آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
کالم کا عنوان دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میں اس نواز شریف کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے شہر سے تعلق رکھنے والے نہایت قابلِ احترام جج صاحبان (جن میں سے دو صاحبان کا ناچیز کو شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے) دوسری دفعہ نااہل قرار دے چکے ہیں، اور جلد ہی تیسری دفعہ نااہل قرار دینے کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ میں بھلا ایسے نواز شریف پر اپنا کالم کیسے ضائع کر سکتا ہوں جو غیر محتاط اندازے کے مطابق عنقریب اپنے بال بچوں سمیت راہیِ اڈیالہ ہونے کو ہے۔بلکہ میں آج آپ سے ایک ایسے شریفو کا ذکر کرنے جا رہا ہوں، جو پنجاب کے دیہات کی سیاست کا ایک استعارہ ہے۔
صدیوں پرانی داستان ہے۔ پنجاب پر مغلوں کی حکومت تھی۔ شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر نے مغل فوج کھڑی کرنے کیلئے ایک اچھوتا نظام قائم کیا جسے منصب داری نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت پنجاب کے کئی حصوں کو منصب داروں میں جاگیروں کی شکل میں بانٹا ہوا تھا۔ ہرمنصب دار ایک فوجی افسر تھا جس کے ذمہ مخصوص تعداد میں فوجی بھرتی کرنا اور گھوڑے پالنا تھا۔ منصب داروں کے مختلف عہدے انکے ذمہ گھوڑوں اور فوجیوں کی تعداد کی بنیاد پر تھے۔

موجودہ نواز شریف کے زمانہ سیاست میں پلنے بڑھنے والے ہمارے جیسے لکھنے والے توایم این ایز کیلئے اے ایس آئی یا ایکسائز انسپکٹر بھرتی کرنے کے کوٹے سے واقف ہیں یا پھر بڑا تیر مار لیا تو احسن سیاست کرنے والے میرے آئیڈیل سیاستدان کے ایل پی جی کے کوٹے سے، لیکن اکبر بادشاہ کے زمانے میں دس فوجیوں اورگھوڑوں سے لیکر پانچ ہزار گھوڑوں تک کے کوٹے ہوتے تھے اور کسی منصب دار کا عہدہ کتنا بڑا ہے اس کیلئے دیکھنا پڑتا تھا کہ اس کے ذمہ کتنے فوجی اور گھوڑے تیار رکھنے کا کوٹہ ہے۔ اسی زمانے میں راوی کے اس پار جو علاقہ اب بھارت کے گورداسپور ضلع کا حصہ ہے وہاں ایک گائوں تھا جس میں زیادہ تر جاٹ، آرائیں اور کشمیری برادری کے لوگ آباد تھے۔ گائوں کے لوگوں کا غالب پیشہ کھیتی باڑی تھا لیکن مغل فوج کی ضرورتوں کے پیش نظر گائوں کا ایک تگڑا جوان منصب دار تھا جسکے پاس پچاس فوجی اور سو گھوڑوں کا کوٹہ تھا۔ ویسے توگائوں کے کئی بزرگ خود کو چوہدری کہلواتے تھے اور اپنی چوہدراہٹ کا دم بھرتے تھے لیکن گائوں کا اصل چوہدری وہ منصب دار ہی تھا، اسکا نام شرافت دین تھا لیکن وہ چوہدری شرفو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ گائوں کئی ہزار لوگوں پر مشتمل تھا اس لئے لوگوں میں مختلف دیوانی اور فوجداری تنازعات پیدا ہوتے رہتے تھے۔ ویسے تو گائوں کا ہرخود ساختہ چوہدری خود ساختہ پنچایتی بھی تھا لیکن اپنی عقلمندی اور مہارت سے سب سے بڑا پنچایتی ہونے کا اختیار رحمت اللہ چوہدری نے اچک لیا تھا جسے لوگ بابا جی رحمتاں والا کے نام سے جانتے تھے۔ اسی گائوں میں ایک تیسرا کردار شریفو نامی ایک نوجوان تھا جسکا خاندان تو گائوں میں ایک ہٹی چلاتا تھا لیکن اسکے سر پر گائوں کا چوہدری بننے کی دھن سوار تھی۔ لوگ اسے بہت سادہ سمجھتے تھے لیکن وہ قسمت کا دھنی تھا۔ اس نے اپنے خاندانی کاروبار کو منصب دار کا دل جیتنے کیلئے استعمال کیا اور جلد ہی بڑی کچی عمر میں گائوں کے چوہدریوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ۔ اوائل عمری کی چوہدراہٹ سے جب دل بھر گیا تو اُسے احساس ہوا کہ اسکی چوہدراہٹ تو چوہدری شرفو کی انگلی کے سہارے پرکھڑی ہے، لیکن اسے تو اصلی اور "وڈا" چوہدری بننے کا شوق تھا۔ اس نے انگلی کے سہارے سے بغاوت کرنے کا منصوبہ بنایا تو گائوں کے لوگوں سے رابطے بڑھانے شروع کیے۔ گائوں کے لوگوں میں بہت بے چینی رہتی تھی۔ مغل فوج کی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے گائوں کے لوگوں کے خون پسینے کا آخری قطرہ بھی کشید کر لیا جاتا تھا۔ رہی سہی کسر منصب دار اور اسکے حواریوں کی دولت کی ہوس پوری کر دیتی تھی۔ اس گائوں کے لوگ صدیوں سے جہالت، توہم پرستی، کاہلی اور بددیانتی جیسی برائیوں کا شکار تھے، اور باہمی جھگڑے اور تقسیم اسکے علاوہ تھی۔ چوہدری شرفو بڑی مہارت سے گائوں والوں کی ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا تھا اور اپنا کوٹہ پورا کر کے اپنا مطلب نکالتا تھا۔ گائوں کے لوگوں کیساتھ جاری معاشی، معاشرتی اور سیاسی نا انصافی پر انصاف کا لبادہ چڑھانے میں بابا جی رحمتاں والا اسکی مدد کرتا تھا اور اپنی مدح سرائی کیلئے چوہدری شرفو نے بھانڈ اور میراثی رکھے ہوئے تھے جو ہر وقت عوام کے سامنے چوہدری شرفو کی بڑائیاں بیان کرتے تھے اور چوہدری شرفو کو گائوں کی خبریں لا کر دیتے تھے۔ شریفو اس سارے کھیل کو سمجھتا تھا کہ وہ خود اس کھیل کا حصہ رہ چکا تھا۔ اسکے سر پر اصلی چوہدراہٹ کا جنون تھا یا وہ واقعی عوام کا خیر خواہ بن گیا تھا، جیسا کہ اسکا دعویٰ تھا۔ یا پھر چوہدراہٹ اور خیر خواہی دونوں نے مل کر اسکی ذات پر وہ رنگ چڑھا دیا تھا کہ اس نے بالآخرچوہدری شرفو سے بغاوت کر دی۔
کوئی اور ہوتا تو چوہدری شرفو شاید اتنا ناراض نہ ہوتا لیکن اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودے کی بغاوت پر وہ غصے سے بے قابو ہو گیا۔ گائوں میں بہت سے خود ساختہ چوہدری تھے جو چوہدری شرفو کیلئے مسائل پیدا کرتے رہتے تھے لیکن انکو وہ کچھ ڈرا کے اور کچھ لالچ دے کر رام کر لیتا تھا۔ شریفو کو رام کرنے کی راہ میں چوہدری شرفو کا بے پناہ غصہ رکاوٹ تھا یا شریفو کی بے پناہ بغاوت، لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہوگئے۔ چوہدری شرفو کے ہاتھ میں تلوار اور پیچھے فوج تھی تو شریفو عوام کو اپنا ہتھیار بنا چکا تھا۔چوہدری شرفو چاہتا تو بڑی آسانی سے شریفو کو منظر سے ہٹا سکتا تھا لیکن وہ اسے عوام کی نظروں میں ہیرو بنانا نہیں چاہتا تھا اور پھر اسے عوامی ردعمل کا بھی خوف تھا ۔ سو اس نے بابا جی رحمتاں والا کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ بابا جی رحمتاں والا اپنی تمام تر عقلمندی اور چابک دستی کے باوجود دونوں کی لڑائی میں پِس کر رہ گیا۔ ایک طرف چوہدری شرفو کی فوج، گھوڑے اور منصب داری اور دوسری طرف گائوں کے عوام کا غم و غصہ۔ چوہدری شرفو ہر دوسرے روز شریفو کا کوئی نہ کوئی گڑا مردہ اکھاڑ کر پنچایت کے سامنے رکھ دیتا اور کہتا بابا جی سے کہ کرو کوئی رحمتاں والا فیصلہ! بابا جی ہر دوسرے روز پنچایت لگا کر بیٹھ جاتے اور کر دیتے کوئی نہ کوئی رحمتاں والا فیصلہ۔ لیکن چوہدری شرفو اور بابا جی رحمتاں والا کی ساری تدبیریں الٹی ہو جاتیں کہ ہر فیصلے کے ساتھ شریفو مائنس ہونے کی بجائے پلس ہو جاتا۔ (کالم ختم ہو گیا ہے لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسکے بعد کیا ہوا، یہ جاننے کیلئے آپکو پندرہ روز تک انتظار کرنا پڑے گا۔)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں