Baber Sattar - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
پیر 02 صفر المظفر 1439ھ 23 اکتوبر 2017ء
بابر ستار
October 21, 2017
بنگلہ دیش ماڈل کا خطرہ

اس وقت ساز ش کی سربلند تھیوری یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہونے جارہی ہے ۔ اسے بنگلہ دیش ماڈل کی طرز پر قائم کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش ماڈل میں غیر منتخب شدہ ادارے ناگہانی حالات میں آگے قدم بڑھاتے ہوئے آسمان کو گرنے سے بچاتے ہیں۔ بدعنوان اور نااہل سیاست دانوں کی وجہ سے آسمان گرنے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے ۔ صاف الفاظ میں آپ کہہ...
October 14, 2017
پولیس افسران قربانی کے بکرے کیوں؟

پاکستان میں پولیس طاقتور ادارہ نہیں ہے ۔ طاقت فوج، عدلیہ ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے پاس ہے ۔ پولیس اہل کاروں کو ریاست میں سب سے زیادہ توہین کا نشانہ بنا یا جاتا ہے ۔ صرف یہی نہیں، وہ آسانی سے قربانی کے بکرے بھی بن جاتے ہیں۔ اس قربانی کی بہت سی مثالیں ہیں۔ تازہ ترین مثال بے نظیر بھٹو قتل کیس میں دو پولیس افسران...
October 07, 2017
پھسلن دار ڈھلوان

ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی ڈھلوان پر پھسل رہے ہیں،کہیں قدم ٹکتے دکھائی نہیں دیتے، سامنے آمریت کی گہری کھائی ہے ۔ نواز شریف کومنصب سے الگ کردیا گیا لیکن سیاست سے نہیں نکالا جاسکا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ اپنے حلقوں میں ابھی بھی مقبول ہیں۔ پی ایم ایل (ن) کی اصل حریف پی ٹی آئی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت اُس سے آگے...
October 01, 2017
شطرنج کا کھیل

ہماری سیاست میں شطرنج کے کھیل میں بھی زیادہ چالیں پائی جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں، خاکی وردی پوش، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور رائے دہندگان اس کھیل کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نتائج کو مینج کرنا اگر ناممکن نہیں تو بھی مشکل ضرور ہے ۔ نوازشر یف کو ہٹائے جانے ، اور توجہ کا ارتکاز 2018ء میں طاقت کی تقسیم پر ہونے کی وجہ سے پی ایم ایل (ن) کی...
September 23, 2017
وطن کا حقیقی مفاد بنام جذباتی حب الوطنی

یہ فطری بات ہے کہ کمزور افراد اپنے جیسے کمزور شخص کی حمایت کریں گے جب وہ کسی طاقتور کے سامنے مقابلے کے لئے کھڑا ہوجائے۔ جب پہلی خلیجی جنگ کے دوران امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو کم و بیش پورے پاکستان نے صدام حسین کی جرات کو سلام کیا ۔ ہم جوش سے وارفتہ تھے کہ کسی نے تو ایک سپرپاور کے سامنے سراٹھانے کی جرات کی ۔ ہم نے یہ خبریں جوش ومسرت...
September 16, 2017
توقعات کا بوجھ

سپریم کورٹ نے شریفوں کی نظر ِثانی کی اپیل کی سماعت کی اوراسے مسترد کردیا ۔ نظر ِثانی کے محدودامکانات کودیکھتے ہوئے کسی ڈرامائی پیش رفت کی توقع نہیں تھی ۔ مقدمات میں ہارنے والے بھی ہوتے ہیں اور جیتنے والے بھی ۔ اس کیس میں شریفوں کو شکست ہوئی ۔ اس کیس کے نتیجے میں نوازشریف کا سیاسی کردار ختم ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ پی ایم ایل (ن) کی طرف سے...
September 09, 2017
ریاستی اور غیر ریاستی عناصرکے کھیل

دس سال کا عرصہ بیت گیا،ان گنت تفتیشی کارروائیوں کے سلسلے کے بعدمقدمہ چلا ، فیصلہ سامنے آیا لیکن ہم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حقائق سے آج بھی اتنے ہی بے خبر ہیں جتنے اُس روز ، جب یہ سانحہ پیش آیا تھا ۔ ا س کا افسوس ناک ترین پہلو یہ ہے کہ فیصلے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی ۔ جب ریاست ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا دعویٰ...
September 02, 2017
تصادم نہیں، تعاون درکار ہے

چیئرمین سینیٹ، جناب رضا ربانی کی ریاستی اداروں اور طاقت کے مراکز کے مابین ڈائیلاگ کی تجویز کا غیرجذباتی انداز میں معروضی جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ ہماری طاقت ور اشرافیہ کی باہم آویزش نے ملک کو ایک دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ہم اس میں مزید دھنس سکتے ہیں۔ بچنے کا راستہ یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ (اوربعض اداروں) کے اپنائے گئے طرز عمل کا...
August 26, 2017
کسے وکیل کریں۔۔۔

جوکچھ وکلا نے گزشتہ ہفتے لاہور میں کیا، اس کا کوئی جوازتھا نہ اس کی حمایت کی جاسکتی ہے ۔ کوئی اصول نہیں، کھلی بدمعاشی ۔ جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ ہم اس نہج تک کس طرح پہنچے تو بار اور بنچ ، دونوں کا قصور دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن اگر صرف اس واقعہ کو دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے نہیں بجی تھی ۔ ہمارے پیشے (وکالت)...
August 19, 2017
سسٹم فعال ہے

قوم بظاہر دو مختلف ، لیکن درحقیقت ایک جیسی چیزوں کے درمیان انتخاب کی الجھن میں گرفتار ہے ۔ ایک طرف کم کوش، اخلاقیات سے بوجھل مجسم اچھائی ہے جو احتساب اور قانون کی حکمرانی کے سنہرے دور کی نوید سنارہی ہے ۔ دوسری طرف انقلاب کا معرکہ گرم کرتے ہوئے ووٹ کے تقدس کو مبینہ سازشوں سے رہائی دلانے والے نعروں کی گونج ہے۔ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ...
August 05, 2017
کیا انصاف ہوتا دکھائی دیا؟

امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس رابرٹ جیکسن کا ایک مشہور بیان ہے ۔۔۔’’ہم اس لئے حتمی اتھارٹی نہیں کہ ہم بے خطا ہیں، بلکہ ہم بے خطا اس لئے ہیں کیونکہ ہم حتمی اتھارٹی ہیں۔‘‘پاناما کیس میں ہماری سپریم کورٹ کا فیصلہ جسٹس جیکسن کے الفاظ کی دانائی پر مہر ِتصدیق ثبت کرتا ہے ۔ جس فیصلے نے کسی ٹرائل کے بغیر ایک منتخب شدہ وزیر ِاعظم کو منصب سے...
July 29, 2017
کیا یہ اصلاحات کا راستہ ہے؟

پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ ہم ترقی اور اصلاح کے کسی متفقہ راستے کا انتخاب نہ کر سکے ۔ ایک لمحے کے لئے سازش کی تھیوری کو ایک طرف رکھتے ہوئے فرض کرتے ہیں کہ اصلاح کے لئے جو راستے بھی اختیار کیے جارہے ہیں، اُن کے پیچھے درست نیت اور اچھا ارادہ کارفرما ہے ۔ لیکن کیا اچھی نیت کسی طرز عمل کو درست اور قابل ِ...
July 22, 2017
نجات کا شارٹ کٹ راستہ

ہم کھیل تماشوں کی رسیا ایک قوم ہیں۔ حالیہ دنوںفوری اور من پسند سیاسی نتائج کی خواہش سے بڑھ کر شاید ہی کوئی گفتگو ہوئی ہوکہ پاناما اسکینڈل نے ہمارے سیاسی نظام کی کس خامی کو آشکار کیا ہے اور اس کی اصلاح کس طرح کی جائے (آئی اے رحمان کا ’پاناما سے حاصل ہونے والا سبق‘ ایک نادر مثال ہے )۔ ہماری سیاست اس قدر منقسم اور دھڑے بندی کا شکار ہے...
July 15, 2017
منصب سے الگ ہونے کا وقت

جے آئی ٹی رپورٹ حقیقی، بامعانی اور نتیجہ خیز جسٹس کے لئے اختیار کیے جانے والے انصاف پر مبنی طریق ِ کار کی حمایت میں بذات ِ خود ایک مضبوط دلیل ہے ۔ پاناما کیس میں تین رکنی اکثریتی بنچ نے درست فیصلہ کرتے ہوئے وزیر ِاعظم اور اُن کے خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات عدالت کی نگرانی میں کرانے کا حکم دیا ۔ جے آئی ٹی رپورٹ نے شریفوں کی...