Adnan Randhawa - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
جمعہ 6؍ جمادی الثانی 1439ھ 23؍ فروری 2018ء
عدنان رنداھاوا
تماشائے اہل کرم
February 10, 2018
حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے

اس وقت اہم ملکی اداروں کے درمیان جو انتشار کی فضا نظر آ رہی ہے، بہت سے سنجیدہ حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تمام اداروں نے اپنی اپنی آئینی، قانونی اور مروجہ جمہوری نظامِ حکومت کے بنیادی تصورات کے مطابق طے شدہ حدود میں خود کو محدود نہ کیا اور اپنے اپنے اختیارات میں تجاوز کی روش برقرار رکھی تو خدانخواسطہ پھر کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا...
January 27, 2018
گنے کے کاشتکار اور سیاست کے شوگر ڈیڈی

جب بھی گنے کی فصل کا موسم آتا ہے ہمارا کاشتکاراپنی مہینوں کی محنت کا سکون سے پھل کھانے کی بجائے سڑکوں پر احتجاج کر رہا ہوتا ہے۔ یہ تماشا ہر سال ہوتا ہے، سو اس سال بھی ہو رہا ہے۔ فصل پکتے ہی کاشتکار کو معلوم ہوتا ہے کہ شوگر مل مالکان کے ہاتھوں اسکے استحصال کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ لیکن چند سالوں سے میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ...
January 13, 2018
افغان پالیسی کی تبدیلی ناگزیر

چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے سیکورٹی کے مشیروں سے پوچھا کہ پاکستان کے معاملے میں کیا بہتری ہے؟ اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ امریکہ کو پاکستان سے شکایت رہی ہے کہ وہ افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے جنگجوئوں کو مدد فراہم کرتا ہے جسکی وجہ سے امریکہ کو افغانستان میں تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ لڑنی پڑی ہے اور ابھی تک...
December 30, 2017
گلگت بلتستان کے نام

پیارے گلگت بلتستان! امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔ آپ کا ذکر خیر بہت دفعہ سنا ہے، تاریخ کی کتابوں میں بھی آپ کے بارے میں کئی دفعہ پڑھا ہے، چین جاتے ہوئے جہاز سے آپ کو کئی دفعہ دیکھا ہے، لیکن کبھی آپ سے بالمشافعہ ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ سنا ہے اللہ نے آپ کو قدرتی حسن سے مالا مال بنایا ہے، سنا ہے پاکستان کو چین کا ہمسایہ آپ ہی نے بنایا...
December 23, 2017
بابا رحمت دین سے مسٹر آر ڈی چوہدری تک

پرانے زمانے کی بات ہے۔ پنجاب کی دھرتی ابھی جدید تہذیب سے نا آشنا تھی۔ شہر خال خال تھے۔ تہذیبی اور سماجی اکائی دیہات پر مشتمل تھی۔ دیہات کے درمیان فاصلہ آج کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا تھا اور ہردیہہ ایک مکمل اور خود کفیل اکائی کی حیثیت رکھتا تھا۔ گائوں کے باسیوں کی سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی غرض ہر قسم کی ضروریات کا سامان...
December 16, 2017
وکلا کے خلاف سازش؟

اس کالم کا آغاز اس اعتراف کے ساتھ کرنا ضروری ہے کہ میں خود ایک وکیل ہوں۔ یہ بتانا بھی اہم سمجھتا ہوں کہ میں کوئی حادثاتی وکیل نہیں ہوں بلکہ مقابلے کے امتحانوں میں ٹاپ پوزیشنز اور سب سے اچھا سروس گروپ چھوڑ کر وکالت کے شعبے کو ترجیح دی ہے۔ یہ بات بھی قارئین کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ سات آٹھ سالہ بیوروکریسی اور چھ سات سالہ وکالت...
December 09, 2017
مارچ تک کا دھرنوں بھرا سفر

چند سال پہلے اسلام آباد پر جب پہلا دھرنا بولا گیا توسوچا کہ خوش قسمت ہوں پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں جو سازشیں اور ریشہ دوانیاں عبارت کی گئی ہیں انکا بنفسِ نفیس اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ جہاں ہزاروں مذہبی عقیدت مند جوانوں، بوڑھوں، عورتوں (حتی کہ بعض دودھ پیتے بچوں سمیت آئیں) کے مذہبی جذبات کے اسلام آباد کی...
November 25, 2017
خطرہ کرپشن نہیں، کچھ اور ہے

دوستو! قصہ نیا اور بات پرانی۔ کہتے ہیں ہزاروں سال تک انسان جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا رہا۔ کہتے ہیں اس زمانے میں انسان انسان کا استحصال نہیں کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب انسان نے فصل بونا سیکھ لی، اور غلے کو محفوظ بنانے کے طریقے ایجاد کر لئے تو ریاست کی بنیاد پڑی۔ انسان کے اوپر انسان کی حکمرانی کا آغاز ہوا، اور ساتھ ہی ساتھ...
November 18, 2017
ٹیکنو کریٹ حکومت اور صدارتی نظام کا شوشہ

سچی بات تو یہ ہے کہ عرصے سے سماجی، تاریخی، سائنسی اور اسی طرح کے دیگر بہت سے موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں لیکن مجبوراً سیاسی موضوع پر لکھنا پڑتا ہے کیونکہ سیاسی موضوعات کا کمبل ہے کہ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اگر تو سیاستدان سیاست کر رہے ہوں اور اچھے بُرے جیسے بھی فیصلے بہتر سمجھیں، کر رہے ہوں تو شاید میں سیاسی موضوع پر کبھی بھی نہ...
November 11, 2017
ہم زندہ قوم ہیں

احمد نورانی کیساتھ پہلا تعارف بیجنگ میں ہوا۔ اور یہ تعارف حسیب بن عزیز کے ذریعے ہوا جو ایک خوبصورت انسان، سلجھا ہوا سفارتکار، اور شفیق سینئر تھا۔ ویسے تو حسیب کو سیاست اورصحافت سے واجبی سے واسطہ تھا، لیکن انگریزی اخبار باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ ایک روز گپ شپ میں جانے کہاں سے احمد نورانی نامی ایک نوجوان صحافی کا ذکر چھڑ گیا جس نے ایک...
October 28, 2017
انصاف کا متلاشی ایک منصف

399 قبل مسیح کی ایک صبح یونانی سپریم کورٹ کی 500 ارکان پر مشتمل جیوری سر جوڑ کر بیٹھی تھی۔ انکے سامنے سقراط نامی سماجی و اخلاقی ناقد اور فلسفی کا کیس زیر سماعت تھا۔ ملزم پر الزام تھا کہ وہ اپنے خیالات سے نوجوانوں کے ذہن آلودہ کرتا ہے اور ریاستی مذہبی عقائد کے مطابق دیوتائوں کو نہیں مانتا۔ 280 ارکان نے قرار دیا کہ سقراط مندرجہ بالا...
October 21, 2017
ٹماٹر سے ایک مکالمہ

پیارے ٹماٹر! پہلے تو مجھے اعترافِ جرم کرنا ہے کہ مجھے پہلے آپکی اہمیت کا قطعاََ اندازہ نہیں تھا تاوقتیکہ ایک روز جوڈیشل کمپلیکس کے باہر رینجرز نے وزیر داخلہ کو روک لیا۔ میرے جیسے کتابی، مثالیت پسند اور سنکی طبعیت رکھنے والے آرام دہ کرسی کیٹیگری کے خود ساختہ تجزیہ نگاروں اور ڈرائنگ روم قسم کے فقرے دانشوروں کو گویا موقع ہاتھ آ...
October 14, 2017
ذوالفقارعلی بھٹو بنام نواز شریف

مشکل کچھ ایسی بنی کہ سمجھ جواب دے گئی۔ اگرچہ وہ اس سے کہیں زیادہ کڑا وقت دیکھ چکے تھے جب اٹک کی کال کوٹھڑی میں روزانہ آنکھ کھلتے ہی پہلا کام اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر چٹکی بھرنا ہوتا اور دوسرا کام کوٹھڑی کے سلاخوں والے گیٹ کے سامنے پانچ فٹ کے فاصلے پر دس دس قدم کا لیفٹ رائٹ کرنے والے دو سنتریوں کا بغور مشاہدہ کرنا۔...
October 09, 2017
ریاستی بقا کی جنگ

کارخانہ قدرت میں ’’بقا کی جنگ‘‘ کا اصول اس قدر استوار ہے کہ اس سے مفر ممکن نہیں۔ حیاتیاتی زندگی پر اس اصول کا اطلاق اب ایک سائنسی حقیقت ہے لیکن سائنس کے دیگر شعبے اور سوشل سائنسز بھی اس کے پابند نظر آتے ہیں۔ انسان کے اندر تو بقا کی جنگ جاری رہتی ہی ہے، انسان کی بنائی ہوئی ریاستوں کا عروج و زوال بھی اسی اصول سے مآخذ محسوس ہوتا ہے۔...