Ghazi Salahuddin - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
منگل 3؍ جمادی الثانی 1439ھ 20؍ فروری 2018ء
غازی صلاح الدین
خواب اور عذاب
February 17, 2018
محروم معاشرے کا اثاثہ

بات تو عاصمہ جہانگیر کی کرنی ہے لیکن لکھنے بیٹھا ہوں تو نہ جانے کہاں سے گلیلیو دھم سے میرے دھیان میں آبیٹھا ہے۔ اور وہ بھی عظیم جرمن ڈرامہ نگار بریخت کی ایک تخلیق کے حوالے سے۔ تو چلئے پہلے گلیلیو کو نمٹاتے ہیں کہ جو سترھویں صدی کااطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی تھا۔ اس کی سائنسی دریافتیں قدامت پرست مذہبی پیش وائوں کے عقائد سے متصادم...
February 10, 2018
کابل میں کتاب

یہ تو شاعر نے ہمیں بتایا تھا کہ ایک دفعہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ یار لوگ عشق کرنا بھول گئے۔ اب ’نیویارک ٹائمز‘ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ کابل میں لوگ خودکش دھماکوں اور غیریقینی حالات سے اتنے دلبرداشتہ ہیں اور سہم سے گئے ہیں کہ انہوں نے کتابیں پڑھنا شروع کر دی ہیں۔ میں ذکر کر رہا ہوں ایک طویل فیچر کا جو ’نیویارک ٹائمز‘ کے بین...
February 03, 2018
بچہ انتظار نہیں کرسکتا

سب سے پہلی بار چین میں نے1982میں دیکھا ۔ ایک صحافی کی حیثیت سے ایک اعلیٰ سرکاری وفد کے ہمراہ کئی شہروں میں جانے کا موقع ملا۔ 1982کو اب کتنا زمانہ گزر گیا۔دنیا بدل گئی اور دنیا اتنی نہیں بدلی جتنا چین خود بدل گیا۔ مانی ہوئی بات ہے کہ تاریخ میں کسی بھی ملک نے اتنے کم عرصہ میں اتنی معاشی ترقی نہیں کی جتنی چین نے کی ہے۔ آج کے دور میں چین ایک...
January 27, 2018
ان کولڈ بلڈ

ہر داغ کے پیچھے ہویا نہ ہو ہر جرم کے پیچھے ایک کہانی ضرور ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ کہانی اکثر ان کہی رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ایسے اچھے اور سچے کہانی کار میسر نہیں ہیں کہ جو کرداروں کی ذاتی، نفسیاتی الجھنوں اور لغزشوں سے ماحول کے تعلق کو سمجھ سکیں۔ یوں بھی ہمیں واقعات اور حادثات کا تجزیہ کرنے کی مہلت نہیں ملتی ۔...
January 20, 2018
وحشتوں اور لعنتوں کے درمیان

میں نے کبھی کہیں ان تین بڑے گناہوں کا ذکر پڑھا تھا جن کا حوالہ شاید بدھ مت تھا اور جس طرح تمام چھوٹے بڑے گناہوں کی عملداری اس دنیا میں قائم ہے، کہیں کم اور کہیں زیادہ، اسی طرح یہ تین گناہ بھی کثرت استعمال سے کمزور نہیں بلکہ توانا ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے معاشرے میں۔ تو پھر وہ تین بڑے گناہ ہیں کونسے؟ سنئے۔ وہ ہیں لالچ، غصہ اور...
January 13, 2018
ملالہ کی سازش

بل گیٹس کے نام سے آپ کو واقف ہونا چاہئے ۔ برسوں انہیں دنیا کا سب سے دولتمند شخص مانا جاتا رہا۔ اب اس فہرست میں چند تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ لیکن میری نظر میں ان کا کمال دولت کمانا اتنا نہیں ہے جتنا اس دولت کا استعمال ہے۔ انہوں نے اپنے اور اپنی بیوی میلنڈا کے نام سے ایک فائونڈیشن قائم کی ہے جس میں اپنی تقریباً ساری دولت کو وقف کر دیا ہے۔ یہ...
January 06, 2018
ستارے گردش میں ہیں

یہ کتنا عجیب اتفاق تھا کہ نئے سال کے پہلے دن کی صبح میں مٹھی میں تھا ۔ بازار کی چند کتابوں کی دکانوں میں ’ مفید عالم جنتری‘ کوخاص طور پر آویزاں کیاگیا تھا ۔ میں نے فوراً ایک کاپی خریدلی۔ اس لئے نہیں کہ مجھے2018کے بارے میں پیش گوئیاں جاننے کی خواہش تھی ۔ دراصل اس مفید عالم جنتری، کی ایک کہانی ہے۔ سالوں پہلے جب ایک بار میں مٹھی میں تھا...
December 30, 2017
نیا سال اور وقت کا بندھن

یہ تو دن ہی کچھ ایسے ہیں کہ دل پر گھٹا سی چھائی رہتی ہے۔ ایک سال گزر گیا۔ ایک نیا سال آپ کے سواگت کو کھڑا ہوا ہے۔ وقت سے ہم سب کا ایک اپنا ہی رشتہ ہوتا ہے۔ کبھی صبح کرنا شام کا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ کبھی دن پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں۔ زندگی دکھ اور سکھ کی دھوپ چھائوں میں گزرتی چلی جاتی ہے۔ یہ سارا عمل ایک ایسی پہیلی ہے کہ جسے پوچھنے کی...
December 16, 2017
ایک دن، دو خنجر

یہ تو دن ہی کچھ ایسے ہیں۔ماحول اورموسم کی اداسی دل پر ایک گھٹا کی طرح چھائی ہے۔اور ستم یہ کہ کالم 16 دسمبر کے دن شائع ہورہاہے۔یہ ایک ایسی تاریخ ہے جسے یاد رکھنے اور بھلانے کی کشمکش میں ہم اس سے کوئی معنی خیز رشتہ بھی استوار نہیں کرپائے ہیں۔اور غضب کی بات یہ ہوئی کہ اس تاریخ کا خنجر دوبار ہمارے سینے میں اتراہے۔یہ کہہ کر میں 1971 اور 2014...
November 25, 2017
ریاست کا سر جھکا ہوا ہے

فیض آباد انٹر چینج کے کشادہ اسٹیج پر پیش کی جانے والی جس تمثیل کو ہم دیکھتے رہے ہیں اس پر بے لاگ تبصرہ ممکن ہی نہیں۔ ہم جس ماحول میں رہ رہے ہیں اس میں بہت سی باتیں کہی نہیں جا سکتیں۔ ایسے معاملات پر جب بات ہو تو میرا عذریہ ہوتا ہے کہ میں تو میثاق خاموشی پر دستخط کر چکا ہوں۔ ہاں، جو بات کسی اور نے کہی ہو اور جسے میڈیا نے قبول کیا ہو اس...
November 18, 2017
یہ کراچی میں کیا ہو رہا ہے

اس کالم کا عنوان آپ سے کیا کہہ رہا ہے؟ اگر آپ عوام میڈیا کا نشہ کرتے ہیں تو آپ کا اندازہ یہ ہوگا کہ میں کراچی کے سیاسی دنگل کی بات کروں گا۔ اس شہر کی ملکیت پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کسی جائیداد کے بٹوارے کا معاملہ ہے۔ کس کو کیا ملے گا اس کا فیصلہ شاید ان قوتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جنہیں ہم اسٹیبلشمنٹ کا...
November 11, 2017
دولت کی آلودہ دھند

میں نے ایک مقولہ کہیں پڑھا تھا جس کے خیال کو مستعار لے کر میں کہتا ہوں کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں دولت حاصل کرنا شاید اتنا دشوار نہیں کہ جتنا روزی کمانا۔ میں نے دولت کمانا نہیں کہا کیونکہ اس کا باقاعدہ حساب ہونا چاہئے کہ آمدنی کے قانونی ذرائع کیا تھے۔ کس نے کیا کمال کیا کہ اس کی جھولی بھر گئی۔ مہذب ملکوں کے ارب پتی یہ بتا...
November 04, 2017
زباں پہ مہر لگی ہے

ضیاء الحق کے زمانے اور سنسر شپ کے دنوں میں اگر کوئی مجھ سے یہ پوچھتا کہ بتائیں، ملک میں کیا ہورہا ہے تو میرا ایک جواب یہ ہوتا تھا کہ مجھے کیا معلوم، میں تو ایک اخبار میں کام کرتا ہوں۔ تب آپ یاد کریں، ٹیلی وژن اور ریڈیو پر سرکار کا قبضہ تھا اور اسمارٹ فون یا سوشل میڈیا کے جادو کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ اب...
October 21, 2017
درباں کاعصایا مصنف کاقلم؟

بات کہاں سے شروع ہوئی تھی آپ کو یاد ہونا چاہئے۔ 11اکتوبرکوفوج کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ نے کراچی میں معیشت اورسلامتی کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کیا۔ظاہرہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی تقریرتھی بلکہ سیمینار کاکلیدی خطبہ تھا۔جوسرخیاں لگیں ان کی گونج اب بھی سنی جاسکتی ہے۔بنیادی نکتہ یہ تھاکہ آج کی دنیا میں سلامتی اورمعیشت ایک...