آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)
چوہدری شرفو، بابا جی رحمتاں والا اور شریفو کے علاوہ بھی گائوں میں کچھ قابلِ ذکر کردار تھے۔ ایک سردار زمیناں والا تھا، وہ خود کو بڑا زیرک اور چالاک سمجھتا تھا۔ اور کیوں نہ سمجھتا، یہ اسی کا کمال تھا کہ وہ گائوں کے غریبوں کی غربت کا سب سے بڑا چیمپئن تھا لیکن درحقیقت اس نے دس دس کوس تک کے دیہات میں زمینیں خرید رکھی تھیں۔ ایک طرف بابا رجو اور بابا فرتا کی جوڑی اسکی قربت کا دم بھرتی تھی، جنہیں لوگ دانا اور درد مند بابوں میں شمار کرتے تھے تو دوسری طرف گائوں کے ٹھگ، لفنگے اور غنڈے بھی اس سے دادِ تحسین سمیٹتے تھے۔ گائوں کی سادہ زندگی میں سادگی کا مزید رنگ بھرنے کیلئے ایک سادہ بابو اصولاں والا تیار کیا گیا تھا۔ وہ اتنا سادہ تھا کہ وہ جس محفل میں بیٹھتا اُسی کا ہو جاتا۔ گائوں کے دین دار لوگ اسے دیندار، آوارہ لوگ اسے آوارہ، پڑھے لکھے لوگ اُسے پڑھا لکھا اور جاہل لوگ اسے اپنے جیسا جاہل سمجھتے تھے۔ شریفو تو اس کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا لیکن اس سے پہلے جو بھی سر اٹھاتا تھا، اسکے خلاف چوہدری شرفو ان سارے کرداروں کو تاش کے پتوں کی طرح استعمال کرتا تھا۔ چوہدری شرفو حسبِ حال کبھی برج، کبھی رنگ، کبھی رمی کبھی سویپ اور کبھی کڑونج کا کھیل سجا لیتا اور کسی بابے کو پان، کسی سردار کو اینٹ، کسی چوہدری کو

چڑیا اور کسی بابو کو حکم کا اوتار چڑھا دیتا اور پھرٹھا ٹھا پتے پھینکے جانے لگتے۔ یہ نہلا، وہ تکا، یہ پنجہ، وہ جوکر، یہ ملکہ ۔۔۔۔۔۔ اور جب کھیل اپنے عروج پر پہنچ جاتا تو پھر چوہدری شرفو اپنا آخری بابا سامنے لاتا۔۔۔۔۔ یعنی بابا یکا اور گائوں کے سارے جواری منہ میں انگلیاں دے لیتے، چوہدری شرفو ایک دفعہ پھر میدان مار چُکا ہوتا۔ جب گائوں کے سارے سردار، بابے اور بابو، چوہدری شرفو کے ہاتھوں تاش کے پتوں کی طرح استعمال ہو چکتے، اور وہ ایک اور میدان مار چکا ہوتا تو مغل فوج گائوں کے لوگوں سے انکے خون پسینے کا خراج اپنے کوٹے کی شکل میں وصول کر چکی ہوتی۔
شریفو گائوں کا چوہدری ضرور تھا لیکن اسکے پاس نہ کوئی ڈنڈا تھا، نہ فوج اور نہ ہی کوئی منصب بچا تھا لیکن وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ گائوں کے لوگ شریفو کی بے بسی میں اپنی بے بسی کا عکس تلاش کرتے اور شریفو کی بغاوت میں اپنے اندر دبی بغاوت کا حظ اٹھانے کی غیر شعوری کوشش کرتے، غرض شریفو کا بیانیہ گائوں کے لوگوں میں گھر کرنے لگا۔ شریفو گائوں کے لوگوں کا ہیرو بننے لگا۔ یہ صورتحال چوہدری شرفو کو مزید سیخ پا کر دیتی۔ چوہدری شرفو گائوں کی تمام تر طاقت اور وسائل پر قبضہ رکھنے کے باوجود خود کو بہت کمزور محسوس کرنے لگا۔ اسے گائوں کے لوگوں کی جھکی نظروں سے طنز کے نشترنکلتے محسوس ہوتے۔ اسے لگتا کہ اسکے بوٹوں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے، اسے گائوں کے سارے لوگ پیٹھ پیچھے خود پر ہنستے دکھائی دیتے۔ چوہدری شرفو کیلئے یہ بڑی کربناک کیفیت تھی۔ وہ پہلے کئی دفعہ اسطرح کی صورتحال دیکھ چکا تھا۔ اُسے خوف رہتا تھا کہ گائوں کے لوگوں کا لاوا ایک دن پھٹ جائے گا اور پھر نہ صرف گائوں کے لڑکے بالے اس پر آوازیں کسا کریں گے بلکہ بوڑھی عورتیں بھی اسکو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیا کریں گی۔ اسکی منصب داری خطرے میں تھی۔ منصب داری چھن جانے کا خیال اسے خوابوں میں ڈراتا تھا۔ چوہدری شرفو توازن کھو رہا تھا۔
شرفو اور شریفو کی لڑائی جب آخری مرحلے میں داخل ہو گئی تو لوگ سانس روک کر دیکھنے لگے۔ سیانے بابے جو اب تک شرفو کی ناک کا بال بننے کیلئے مرے جا رہے تھے، کشمکش کا شکار ہونے لگے۔ شرفو۔۔۔ شریفو۔۔۔ شرفو۔۔۔۔ شریفو۔۔۔ شرفو۔۔۔ شریفو، بابوں پر یہ وقت بہت بھاری تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ سیانے بابے کبھی طوطا فال والوں کے پاس جاتے، کبھی کسی پیریا پیرنی کا آستانہ پکڑ لیتے، کبھی رمل اور نجوم والے بابوں پر دولت لٹاتے اور کبھی قیافہ شناسوں کے ہاتھ گرم کرتے۔ کچھ بابے جنہیں چوہدری شرفو بابا یکا کے طور پر استعمال کر چکا تھا، بہت پریشان تھے۔ شریفو کی جیت انکی ہار بن چکی تھی۔ خیر کی کوئی امید نظر نہ آتی تھی جبکہ گائوں کا ہر بابا خیر مانگ رہا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ حالات نے پلٹا کھایا۔ شرفو کو احساس ہو گیا کہ وہ ایک ایسی جنگ چھیڑ چکا ہے جسے وہ جیت نہیں سکتا، جبکہ شریفو کو احساس ہو گیا کہ وہ اصلی اور "وڈا" چوہدری بنتے بنتے اپنا سب کچھ دائو پر لگا چکا ہے۔ اسکی جوانی والا شریفو انگڑائی لے رہا تھا۔ شرفو پر اسکا غصہ کچھ کم ہوا تو اُسے یاد آیا کہ اس لڑائی کے دوران بابوں نے اسکے ساتھ کیا ہاتھ کیا ہے۔ بالآخر اس نے چوہدری شرفو کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا، چوہدری پہلے ہی انتظار میں بیٹھا تھا، جھٹ اُسے گلے لگا لیا۔ دونوں میں صلح ہو گئی۔ شرفو کی منصب داری بچ گئی اور شریفو کی چوہدراہٹ۔ معاملات طے ہو گئے۔ بابا جی رحمتاں والا کی پنچایتی بچ گئی اور وہ مرضی کے فیصلوں میں لگ گیا، سردار زمیناں والا غریبی کا چورن بیچتا اور نئی زمینیں خریدنے لگا، سادہ بابو اصولاں والا روحانیت کی دنیا کا مسافر بن گیا اور اسکا زیادہ وقت دم درود میں گزرنے لگا۔ گائوں کے لوگوں نے کپڑے جھاڑے اور بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے اپنے کاموں میں مگن ہو گئے۔ راوی چین لکھنے لگا۔ اور اس دوران مغل فوج کا کوٹہ بغیر کسی تعطل کے پورا ہوتا رہا۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں