ کسی عوامی اہمیت کے معاملے پر معروضی انداز میں بات کرنے کی گنجائش نہیں بچی۔ سازش کی کھنچنے والی لکیر آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے گی...
December 09, 2017
ماڈل ٹائون انکوائری رپورٹ کا جائزہ

ماڈل ٹائون انکوائری ایک ظالم ریاست کی زیادتی او ر ایک ظالم معاشرے کے اذیت پسند رد عمل کو اجاگر کرنے کا ایک موقع تھی۔ یہ موقع اب ضائع ہوچکا ۔ اگر رپورٹ کے موادکو دیکھیں توسب سے اچھنبے والی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے عوام کی نظروں سے اسے کیوں چھپایا ہوا تھا؟رپورٹ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے ۔اگر شہریوں کے عزت وو قار کے ساتھ جینے کے...
December 05, 2017
ہم سب جنونی ہیں

جس طریقے سے فیض آباددھرنا ختم کیا گیا ، سیاست دانوں اورفورسز کا جو کردار دیکھنے میں آیا اس سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ معتدل مزاج اور رواداری کا حامل پاکستان ہمیشہ کیلئے گم ہوچکا ہے ۔ یہ تفہیم غصے کی بجائے اداسی اورشکست خوردگی کے احساس کو گہرا کرتی ہے ۔ سیاست کو ایک گندہ کھیل کہا جاتا ہے۔ اس میں چالبازی ، مکار ی سے چلا گیا دائو...
November 25, 2017
دووزرا کی کہانی

شکار گاہ کی شکل اختیار کرنے والے معاشرے میں پروان چڑھنے والے افراد غیر انسانی تشدد سے لطف اندوز ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس رزم گاہ میں ہمدردی اور احساس کا کیا کام؟ آپ اکثر تعلیم یافتہ افراد کو یہ کہتے سنیں گے کہ اگر چند افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔ گویا اُن کےنزدیک ہمارے اداروں اور افراد کے...
November 19, 2017
خوف کے ماحول میں دلیل کی گنجائش

ہمارے ہاں پائی جانے والی تنگ نظری، چشم پوشی، خوف اور موقع پرستی کا یہ عالم ہے کہ اس اسلامی جمہوریہ (جو اسی لئے حاصل کی گئی کہ مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کرسکیں) میں مسلم اکثریت بھی خوف کے مہیب اور گہرے ہوتے ہوئے سایوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اقلیتوں کی بات چھوڑیں، عام مسلمان بھی مذہب کے نام پر مطالبات پیش...
November 12, 2017
مشکل کیس ، خراب قوانین

امریکی سپریم کورٹ کے جج ،اولیور ونڈل ہومزنے 1904 ء میں لکھا۔۔۔’’ مشکل کیسز کی طرح بڑے کیسزبھی خراب قانون سازی کرتے ہیں۔ بڑے کیسز اپنی اہمیت کی وجہ سے بڑے نہیں ہوتے بلکہ ان سے وابستہ انتہائی دلچسپی کا پہلو جذبات کو ابھارتا اور فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے ‘‘پاناما نظر ِ ثانی کیس کا فیصلہ اسی نکتے کی تصدیق کرتا ہے ۔ وسیع تر پس منظر میں...
November 06, 2017
ہمارے ادارے حجرہ نشین کیوں ہیں؟

پی پی پی میں موجود کچھ مثالیت پسند سب کے احتساب کی بات کررہے تھے ۔ اب تک اُنہیں اس مطالبے کے نقصان کی سمجھ آچکی ہوگی ۔نئے احتساب قانون میں ججوں اور جنرلوں کا عوامی احتساب کرنے کے مطالبے کو خارج کردیا گیا ہے ۔ اچھی لگے یا بری، ہمارے ہاں یہی حقیقت سکہ رائج الوقت ہے۔ اگر ہم اپنے تاریخی پس ِ منظر، جس میں ان اداروں نے اپنی طاقت استعمال...
October 28, 2017
دن دیہاڑے ڈکیتی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اﷲ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سوسائٹی فائونڈیشن (FGEHF)کی طرف سے سرکاری افسران، ججوں، صحافیوں اور وکلا میں پلاٹ تقسیم کرنے کے لئے F-14 اورF-15 سیکٹرز کا حصول غیر آئینی اورغیر قانونی قرار دے دیا ہے ۔جج صاحب نے واضح کیا کہ ہماری طاقت ور اشرافیہ ایک عقربی پلاٹ مافیا بن چکی ہے ۔ اس اشرافیہ نے...
October 21, 2017
بنگلہ دیش ماڈل کا خطرہ

اس وقت ساز ش کی سربلند تھیوری یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہونے جارہی ہے ۔ اسے بنگلہ دیش ماڈل کی طرز پر قائم کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش ماڈل میں غیر منتخب شدہ ادارے ناگہانی حالات میں آگے قدم بڑھاتے ہوئے آسمان کو گرنے سے بچاتے ہیں۔ بدعنوان اور نااہل سیاست دانوں کی وجہ سے آسمان گرنے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے ۔ صاف الفاظ میں آپ کہہ...
October 14, 2017
پولیس افسران قربانی کے بکرے کیوں؟

پاکستان میں پولیس طاقتور ادارہ نہیں ہے ۔ طاقت فوج، عدلیہ ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے پاس ہے ۔ پولیس اہل کاروں کو ریاست میں سب سے زیادہ توہین کا نشانہ بنا یا جاتا ہے ۔ صرف یہی نہیں، وہ آسانی سے قربانی کے بکرے بھی بن جاتے ہیں۔ اس قربانی کی بہت سی مثالیں ہیں۔ تازہ ترین مثال بے نظیر بھٹو قتل کیس میں دو پولیس افسران...
October 07, 2017
پھسلن دار ڈھلوان

ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی ڈھلوان پر پھسل رہے ہیں،کہیں قدم ٹکتے دکھائی نہیں دیتے، سامنے آمریت کی گہری کھائی ہے ۔ نواز شریف کومنصب سے الگ کردیا گیا لیکن سیاست سے نہیں نکالا جاسکا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ اپنے حلقوں میں ابھی بھی مقبول ہیں۔ پی ایم ایل (ن) کی اصل حریف پی ٹی آئی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت اُس سے آگے...