آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت سے آگے گزرنے کی سزا منیر نیازی نے ہمیں بتا دی تھی کہ آدمی تنہا رہ جاتا ہے، لیکن شاعر تو دیدہ وروں اور خواب دیکھنے والوں کی بات کررہا تھا۔ وہ جو بہت آگے دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک تنہا رہ جانے کا تعلق ہےتو یہ اس آدمی کی بھی سزا ہے کہ جو وقت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ وہ جو لڑکھڑا کر چلتا ہے اور اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کرپاتا۔ قوموں اور معاشروں کے بارے میں بھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کب اور کیوں تنہا رہ جاتے ہیں۔ پاکستان کا معاملہ بھی ان دنوں کچھ ایسا ہے کہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ تنہا ہوتا جارہا ہے۔ ان دنوں زیادہ توجہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کرنے کی جانب ہے، یعنی پاکستان کو کسی حد تک دہشت گردوں کے معاون ملکوں میں شمار کیا جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کی مالی معاونت کے امکانات کیخلاف زیادہ موثر کارروائی نہیں کی۔ یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور ٹاسک فورس کے پیرس میں ہونیوالے حالیہ اجلاس کے بارے میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔ کئی باتیں غیر واضح ہیں، لگتا ہے کہ اب ہمیں جون کے مہینے تک کی مہلت ہے کہ ملک سے دہشت گردوں کے مالی معاونت کے تمام ذرائع ختم کردیں۔ اگر ہم یہ دیکھیں کہ دہشت گردی سے خود پاکستان کو کتنا نقصان ہوا ہے اور کتنی

قربانیاں ہم نے دی ہیں اور دہشت گردی کیخلاف ہم نے کیسی جنگ لڑی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمیں اس معاملے میں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ ہمیں پریشان کر رہا ہے لیکن سچی بات ہے کہ اس میں ہمارا اپنا بھی کچھ قصور ضرور ہے۔ یہ ہمارے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ آخر پاکستان دنیا میں اتنا تنہا کیوں ہے، ویسے یہ ایک مشکل موضوع ہے جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں اس میں تمام باتیں کھل کر کہہ بھی نہیں سکتے۔ بات صرف دہشت گردی اور اس کی مختلف صفات کی نہیں ہے۔ پورے معاشرے میں قدامت پرستی کا غلبہ ہے۔ انتہا پسندی اور عدم برداشت کا بول بالا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وقت جس ہمہ گیر تبدیلی کا ہم سے تقاضا کر رہا ہے۔ اس کی تفہیم سے ہم قاصر ہیں۔ پشاور کا سانحہ ہوا اور ہم نہیں بدلے، بس نیشنل ایکشن پلان کا پھریرا لہرا کر بیٹھ گئے۔ مشال خان جیسے نوجوان کو ایک یونیورسٹی کے کیمپس پر طالب علموں کے ایک وحشی گروہ نے ہلاک کر دیا اور حالات کے بدلنے کی بات تو الگ، اس پر حملہ کرنے والوں کی پذیرائی کا منظر بھی ہم نے دیکھا۔ یہ تو اسی ہفتے کی خبر ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کی ایبٹ آباد بنچ نے 25؍افراد کو دی جانیوالی تین سال کی سزا کو معطل کر دیا اور انہیں ضمانت پر رہا کردیا۔ اس سے پہلے 26 ملزم ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کئے جا چکے تھے۔ واقعہ کی ویڈیو موجود ہے کہ جسے دیکھ کر آپ لرز جائیں۔ دوسرے کئی واقعات بھی زمینی حقائق کی گواہی دیتے ہیں۔ اب یہ جیسے رائو انوار کی کہانی ہے۔ انگریزی اخبار ’’ڈان‘‘ نے جو تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے اسے پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ ہم کس ملک میں جی رہے ہیں اور یہاں کیا ہورہا ہے۔
پاکستان کی صورت حال کو نظر میں رکھتے ہوئے آئیے ہم یہ سوچیں کہ بنیادی بلکہ انقلابی تبدیلیاں کیوں اور کیسے ممکن ہوتی ہیں۔ ایک بات تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جب حالات بہت بگڑ جاتے ہیں اور ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں تو کوئی نہ کوئی قوت تبدیلی کا پرچم اٹھا کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ کہہ کر مجھے ڈر لگا کہ کہیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں سیاسی بساط پر رکھے ہوئے کسی مہرے کی بات کررہا ہوں۔ میرا اشارہ تو کسی ایسی تبدیلی کی طرف ہے کہ جسے انگریزی میں ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ خیالات اور نظریات تبدیل ہو جائیں جن کی حکمرانی معاشرہ ایک عرصے سے قبول کر رہا ہو۔ وہ سچائیاں اپنی شکل تبدیل کرلیں جن سے انکار کی کسی میں جرات نہ ہوتی ہو۔ ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ کی اصطلاح امریکی مصنف تھامس کونی نے 1962ء میں اپنی اس کتاب میں استعمال کی جس میں سائنسی انقلاب کی تشریح کی گئی۔ بات یہ کہی گئی کہ سائنسی ترقی کسی راستے پر سیدھے چلتے ہوئے ہی نہیں ہوتی بلکہ بڑی اور اہم تبدیلیاں اکثر کسی نئی دریافت یا نظریئے کے نتیجے میںرونما ہوتی ہیں۔ اور ہر تبدیلی نئے خیالات اور سوچ کے نئے انداز کو جنم دیتی ہے۔ ایسی بنیادی اور نئی انقلابی فکر کو ہم ’’پیرڈائم شفٹ‘‘ کہہ کستے ہیں ۔ جبکہ ’’پیراڈائم‘‘ کسی نظریئے یا ضابطہ کار کے مثالی نمونے کو کہتے ہیں۔ جب ’’پیراڈائم‘‘ بدلتا ہے تو سوچنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ گویا سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ لوگ اپنے نظریات اور عقائد پر اس وقت بھی ڈٹے رہتے ہیں کہ جب ان کو ردکر دینے کے لئے کافی ثبوت جمع ہو جاتے ہیں۔ پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم نہ بدلیں۔ اقبال کی کہی ہوئی بات یاد آگئی کہ قوموں کی زندگی میں امتحان کا لمحہ وہی ہوتا ہے کہ جب وہ آئین نو سے ڈر کر طرز کہن پر اڑ جاتی ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ نئی سچائیاں ایک سیلاب بن کر خود کو منوا لیتی ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب ’’پیراڈائم‘‘ بدل جاتا ہے اور ایک نئی حقیقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو پھر یہ سوچ کر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ ارے، کبھی ہم ایسے بھی تھے۔ ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ کی سائنس اور معاشرے میں کئی مثالیں موجود ہیں لیکن سب سے بڑی مثال میری نظر میں یہ ہے کہ صدیوں اس تصور کی حکمرانی رہی کہ ہماری زمین کائنات کا مرکزہے اور یہ بھی کہ زمین ساکت ہے۔ یہ نظر یہ بطلیموس سے منسوب ہے کہ جودوسری صدی عیسوی کا ماہر فلکیات تھا۔پھر سولہویںصدی میںجب کوپر نیکس نےیہ نظریہ پیش کیا کہ زمین گردش کرتی ہے اور نظام شمسی کے دوسرے سیاروں کے ساتھ سورج کے گرد گھومتی ہے تو جیسے ایک بھونچال آگیا۔ میں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں گلیلیو کا ذکر کیا تھا کہ کیسے کلیسا نے اسے مجبور کیا کہ وہ ان حقائق سے منکر ہوجائے کہ جن کا مشاہدہ اس نے خود، اپنی دوربین سے کیا تھا لیکن نئی سچائیوں سے کوئی کب تک انکار کرتا اور جب نظام شمسی کی حقیقت ثابت ہوگئی تو پھر کوئی کیسے کہہ سکتا تھا کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور ساکت ہے۔ جب سوچ پوری طرح بدل جاتی ہے تو اسے ہم ایک نیا ’’پیراڈائم‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ پاکستان تنہا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا ایک ایسا ثبوت ہمارے سامنے ہے کہ جسے ہم قبول کرتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہمارے عزیز ترین دوستوں یعنی چین اور سعودی عرب نے بھی آخر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس کے اجلاس میں ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ اس کی کچھ بھی وجوہات ہوں، ہمارے لئے تو یہی پیغام ہے کہ اب ہمیں بھی بدل جانا چاہیے۔ یہاں ایک اور ستم ظریفی بھی قابل غور ہے۔ کئی دہائیوں سے برادر ملک، ایران سے اپنی نظریاتی جنگ کے پس منظر میں، پاکستان اور دوسرے مسلمان ملکوں میں اپنی مخصوص مذہبی سوچ کو پھیلانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے پر اس کا اثر بھی بہت پڑا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ عرب دنیا سے ہمارے گہرے معاشی تعلقات ہیں۔ کچھ بھی ہو ہم نے خدا حافظ کو اللہ حافظ کہہ دیا اور اب خود سعودی عرب کسی دوسری طرف چل پڑا ہے۔ یہ تبدیلی ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ سے کچھ مناسبت ضرور رکھتی ہے۔ ایک بڑی علامت یہ ہے کہ اب خواتین کو کار چلانے کی اجازت ہوگی۔ یہ پابندی معاشرے میں خواتین کی آزادی کے حوالے سے ایک مثال بن گئی تھی۔ سعودی عرب میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے نتائج غیر متوقع بھی ہو سکتے ہیں لیکن چلتے چلتے میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب میں تبدیلیوں کی جو سمت ہے اس سے کوئی مفر نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی راستہ آگے جاتا ہے تو وہ صرف روشن خیالی اور معاشرتی آزادیوں کی طرف ہی جاتا ہے۔ خواتین کی آزادی اس کا بنیادی نکتہ ہے۔ نئی دنیا کے نئے خیالات ہمارے بندذہن کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور اس دروازے پر اب شاید چین نے بھی دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں