Ghazi Salahuddin - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل 26 محرم الحرام 1439ھ 17 اکتوبر 2017ء
غازی صلاح الدین
خواب اور عذاب
October 14, 2017
پاکستان کی ذہنی صحت

اگر آپ افسانوی ادب کی طلسماتی حقیقت نگاری سے واقف ہیں اور آپ نے داستانوں کی جادونگری میں سفر کیا ہے تو پھر آپ شاید اس منظر کو قبول کرلیں جو میں پیش کرناچاہتا ہوں۔ سوچئے کہ جیسے کسی ماہر نفسیات کا مطب ہے جس میں ایک مریض صوفے جیسے بستر پر نیم دراز ہے۔ وہ آنکھیں موندے اپنی کہانی بیان کررہا ہے اور قریب کی کرسی پر بیٹھا ڈاکٹر اس کی...
October 07, 2017
آپ کیا کرتے ہیں،جناب عالی؟

ایک چھوٹی سی محفل میں جب میں نے ایک خاص موضوع پر نواز شریف کے موجودہ موقف کی حمایت میں کچھ کہنا شروع کیا تو کسی نے میری بات کاٹ دی ۔ بولے تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو۔ہمیشہ توتم نے نواز شریف کی سیاست کی مخالفت کی ہے۔ انہیں دائیں بازو کے قدامت پرستوں کاحامی سمجھا ہے۔ اور اب تم ان کا ساتھ دینا چاہتے ہو۔ تب مجھےکینزسے منسوب ایک واقعہ یاد...
September 30, 2017
موسم بدل رہا ہے

سن ساٹھ کی دہائی میں کہ جب مغربی ملکوں اور کسی حد تک پاکستان جیسے ملکوں میں بھی نوجوانوں نے بغاوت کا علم بلند کیا تھا تب ایک امریکی گلوکار کے گائے ہوئے ایک گیت یا نغمے کو بہت شہرت حاصل ہوئی تھی۔ وہ گلوکار بوب ڈائلن تھے۔ بلکہ ہیں کیونکہ پچھلے سال ہی انہیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ وہ اپنے گیت خود لکھتے رہے ہیں۔ یعنی انہیں ایک...
September 23, 2017
جو ہاتھی سامنے کھڑا ہے

پہلے ایک قدیم حکایت جو آپ کے حافظے میں کہیں موجود ہو گی۔ چند نابینا افراد نے مل کر ایک ہاتھی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ کام وہ اسے چھو کر اورٹٹو ل کر ہی کر سکتے تھے۔ سو ایک نے ہاتھی کے درمیانی جسم پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ارے، یہ تو ایک دیوار کی مانند ہے۔ دوسرے نے ہاتھی کے دکھائی دینے والے دانت کی نوک کو چھوا تو کہا یہ تو ایک نیزہ...
September 16, 2017
دھند میں لپٹا میدان کارزار

اگر کوئی تصویر یا تصویری ڈیزائن ایک کالم کا عنوان بن سکتا تو آج کے کالم کے لئے میرے پاس ایک پوسٹر موجود ہے۔ اس پر میری نظر این اے 120کے حلقے میں لاہور میں پڑی۔میں تو کراچی کا گرفتار ہوں لیکن اتوار اور پیر کی درمیانی رات لاہور میں گزری جہاں میں ایک میٹنگ میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ اتوار کی شام کافی دیر تک اس علاقے میں تنہا ٹہلتا رہا کہ...
September 09, 2017
وقت کی پاگل آندھی

سنانے کے لئے کئی کہانیاں ہیں۔ اپنی بھی اور دنیا کی بھی جو سلگتی ہوئی سرخیوں کی لپیٹ میں ہے۔ لیکن اس وقت ایک عجیب کیفیت سوچ اور اظہار کو کند کئے دے رہی ہے۔ ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا کہ میں امریکہ میں پورے ایک مہینے کی چھٹیاں گزار کر واپس آیا ہوں۔میںنے کہا نا کہ سنانے کو بہت کچھ ہے تو یہ سچ ہے۔ سر فہرست مکمل سورج گرہن دیکھنے کا اچھوتا...
August 19, 2017
جب دن میں تارے چمکیں گے

محاورے کی بات اور ہے لیکن میں سچ مچ دن میں تارے دیکھنے والا ہوں۔ اور 21اگست یعنی پیر کے دن اس جیون میں ایک بار تسم کے تجربے کے لئے لاکھوں امریکی بے چین ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں اس مکمل سورج گرہن کی بات کر رہا ہوں۔ جو اس دفعہ صرف امریکہ میں دیکھا جائے گا۔ آپ اس آسمانی معجزے کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہوں گے کیونکہ میڈیا میں ایک عرصے سے اس...
August 12, 2017
تاریخ کے آئینے میں ننکانہ صاحب کی ملازمہ

یہ بات بتانا شاید بالکل ضروری نہیں کہ میں ان دنوں پاکستان سے پوری آدھی دنیا دور ، ایک یادگار قسم کی چھٹیاں منارہا ہوں۔ وقت کا فاصلہ بھی 12گھنٹے کا ہے۔ یعنی جو کچھ میں چار ہفتوں کے اس وقفے میں لکھوں اس پر اس دوری کا سایہ پڑتا رہے گا۔ اور اگر نہ لکھ سکوں تو یہ بات بھی سمجھ میں آنے والی ہے۔ دور کی دنیائوں سے اب ہمارا رشتہ ، ذاتی اور...
August 05, 2017
تمام عمر کا حساب

اگست کا مہینہ شروع ہوا تو جیسے پاکستان کی آزادی کے ستر سالہ جشن کا طبل بجنے لگا۔ یہ احساس کہ ہم اپنے اس سفر میں ایک اہم سنگ میل کوچھو رہے ہیں ایک عرصے سے تھا۔ نئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ نئے تجزیے کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اور انڈیانے اپنی آزادی کا سفر ایک ساتھ شروع کیاتھا اس لئے عالمی میڈیا اس تقریب کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھ...
July 22, 2017
حکمرانوں کے پڑھنے کا سبق

میرے ایک قریبی دوست کو سندھ کے ایک چھوٹے شہر کے ایک اسکول کے بچے اکثر یاد آتے ہیں۔ڈیڑھ‘ دو سال پہلے ان کا وہاں جانا ہوا تھا۔انہیں اس اسکول کا ماحول خلاف توقع اچھا لگا۔انہیں لگا کہ بچے ذہین اور پڑھنے میں تیز ہیں۔لیکن سربراہ استاد نے بتایا کہ بورڈ کے امتحان میں ان کے گریڈ اچھے نہیں آتے۔کیوں؟سادہ سا جواب یہ تھا کہ ’’یہ بچے غریب...
July 15, 2017
پوری تصویر کوئی کیسے دیکھے

کئی سال گزر گئے۔ پاکستان کے ایک سفارت کار نے مجھے ایک واقعہ سنایا تھا جو اب مجھے یاد آرہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ وہ ایک افریقی ملک میں سفیر تھے تو ایک دن وہ بغیر اطلاع کے گھر پہنچ گئے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے اپنے ملازم سے کہ جو باورچی بھی تھا کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے۔ کچھ کھلادو۔ ملازم باورچی خانے میں تھا جب انہوں نے اونچی آواز...
July 08, 2017
بے اعتباری کا بھنور

جب دوائیں جعلی ہوسکتی ہیں اور ڈگریاں جعلی ہوسکتی ہیں تو پھر کتے کیوں جعلی نہیں ہوسکتے؟ آپ کہیں گے کہ واہ، یہ کیا بات ہوئی۔ ڈگری کے بارے میں کسی نے کچھ بھی کہا ہو لیکن کتے تو کتے ہوتے ہیں۔ نقلی اور اصلی کا کیا مطلب ہے۔ تو معاملہ یہاں یہ ہے کہ کراچی کی خاموش کالونی کے ایک شخص کو اس الزام پر گرفتار کیا گیا ہے کہ اس نے گلی کے کتے کو ایک...
July 01, 2017
اور پردے پہ منظر بدل جاتا ہے

دوپہر کے کھانے کے وقفے میں ہم سب ایک بڑے ہال میں جمع تھے۔ فرش سے چھت تک کی شیشے کی دیوار سے نظر آنے والا منظر ہمیں اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔ اور یہ وہ منظر تھا جو یادوں کے البم میں ہمیشہ سجا رہے گا۔ یورپ کی داستانوں میں بہنے والا دریا ڈینیوب اور اس پار کی سرسبز پہاڑی پر بنا ایک تاریخی قلعہ۔ جی ہاں، میں بڈا پیسٹ کی بات کررہا ہوں کہ جو...
June 10, 2017
اشرافیہ کی مافیا

اشرافیہ اور مافیا کا قافیہ تو ملتا ہی ہے، میرا خیال ہے کہ قارورہ بھی ملتا ہے۔ دونوں سے لڑنا اور جیتنا محال ہے۔ ایک فرق البتہ صاف ظاہر ہے کہ مافیا تو اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے دھونس اور دہشت کے ساتھ بے رحمانہ تشدد کا استعمال کرسکتی ہے لیکن اشرافیہ یہ کام ایک ایسے نظام کے سہارے کرتی ہے جوایک ہزار طریقوں سے ان کے مفادات کی حفاظت...