آپ آف لائن ہیں
پیر 03 شوال المکرم 1439ھ 18؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


وہ 70کا دور تھااور پروین بابی اس دور کی سب سے مشہور اداکارہ تھیں۔’امر اکبر انتھونی‘،’شان‘ اور’ دواور دو پانچ‘ جیسی کئی کامیاب فلمیں دے چکی تھیں۔ پروین اپنے کیرئیر کی کامیابیوں کو چھورہی تھیں کہ تب ہی پروین کی مہیش بھٹ سے ملاقات ہوئی۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش داستان
پروین بابی اپنی پہلی محبت کبیر بیدی کے ساتھ

مہیش بھٹ یوں تو شادی شدہ تھے لیکن پروین کے آگے وہ مجبور ہوگئےاور ان سے محبت کر بیٹھے۔یہ ہ وقت تھاجب پروین کچھ ہی وقت پہلے کبیر بیدی سے الگ ہوئی تھیں اور وہ اپنے ٹوٹے دل کے حصے سمیٹ رہی تھیں۔

مہیش کے روپ میں پروین کو ایک اچھا دوست ملا۔ 1977ء میں ان دونوں کا پیار پروان چڑھا جب پروین’ امر اکبر انتھونی‘ اور’ کالا پتھر‘ کی شوٹنگ کر رہی تھیں ۔

کافی عرصے بعد مہیش نےایک انٹرویو میں اپنے اور پروین کے رشتے کے بارے میں کئی وضاحتیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پروین سے 1970ء میں ملا اور ہم دونوں کی زندگی اس وقت کافی عجیب دور سے گزر رہی تھی۔پروین کا کبیر بیدی سے بریک اپ ہوا تھا اور وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھیں۔ پروین کی ذہانت اور ان کی مسکراہٹ مجھے کافی پسند آئی تھیں وہ بہت پڑھی لکھی اور ذہین عورت تھیں۔ہمارا رشتہ1977 سے 1980ء تک چلااور وہ میرے زندگی کے حسین دن تھے ہم ان دنوں کافی قریب آگئے تھے۔پروین اپنی زندگی ہمیشہ اپنی شرطوں میں جینے والوں میں سے تھی اور انہیں اس کا کبھی افسوس نہیں ہوا۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش داستان
پروین بابی اور مہیش بھٹ

بھٹ صاحب اور پروین بابی کے پیار کو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھاکہ ایک دن مہیش بھٹ جب پروین بابی سے ملنے گئے تو ان کو اندھیرے کمرے میں چاقو پکڑے دیکھا تو گھبراگئے اس دن مہیش بھٹ کو معلوم ہوا کہ پروین کو دماغی بیماری ہے جو پروین کو ان کے والد سےوراثت میں ملی ہے۔

ان کی یہ بیماری روز بروز خراب ہورہی تھی وہ کبھی عبادت کرنے لگتیں جو انہوںنے کبھی نہیں کی تھی تو کبھی خود کو نقصان پہنچانے لگتیں۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش داستان

مہیش بھٹ نے اپنی طرف سے پروین کو ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کی ،انہیں علاج کے لیے بیرون ممالک بھی لے کر گئے لیکن پروین کی بیماری دن بہ دن خطرناک ہوتی چلی جارہی تھی۔

اسی دوران مہیش بھٹ نے فلم ’’ارتھ‘‘ لکھنےکی شروعات کی جو ان کی زندگی سے متاثر تھی۔اسی دوران مہیش بھٹ کے ایک قریبی دوست نے مہیش کو پروین سے دور رہنے کا مشورہ دیاکیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پروین اب ٹھیک نہیں ہوسکتی ۔

اس بات کا اس وقت تو مہیش نے کچھ نہیں جواب دیا لیکن جب اس بات کا پتا لگنے پر پروین نے مہیش سے پوچھا کہ اگر تمہیں مجھ میں اور تمھارے دوست میں کسی کو چنناپڑے تو تم کس کو کروگے تو اس بات پر مہیش بھٹ آدھی رات کو ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اسی دن ان کی ذندگی کی راہیں الگ الگ ہوگئی۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش داستان

یہ ادھورا اور پیار بھرا رشتہ چاہے اپنے مقام پر نہ پہنچ پایا ہو لیکن اس نے مہیش بھٹ کو وہاں پہنچا یا جہاں وہ ہیں۔فلم ’’ارتھ‘‘ سے انہیں اپنے کیرئیر کی پہلی کامیاب فلم ملی ۔

بریک اپ کے بعد پروین بابی نے خود کو دنیا سے الگ کرلیا تھا ،وہ لوگوں سے ملنا چھوڑ چکی تھیں اور خود کو گھر میں قید کرلیا تھا اور پھر 2005 ءمیں ان کی لاش ان کے گھر سے ملی۔ میڈیکل رپورٹس کا کہنا تھا کہ پروین بابی نے خود کو کئی دنوں سے بھوکا رکھا ہوا تھا ۔

پروین بابی اور مہیش بھٹ کی ناقابل فراموش داستان

پروین بابی اتنی اکیلی تھیں کہ ان کی باڈی کو دفنانے والا بھی کوئی نہیں تھا لیکن پھر مہیش بھٹ نے انہیںسپرد خاک اور دل پر پتھر رکھ کر انہیں الوداع کیا۔

مہیش بھٹ اور پروین بابی جدا تو ہوگئے لیکن مہیش پروین کے جانے کے بعد بھی ان کو بھول نہ پائے ،ایک انٹرویو میں مہیش کا کہنا تھا کہ پروین مجھ سے جب ملی جب میرے پاس کچھ نہ تھا وہ پھر بھی مجھ سے محبت کرتی تھی ،پروین نے مجھے مکمل کیا تھا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

انٹرٹینمنٹ سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید